آئی ایس آئی میں اہم ترین عہدوں پر تقرریاں اور تبادلے

انٹر سروسز انٹیلیجنس میں حالیہ دنوں میں چند اہم ترین تقرریاں اور تبادلے ہوئے ہیں۔ تفصیلات کے مطابق آئی ایس آئی کے ڈی جی (C) میجر جنرل فیصل نصیر کو نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم اتھارٹی یعنی نیکٹا کے نیشنل کوآرڈینیٹر کا عہدہ تفویض کیا گیا ہے۔ میجر جنرل محمد شمریز خان تنولی کی آئی ایس آئی کے سپیشل آپریشنز ڈائریکٹوریٹ کے ڈائریکٹر جنرل کے طور پر تقرری کی گئی ہے۔ میجر جنرل عادل وڑائچ کو ملٹری انٹیلی جنس کا سربراہ مقرر کیا گیا ہے اور میجر جنرل ساجد امین اعوان کو آئی ایس آئی کے ڈی جی زیڈ کے طور پر ذمہ داریاں دی گئی ہیں۔
میجر جنرل فیصل نصیر کے بطور ڈی جی سی آئی ایس آئی ٹرانسفر ہو جانے کے بعد اب یہ اطلاعات ہیں کہ سابق ڈی جی رینجرز پنجاب میجر جنرل محمد عاطف بن اکرم کا انکی جگہ تقرر کیا جا رہا ہے۔ میجر جنرل فیصل نصیر کی بطور نیکٹا سربراہ تقرری تین سال کے لیے کی گئی ہے۔
میجر جنرل محمد شمریز خان تنولی کو آئی ایس آئی کے سپیشل آپریشنز ڈائریکٹوریٹ کا ڈائریکٹر جنرل مقرر کیا گیا ہے۔ وہ اس سے قبل پاکستان رینجرز سندھ کے ڈائریکٹر جنرل کے طور پر خدمات انجام دے چکے ہیں۔ وہ پاکستان ملٹری اکیڈمی کے 90ویں لانگ کورس سے فارغ التحصیل ہیں اور 40 فیلڈ رجمنٹ سے وابستہ رہے ہیں۔
میجر جنرل شمریز خان تنولی کو 2023 میں میجر جنرل کے عہدے پر ترقی دی گئی، جس کے بعد انہوں نے 17 انفنٹری ڈویژن کھاریاں کی کمان سنبھالی۔ بعد ازاں انہیں پاکستان رینجرز سندھ کی ذمہ داری سونپی گئی۔
رینجرز سندھ میں ان کی ذمہ داریوں میں قانون و امن، انٹیلی جنس اور انسدادِ دہشت گردی سے متعلق امور شامل رہے۔ اب انہیں آئی ایس آئی کے سپیشل آپریشنز ڈائریکٹوریٹ کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔
آئی ایس آئی کے سپیشل آپریشنز ڈائریکٹوریٹ میں مخصوص نوعیت کے انٹیلی جنس اور آپریشنل امور دیکھے جاتے ہیں۔ اس شعبے سے متعلق ذمہ داریوں میں آپریشنل منصوبہ بندی، انٹیلی جنس معلومات کا تجزیہ، رازداری اور مختلف اداروں کے درمیان رابطہ شامل ہوتا ہے۔
حالیہ تقرریوں میں میجر جنرل عادل وڑائچ کو ملٹری انٹیلی جنس کے سربراہ کی ذمہ داری دی گئی ہے۔ یاد رہے کہ ملٹری انٹیلیجنس کے سربراہ آرمی چیف یعنی موجودہ فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کو رپورٹ کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ میجر جنرل ساجد امین اعوان کو آئی ایس آئی کے ڈی جی زیڈ کی ذمہ داری سونپے جانے کی اطلاعات ہیں۔
ان تبدیلیوں کے نتیجے میں عسکری اور انٹیلی جنس اداروں کے مختلف اہم شعبوں میں اعلیٰ سطحی ذمہ داریاں تبدیل ہوئی ہیں۔ انٹیلی جنس اداروں کی ذمہ داریوں میں داخلی سلامتی، دہشت گردی سے متعلق خطرات، سرحدی صورتحال، سائبر سکیورٹی اور بیرونی سکیورٹی چیلنجز سے متعلق امور شامل ہیں۔
میجر جنرل فیصل نصیر کی نیکٹا منتقلی کے بعد آئی ایس آئی کے ڈی جی (C) کے عہدے پر نئی تقرری کا معاملہ بھی اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ اس عہدے پر نئی تعیناتی کے بارے میں تاحال کوئی باضابطہ اطلاع سامنے نہیں آئی لیکن شنید یہی ہے کہ اس عہدے پر ڈی جی رینجرز لاہور میجر جنرل محمد عاطف بن اکرم کو تعینات کرنے کا اصولی فیصلہ ہو چکا ہے۔
یاد رہے کہ پاکستان کو مغربی سرحد پر دہشت گردی، مشرقی سرحد پر سکیورٹی ایشوز اور خطے میں بدلتی ہوئی صورتحال سمیت سنگین چیلنجز کا سامنا ہے۔ ان حالات میں انٹیلی جنس اداروں کی جانب سے معلومات کے حصول، تجزیے اور متعلقہ اداروں تک بروقت رسائی اہم امور میں شامل ہیں۔
