وفاق کا IG KP کے اختیارات واپس چھیننے کا فیصلہ

وفاقی حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ کی جانب سے صوبے کے آئی جی پولیس کے اختیارات محدود کرنے کے فیصلے کو ریورس کروایا جائے گا، اس مقصد کے لیے ضرورت پڑنے پر آئینی عدالت کا دروازہ کھٹکھٹانے کے ساتھ پارلیمانی اور آئینی راستے بھی اختیار کیے جا سکتے ہیں۔
وفاقی حکومت کا بنیادی اعتراض یہ ہے کہ پولیس کے کمانڈ اینڈ کنٹرول ڈھانچے میں ایسی تبدیلیاں کی جا رہی ہیں جن سے انسپکٹر جنرل کے انتظامی، مالی اور آپریشنل اختیارات صوبائی حکومت کے تابع ہو جائیں گے۔ وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے بھی واضح کیا ہے کہ اگر صوبائی اسمبلی سے قانون منظور ہوا تو وفاق اسے عدالت میں چیلنج کرنے سمیت دستیاب قانونی راستے اختیار کرے گا۔ یاد رہے کہ خیبر پختون خوا کابینہ نے 23 ستمبر کو وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی زیرصدارت اجلاس میں پولیس ایکٹ 2026 کے مجوزہ قانون کی منظوری دی تھی، جس کا مقصد 2017 کے پولیس ایکٹ کو تبدیل کرنا ہے۔ مجوزہ قانون میں پولیس کے پالیسی، انتظامی، آپریشنل اور مالی معاملات میں صوبائی حکومت کے کردار کو بڑھانے کی تجاویز شامل ہیں جبکہ آئی جی پولیس کے اختیارات اور صوبائی حکومت کے درمیان موجودہ انتظامی توازن میں بھی تبدیلی تجویز کی گئی ہے۔
مجوزہ قانون کے تحت پولیس کے لیے دو الگ بورڈ قائم کرنے کی تجویز سامنے آئی ہے، جن میں پولیس پالیسی بورڈ کی سربراہی وزیراعلیٰ جبکہ پولیس آپریشنز بورڈ کی سربراہی آئی جی پولیس کریں گے۔ صوبائی حکومت کے مطابق اس تقسیم کا مقصد پالیسی اور آپریشنل امور کو الگ کرنا ہے، تاہم وفاقی حکومت کا اعتراض اس بات پر ہے کہ عملی طور پر پالیسی بورڈ کے ذریعے صوبائی حکومت کو پولیس کے انتظامی معاملات پر زیادہ اختیار حاصل ہو جائے گا۔
مسودے میں صوبائی پولیس افسر کو سالانہ پولیسنگ پلان تیار کرکے پولیس پالیسی بورڈ کے سامنے منظوری کے لیے پیش کرنے کا پابند بنانے کی تجویز بھی شامل ہے۔ اس کے علاوہ اگر آئی جی کی کارکردگی غیر تسلی بخش قرار پائے تو صوبائی حکومت کو ان کی خدمات واپس کرنے کا اختیار دینے کی شق بھی شامل کی گئی ہے۔ وفاقی حکومت کا بنیادی اعتراض اسی اختیار پر ہے کیونکہ آئی جی پولیس وفاقی پولیس سروس سے تعلق رکھنے والے افسر ہوتے ہیں اور ان کی تعیناتی و خدمات سے متعلق قواعد وفاقی سطح پر بھی لاگو ہوتے ہیں۔
پولیس افسران کی تعیناتی اور تبادلوں کے معاملے میں بھی اختیارات کی تقسیم تبدیل کرنے کی تجویز ہے۔ وفاقی حکومت کے مطابق مجوزہ قانون میں گریڈ 17 سے 19 تک کے افسران کی تقرریوں اور تبادلوں کے حوالے سے صوبائی حکومت اور وزیراعلیٰ کا کردار بڑھایا جا رہا ہے، جبکہ 2017 کے قانون کے تحت پولیس کے اندرونی انتظامی امور میں آئی جی کو زیادہ اختیارات حاصل تھے۔ اسی نکتے پر ماضی میں عدالتی تنازع بھی پیدا ہوا اور پشاور ہائی کورٹ نے آر پی اوز اور ڈی پی اوز کی تعیناتی و تبادلوں سے متعلق بعض ترامیم کو کالعدم قرار دیا تھا۔ آئی جی کی تعیناتی کے طریقہ کار میں بھی تبدیلی زیر بحث ہے۔
صوبائی حکومت کے مطابق وفاق کی جانب سے تین نام فراہم کیے جائیں گے اور صوبائی حکومت ان میں سے ایک کا انتخاب کرے گی، جبکہ وفاقی حکومت کا اعتراض یہ ہے کہ اس طریقہ کار سے پولیس کے سربراہ کے انتخاب میں صوبائی سیاسی قیادت کا کردار پہلے سے زیادہ بڑھ جائے گا۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی بھی موجودہ مسودے کو آئینی اعتراضات کی زد میں قرار دے چکے ہیں اور کہہ چکے ہیں کہ اسمبلی سے منظوری کے بعد بل ان کے پاس آیا تو وہ اس کا آئینی و قانونی جائزہ لیں گے۔
مجوزہ قانون میں تفتیشی نظام کی تنظیم نو، ریجنل انویسٹی گیشن افسران کی تعیناتی اور پولیس افسران کی ترقی، فاسٹ ٹریک پروموشن اور براہ راست بھرتیوں کے کوٹے میں تبدیلی بھی شامل ہے۔
صوبائی حکومت کے مطابق ڈی ایس پی کی سطح پر براہ راست بھرتی کا کوٹہ پانچ فیصد سے بڑھا کر 15 فیصد کیا جا رہا ہے۔ اس کے برعکس وفاقی حکومت کا کہنا ہے کہ تقرریوں اور ترقیوں کے نظام میں سیاسی اثر و رسوخ بڑھنے کا خدشہ پیدا ہوگا۔ وفاقی حکومت کا آئینی اعتراض یہ ہے کہ اگرچہ 18ویں ترمیم کے بعد پولیس اور امن و امان بنیادی طور پر صوبائی دائرہ اختیار میں آتے ہیں، تاہم صوبائی قانون سازی آئین اور وفاقی قوانین و قواعد سے متصادم نہیں ہو سکتی۔
طلال چوہدری نے واضح کیا ہے کہ صوبے پولیس سروس آف پاکستان کے قواعد کو اپنی قانون سازی کے ذریعے اوور رائیڈ نہیں کر سکتے اور اگر صوبائی قانون وفاقی آئینی دائرہ اختیار سے متصادم ہوا تو اسے عدالت میں چیلنج کیا جا سکتا ہے۔
صوبائی حکومت کا مؤقف اس کے برعکس ہے کہ پولیسنگ صوبائی معاملہ ہے اور مجوزہ قانون کا مقصد پولیس کو سیاسی طور پر کنٹرول کرنا نہیں بلکہ منتخب حکومت کے انتظامی اختیارات کو مؤثر بنانا، پولیس کی جواب دہی بڑھانا اور پالیسی و آپریشنز کے معاملات کو الگ کرنا ہے۔ صوبائی حکومت نے یہ بھی مؤقف اختیار کیا ہے کہ آئی جی سمیت اعلیٰ افسران صوبے میں تعیناتی کے بعد صوبائی حکومت کے قانونی و انتظامی احکامات پر عمل کرنے کے پابند ہیں اور قانون سازی کا مقصد اسی انتظامی خلا کو ختم کرنا ہے۔
اب اس معاملے کا اگلا مرحلہ خیبر پختونخوا اسمبلی میں مجوزہ قانون کی منظوری اور اس کے بعد گورنر کی آئینی کارروائی ہے۔ آئین کے آرٹیکل 116 کے تحت گورنر صوبائی اسمبلی سے منظور شدہ بل کو اعتراضات کے ساتھ واپس بھیج سکتے ہیں، تاہم اسمبلی دوبارہ منظور کرے تو مخصوص آئینی طریقہ کار کے تحت بل قانون بن سکتا ہے۔ اسی مرحلے پر وفاقی حکومت عدالت سے رجوع کرکے یہ مؤقف اختیار کر سکتی ہے کہ قانون کی بعض شقیں آئین یا وفاقی قوانین سے متصادم ہیں۔
یوں خیبر پختونخوا پولیس ایکٹ 2026 کا اصل تنازع پولیس اصلاحات سے زیادہ اختیارات کی آئینی تقسیم پر مرکوز ہو گیا ہے۔ ایک طرف صوبائی حکومت آئی جی، آر پی اوز اور ڈی پی اوز سمیت پولیس کے انتظامی معاملات میں منتخب حکومت کے کردار کو بڑھانے کی کوشش کر رہی ہے، جبکہ وفاقی حکومت موجودہ کمانڈ اسٹرکچر اور پولیس سروس آف پاکستان کے قواعد کو برقرار رکھنے پر زور دے رہی ہے۔
کیا PTI کے آخری قلعے میں ایمرجنسی لگنے والی ہے؟
وفاق نے واضح کر دیا ہے کہ اگر صوبائی اسمبلی سے قانون موجودہ شکل میں منظور ہوا تو اس کے نفاذ کو روکنے یا اس کی متنازع شقیں ختم کرانے کے لیے عدالتی راستہ اختیار کیا جائے گا، جبکہ ضرورت کے مطابق پارلیمانی و آئینی اقدامات بھی زیر غور رہیں گے۔
