کیا PTI کے آخری قلعے میں ایمرجنسی لگنے والی ہے؟

 

 

 

 

خیبر پختونخوا میں گزشتہ 13 برس سے حکمران تحریک انصاف بالآخر اپنی آخری پناہ گاہ بھی کھوتی ہوئی نظر آتی ہے، کیونکہ وفاق اور صوبائی حکومت کے درمیان جاری کشیدگی کے نتیجے میں آئین کے آرٹیکل 232 کے تحت خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی نافذ کرنے کی آپشن پر غور کیا جا رہا ہے۔

 

یاد رہے کہ تحریک انصاف 2013 سے خیبر پختونخوا میں حکومت کررہی ہے، تاہم اب عمران خان کا یہ اہم سیاسی مرکز بھی شدید سیاسی دباؤ کی زد میں ہے اور صوبے میں ایمرجنسی، گورنر راج، وزیراعلیٰ کی تبدیلی اور اسمبلی کے اندر سیاسی تبدیلی سمیت مختلف آئینی و سیاسی امکانات زیر بحث ہیں۔

تحریک انصاف کی احتجاجی سیاست اور وفاق کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث خیبر پختونخوا کی حکومت اور مرکز کے درمیان اختلافات اب محض سیاسی بیانات تک محدود نہیں رہے۔

 

وفاقی سطح پر امن و امان کی صورتحال، دہشتگردی میں اضافے اور صوبائی حکومت کی ترجیحات پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں، جبکہ پی ٹی آئی کی جانب سے اسے سیاسی دباؤ قرار دیا جا رہا ہے۔ حالیہ دنوں میں صوبے کے گورنر فیصل کریم کنڈی نے بھی گورنر راج کے امکان پر مشاورت کا ذکر کیا، جبکہ وفاقی حکومت کی جانب سے اب ایمرجنسی کے آئینی راستے پر غور کی بات بھی سامنے آئی ہے۔

باخبر سیاسی حلقوں کے مطابق خیبر پختونخوا میں امن و امان کی صورتحال اور بڑھتی ہوئی دہشتگردی کے پیش نظر وفاق کے زیر غور ایک راستہ آئین کے آرٹیکل 232 کے تحت ایمرجنسی کا نفاذ ہے۔

 

دوسری جانب آرٹیکل 234 صوبے میں آئینی مشینری ناکام ہونے کی صورت میں گورنر راج کے لیے مخصوص طریقۂ کار فراہم کرتا ہے۔ اس کے تحت صدر مخصوص آئینی حالات میں صوبائی حکومت کے تمام یا بعض اختیارات لے سکتے ہیں یا گورنر کو ان کے استعمال کی ہدایت دے سکتے ہیں، تاہم اس اقدام کو پارلیمانی منظوری کے آئینی عمل سے گزرنا ہوتا ہے۔ یوں گورنر راج محض وفاقی حکومت کے انتظامی حکم سے نافذ ہونے والا اقدام نہیں بلکہ ایک باقاعدہ آئینی طریقۂ کار ہے۔

گورنر راج کی بحث کو اس وقت مزید تقویت ملی جب گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے 25 ستمبر کو کہا کہ اس امکان پر مشاورت ہوئی ہے اور آئین میں اس کا طریقۂ کار موجود ہے۔

 

دوسری جانب وفاقی وزیر برائے امور کشمیر و گلگت بلتستان امیر مقام نے 28 ستمبر کو دعویٰ کیا کہ صوبے میں گورنر راج کے لیے تمام قانونی تقاضے پورے ہوچکے ہیں اور کسی بھی وقت بڑا سیاسی فیصلہ ہوسکتا ہے۔ وفاقی حکومت کے مؤقف میں امن و امان کی بگڑتی صورتحال اور وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے اقدامات کو اس بحث کی بنیاد قرار دیا جا رہا ہے، تاہم حتمی آئینی اقدام کے بارے میں ابھی کوئی فیصلہ باضابطہ طور پر سامنے نہیں آیا۔

 

اس صورتحال میں وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے بھی واضح کیا ہے کہ گورنر راج یا ایمرجنسی کی دھمکیوں سے وہ اپنے مؤقف سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ پشاور میں ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا کے عوام، پولیس اور فوج نے امن کے قیام کے لیے بے شمار قربانیاں دی ہیں اور 80 ہزار سے زائد افراد پاکستان کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرچکے ہیں۔ انہوں نے موجودہ سیکیورٹی پالیسی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ دو دہائیوں کی قربانیوں سے حاصل ہونے والا امن دوبارہ بدامنی کی نذر کیا جا رہا ہے اور صوبے کے عوام، فوجی جوان، پولیس اہلکار، بچے، خواتین، بزرگ اور عام شہری دہشتگردی کا نشانہ بن رہے ہیں۔

 

وزیراعلیٰ آفریدی کی جانب سے اسٹیبلشمنٹ اور وفاقی پالیسیوں پر مسلسل سخت تنقید کے ساتھ ساتھ عمران خان کے علاج اور رہائی کا مطالبہ بھی ان کی سیاسی مہم کا اہم حصہ رہا ہے۔ حالیہ دنوں میں انہوں نے عمران خان سے ملاقات، ان کے علاج کے لیے شفا اسپتال منتقلی اور رہائی کے مطالبات کو بھی تحریک انصاف کے احتجاجی ایجنڈے سے جوڑا ہے۔

دوسری جانب وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے خلاف سیاسی تبدیلی کا ایک آئینی راستہ صوبائی اسمبلی میں تحریک عدم اعتماد بھی ہوسکتا ہے۔ آئین کے آرٹیکل 136 کے تحت صوبائی اسمبلی کے ارکان وزیراعلیٰ کے خلاف عدم اعتماد کی قرارداد پیش کرسکتے ہیں اور اگر قرارداد ایوان کی مجموعی رکنیت کی اکثریت سے منظور ہوجائے تو وزیراعلیٰ عہدے پر برقرار نہیں رہ سکتے۔ ادھر سابق وزیراعلی علی امین گنڈاپور نے بھی یہ بیان داغ دیا ہے کہ اگر انہیں دوبارہ وزارت اعلی سونپی جائے تو وہ انکار نہیں کریں گے۔ چنانچہ موجودہ صورتحال میں بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا سہیل آفریدی کے خلاف ایسی کارروائی کے لیے مطلوبہ عددی حمایت اسمبلی میں موجود ہے یا نہیں۔

 

حالیہ دنوں میں ایسی اطلاعات ضرور سامنے آئی ہیں کہ بعض ارکان وزیراعلیٰ کی پالیسیوں سے اختلاف رکھتے ہیں، تاہم ان دعوؤں کی سیاسی جماعت کی مرکزی قیادت کی جانب سے تردید بھی کی گئی ہے، اس لیے کسی ممکنہ عدم اعتماد کو اس وقت حتمی سیاسی فیصلہ قرار دینا قبل از وقت ہوگا۔ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے خلاف زیر سماعت مقدمات اور گرفتاری کے وارنٹ بھی سیاسی بحث کا حصہ بنے ہوئے ہیں، تاہم قانونی طور پر کسی مقدمے میں نامزدگی یا گرفتاری کا وارنٹ بذات خود جرم ثابت ہونے یا آئینی نااہلی کا حتمی فیصلہ نہیں ہوتا۔ وزیراعلیٰ کی نااہلی کا تعین متعلقہ قانون، جرم کی نوعیت، عدالتی فیصلے اور آئینی شرائط کے مطابق ہوگا۔ اسی طرح عمران خان کی ممکنہ رہائی یا انہیں علاج کے لیے منتقل کیے جانے کے حوالے سے بھی سیاسی سطح پر مختلف دعوے اور قیاس آرائیاں جاری ہیں، مگر کسی ممکنہ رہائی کو حتمی فیصلہ قرار دینے کے لیے باضابطہ عدالتی یا حکومتی اعلان درکار ہوگا۔ حالیہ رپورٹس میں سہیل آفریدی نے عمران خان کی رہائی اور طبی علاج کو اپنی سیاسی جدوجہد کا حصہ قرار دیا ہے۔

4اکتوبر احتجاج، کیا PTI عوام کو سڑکوں پر لا پائے گی؟

یوں خیبر پختونخوا میں موجودہ صورتحال ایک ایسے مرحلے میں داخل ہوچکی ہے جہاں وفاق کے پاس ایمرجنسی یا گورنر راج جیسے آئینی راستوں پر غور کی بات سامنے آرہی ہے، جبکہ صوبائی حکومت اسے سیاسی دباؤ کے تناظر میں دیکھ رہی ہے اور وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے پیچھے ہٹنے سے انکار کردیا ہے۔ اگر وفاق کسی آئینی اقدام کی طرف بڑھتا ہے تو اس کے خلاف عدالتی راستہ بھی موجود ہوگا اور معاملہ متعلقہ عدالتوں کے سامنے جا سکتا ہے۔ دوسری طرف سیاسی مذاکرات، اسمبلی کے اندر عددی تبدیلی یا وزیراعلیٰ کی تبدیلی بھی ممکنہ راستے ہیں۔ اس لیے اس مرحلے پر اصل سوال یہ نہیں کہ خیبر پختونخوا میں کون سا اقدام لازماً ہوگا، بلکہ یہ ہے کہ وفاق اور صوبے کے درمیان جاری کشیدگی آئینی و سیاسی مذاکرات سے کم ہوتی ہے یا پھر صوبائی حکومت کے مستقبل کے بارے میں کوئی باقاعدہ آئینی قدم اٹھایا جاتا ہے۔

 

Back to top button