باجوہ کی حکومت اور عمران میں ڈیڈ لاک توڑنے کی کوشش ناکام

پاکستان کی طاقتور فوجی اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے شہباز شریف حکومت اور عمران خان کے مابین ڈائیلاگ کروانے کی آخری کوشش بھی ناکام ہوگئی ہے جس کے بعد دونوں اطراف سے ایک دوسرے پر سنگین الزامات کی بارش شروع ہو چکی ہے۔
سینئر صحافی اور تجزیہ کار روئوف کلاسرا نے دعویٰ کیا ہے کہ آرمی چیف جنرل قمر باجوہ نے عمران خان کے ساتھ حکومت کا ڈیڈ لاک ختم کروانے کے لئے تحریک انصاف کے نمائندوں سے ایک ملاقات بھی کروائی جس میں اسد قیصراور پرویز خٹک شامل ہوئے تھے۔ نواز لیگ کی جانب سے مسلم لیگ (ن) کے ایاز صادق اور احسن اقبال اس میٹنگ کا حصہ تھے، فریقین کے مابین نئے آرمی چیف کی تعیناتی اور جلد الیکشن کی تاریخ پر اتفاق رائے پیدا کرنے کی کوشش کی گئی مگر نواز شریف نے جلد الیکشن کروانے سے انکار کر دیا اور موقف اختیار کیا کہ حکومت اپنی آئینی مدت پوری کرے گی۔

ایک ٹی وی پروگرام میں محمد مالک کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے روؤف کلاسرا نے کہا کہ سوال یہ ہے کہ عمران جس اعتماد کے ساتھ لانگ مارچ کر رہے ہیں اور اسلام آباد کی طرف گامزن ہیں، کیا ان کو کوئی گارنٹی دی گئی ہے؟ انکا کہنا تھا کہ کچھ لوگ تو یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ عمران خان کو اداروں کے اندر سے بھی حمایت حاصل ہے۔ روؤف نے سوال کیا کہ کیا ڈی جی آئی ایس آئی اور ڈی جی آئی ایس پی آر نے اپنی پریس کانفرنس میں جو باتیں پریس کانفرنس میں کیں کیا وہ اس طرح عوامی فورم پر بتائی جانی چاہیے تھیں؟ ان کا کہنا تھا کہ اصولی طور پر تو ایسا بلکل نہیں ہونا چاہیے تھا مگر ایسا ہو چکا ہے۔ اسٹیبلشمنٹ کے دو اہم ترین ترجمانوں کی پریس کانفرنس کے ذریعے پورے پاکستان کو ایک واضح پیغام دیا گیا ہے تا کہ کسی کو شک نہ رہے۔ یہ پریس کانفرنس کرنے کا ایک مقصد یہ بھی تھا کہ عوام کو باور کروایا جائے کہ عمران خان کابیانیہ جھوٹ پر مبنی ہے اور اب فوجی اسٹیبلشمنٹ یکطرفہ جھوٹ اور الزامات عائد کیے جانے پر خاموش نہیں رہے گی۔

اس موقع پر رؤف کلاسرا نے اینکر پرسن محمد مالک سے سوال کیا کہ کیا اسٹیبلشمنٹ توقع کر رہی تھی کہ عمران خان کا ڈی جی آئی ایس آئی کی پریس کانفرنس پر ایسا سخت ردعمل آئے گا؟ مالک نے جواب دیا کہ آرمی لیڈر شپ کو اندازہ تھا کہ جس طرح کی پریس کانفرنس وہ کر رہے ہیں اس کا ردعمل بھی سخت ہوگا، ان کا کہنا تھا کہ عمران کو پتہ ہے کہ اگر وہ لانگ مارچ میں نمبرز دکھا کر دیتے ہیں تو ٹھیک ہے ورنہ جو رویہ عمران نے اپنایا ہوا ہے وہ ان کے لئے بڑا مہنگا جوا ثابت ہو گا۔ روؤف کا کہنا تھا کہ ماضی میں یہ روایت رہی ہے کہ فوجی اسٹیبلشمنٹ جس کے ساتھ کھڑی ہوتی تھی وہی حکومت کرتا تھا، مگر اب ایسا نہیں ہے۔ محمد مالک نے کہا کہ عمران خان نے یوتھ اور ٹیکنالوجی کا بہت اچھا ستعمال کیا ہے۔ وہ 70 سال کے ہیں ہے مگر اس کے باوجود نوجوان نسل ان کو سنتی ہے۔
مالک کے مطابق ایک عام خیال یہ تھا کہ آرمی چیف کی ریٹائرمنٹ کا وقت قریب ہونے کی وجہ سے فوج کے اندر تناؤ ہے۔ یہ بات بھی ہوئی کہ کیوں کہ چیف جانے والے ہیں اس لئے وہ کمزور ہو چکے ہیں اور کور کمانڈرز ہی سب فیصلے کر رہے ہیں۔ موجودہ فوجی قیادت کی کی سوچ کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ ڈی جی آئی ایس پی آر اور ڈی جی آئی ایس آئی کی پریس کانفرنس میں عمران خان کو براہِ راست نشانہ بنایا گیا۔

لیکن دوسری جانب عمران خان اور اور ڈی جی آئی ایس آئی دونوں نے تسلیم کیا ہے کہ کہ حالیہ ہفتوں میں جنرل باجوہ اور عمران کے مابین ملاقاتیں ہوئیں۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ آرمی چیف اب بھی پورے زور میں ہیں اور فیصلہ سازی کے عمل میں برابر کے شامل ہیں۔ مالک کے مطابق ڈی جی آئی ایس آئی اور ڈی جی آئی ایس پی آر کی مشترکہ پریس کانفرنس کے ذریعے عمران خان کو یہ پیغام دینے کی کوشش کی گئی کہ اب بہت ہو چکا، ادارے کی بے عزتی اور غداری کے ٹیگ برداشت نہیں کیے جائیں گے۔مالک کا کہنا تھا کہ ماضی میں نواز شریف نے بھی اپنی حکومت کے چلے جانے کے بعد فوج پر تنقید کی مگر غداری کی کوئی بات نہیں کی اور حالات اس نہج پر نہیں گئے تھے جہاں پر اب عمران خان لے کر چلے گئے ہیں۔

عمران خان کی جانب سے آرمی لیڈر شپ بارے سخت مؤقف اہنائے جانے پر مالک کا کہنا تھا کہ عمران کو اب نظر آ گیا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کی طرف سے لکیر کھینچ دی گئی ہے۔ خان کو اندازہ ہو گیا ہے کہ اب ان کو اسٹیبلشمنٹ کی ماضی والی حمایت نہیں مل سکتی چنانچہ وہ کھل کر سامنے آ گئے ہیں۔ اس موقع پر روؤف کلاسرا نے سوال کیا کہ کیا فوجی اسٹیبلشمنٹ اپنی طاقت چھوڑنے کے لئے تیار ہے؟ محمد مالک نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ آرمی کی اپنی پالیسی ہوتی ہے۔ وہ بدل بھی سکتی ہے، جیسا کہ فواد چوہدری نے کہا کہ اگر ادارہ عوام کے خلاف جائے گا تو اس کو نقصان ہو گا۔ ان کا کہنا تھا کہ جو ہو رہا ہے اس کے دو نتائج ہوں گے۔ پہلا یہ کہ بہت سے لوگ جو عمران کے ساتھ ہیں وہ ان کے فوجی اسٹیبلشمنٹ مخالف بیانیے کے بعد سوچیں گے کہ کیا انہوں نے ابھی عمران کا ساتھ دینا ہے؟ دوسرا یہ کہ اگر کسی تیسری پارٹی نے عمران اور حکومت کے مابین ثالثی کا کردار نہ ادا کیا تو پھر پورا نظام ہی گر جائے گا۔

رؤف کلاسرا نے سوال کیا کہ کیا فوجی اسٹیبلشمنٹ ایک دم اس نتیجے پر پہنچی کہ اب اس نے کوئی سیاسی کردار ادا نہیں کرنا؟ محمد مالک نے جواب میں کہا کہ اسٹیبلشمنٹ تحریک عدم اعتماد آنے سے 6 ماہ پہلے سے سے اس پر غور و فکر کر رہی تھی اور پھر جنوری میں پروجیکٹ عمران خان لپیٹنے کا فیصلہ کیا گیا۔ اس کی تصدیق ڈی جی آئی ایس آئی نے بھی اپنی پریس کانفرنس میں کردی ہے۔ مالک نے بتایا کہ آرمی چیف سے کسی نے کہا کہ حکومت کا شکوہ ہے کہ آپ کی طرف سے انہیں کام نہیں کرنے نہیں دیا جا رہا۔ جواب میں آرمی چیف نے کہا کہ میں حلفاً کہتا ہوں کہ ہم نے صرف دو لوگوں کو کابینہ کے لیے تجویز کیا تھا۔ ایک وزارت داخلہ کے لئے اعجاز شاہ کو اور دوسرا نیشنل سکیورٹی ایڈوائیزر شپ کے لئے معید یوسف کو۔ اس کے علاوہ ہماری طرف سے کوئی ڈکٹیشن یا تجویز نہیں دی گئی تھی۔ مالک کا کہنا تھا کہ آرمی لیڈرشپ نے اب بھی پوری کوشش کی ہے کہ حکومت اور عمران کے معاملات طے پا جائیں کیونکہ اگر موجودہ ڈیڈ لاک ختم نہ ہوا تو پورا نظام گر جائے گا اور اس کا سب سے زیادہ نقصان عمران خان کو ہوگا۔

Back to top button