بحران سے نکلنے کا فارمولہ سینئر موسٹ جرنیل کا انتخاب

معروف صحافی اور تجزیہ کار امتیاز عالم نے کہا ہے کہ پاکستان کو موجودہ بحرانی کیفیت سے نکالنے کے لیے ضروری ہے کہ نئے آرمی چیف کا تقرر فوری طور پر کر دیا جائے خصوصاً جب جنرل قمر جاوید باجوہ بھی نومبر میں گھر جانے کا اعلان کر چکے ہیں۔ انکا کہنا ہے کہ بہتر ہو گا کہ نئے فوجی سربراہ کی تعیناتی کے لیے سینیارٹی کے اصول کو اپنا لیا جائے تاکہ مزید کوئی تنازعہ پیدا نہ ہو۔
اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں امتیاز عالم کہتے ہیں کہ عمران خان کی طلسماتی شخصیت کا بُت دہائیوں تک کرکٹ ہیرو، سماجی خدمت گار، مردانہ وجاہت، صداقت و امانت، اور استقامت و شرافت کے ہیولوں کے گرد تراشا گیا تھا، لیکن اب لگتا ہے کہ وہی عمران قومی وبالِ جان بن گیا۔ لہذاب اس کو مسمار کرنے کا سلسلہ چل نکلا ہے۔ اب نہ تو اسلامی ٹچ بچے گا، اور نہ طلسماتی پردے، سب تار تار ہونے جا رہے ہیں۔ البتہ شخصیت پرستی کا بخار اُترنے میں کچھ وقت لگے گا۔
امتیاز عالم کہتے ہیں کہ عمران خان کی ناکام اور نکمی حکومت کے خلاف ایک بے وقت تحریکِ عدم اعتماد نے موصوف کو سائفر کی صورت میں ایک سنہری موقع فراہم کیا جس کا اس نے بھر پور سیاسی فائدہ اٹھایا۔ خان صاحب نے امریکہ میں پاکستانی سفیر کا خط ایسا گھمایا کہ اسے اپنی حکومت کے خلاف امریکی سازش بنا ڈالا۔ اب تو حال ہی میں لیک ہونے والی آڈیوز سے بھی ثابت ہو گیا ہے کہ عمران خان نے امریکی سازش کا بیانیہ گھڑا۔ لیکن اس سے نہ صرف اتحادی حکومت کے ہاتھ پائوں پھول گئے بلکہ اس سازش میں آلہ کار قرار دیے جانے والے بیچارے اپنی نیوٹریلٹی کی پاسبانی میں ہاتھ ملتے رہ گئے۔ سازشوں کی چٹپٹی داستانوں کے متلاشی عوام اور بے پایاں اضطراب کا شکار سوشل میڈیا میں جیسے آگ لگ گئی۔ سوئی ہوئی قومی غیرت جاگ گئی اور حقیقی آزادی کے ٹرک کی بتی کے پیچھے معصوم لوگوں کو لگا دیا گیا۔ پھر کیا تھا عمران کے طوفانی جلسوں میں ٹھٹھ کے ٹھٹھ لگ گئے اور ہر طرف جے جے کار کا سماں بندھ گیا۔ لیکن سائفر پر جو تین آڈیو لیکس سامنے آئی ہیں اُنہوں نے اندر کی ساری کہانی کھول کر دُنیا کے سامنے رکھ دی ہے۔ اب ثابت ہو گیا ہے کہ کیسے ایک معمول کے سائفر کو بیرونی مداخلت کی اشتعال انگیز اور غیرذمہ دارانہ شکل دینے کا پلان بنا، قومی سلامتی کی کمیٹی کو بھی گمراہ کیا گیا، مگر تحقیقات میں بیرونی سازش کی طفلانہ کہانی ثابت نہ ہونے کے باوجود نام نہاد ’’امریکی سازش‘‘ اور رجیم چینج میں فوجی اسٹیبلشمنٹ کے سہولت کاروں کی بطور میر صادق اور میر جعفر برانڈنگ بھی کر دی گئی۔ اوپر سے آئی ایم ایف کے ساتھ کیے گئے تحریکِ انصاف کی حکومت کے معاہدے کو سبوتاژ کرتے ہوئے پاکستان کو مالیاتی دیوالیہ کرنے میں کسر نہ چھوڑی گئی۔ پھر سیاسی طوفان برپا کر کے پاکستان کو سری لنکا بنانے کے لیے ہر حربہ استعمال کیا گیا۔
لیکن امتیاز عالم کہتے ہیں کہ اس کھیل کا اینٹی کلائمکس تو پاکستان کی تاریخ کے بدترین سیلاب اور اس کی تباہ کاریوں کے باوجود اقتدار کی واپسی کے لیے کی جانے والی مہم جوئی سے شروع ہوا۔ ایک طرف تباہی میں ملک ڈوبا ہوا ہے، کروڑوں لوگ اُجڑ گئے اور سینکڑوں بستیاں صفحہ ہستی سے مٹ گئیں اور ہمارے کپتان کی سیاسی فاسٹ بائولنگ جاری رہی۔ موصوف کو نہ تو عوام کی مصیبتوں کا خیال ہے اور نہ ہی اُن کی بحالی پر کوئی توجہ ہے۔ الٹا کپتان نے ایک خوفناک مہم چلائی کہ چوروں کی حکومت سارا پیسہ کھا جائے گی۔ دنیا کو پیغام یہ دیا گیا کہ سیلاب زدگان کی مدد نہ کی جائے۔ سارا زور فوری انتخابات کی رٹ پر رہا اور میڈیا اور عالمی برادری کی توجہ سیلاب زدگان اور ماحولیاتی آفت سے ہٹانے کی بھرپور کوشش کی گئی۔
امتیاز عالم کا کہنا ہے کہ عمران کا فوکس اس وقت نئے آرمی چیف کی تعیناتی پر ہے اور اُسکے آئینی عمل کو مشکوک بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ دراصل مقصد وہی پرانا تھا کہ کسی طرح 2018 کے مشکوک انتخابات سے گھڑا گیا ہائبرڈ سیاسی نظام پھر سے اسٹیبلشمنٹ کی مدد سے بحال کرایا جائے، مگر اس بار ذاتی مطلق العنانیت مسلط کر دی جائے۔ اس ساری مہم میں جمہوریت کی کوئی پاسداری تھی نہ پارلیمنٹ کی بالادستی کا کوئی عنصر، نہ آئین کی حکمرانی کی کوئی رمق ۔ بس نعرے بازی و گالی گلوچ کا اخلاق باختہ کلچر اور شخصیت پرستی کا فروغ۔بہرکیف جس تہلکہ خیز بیانیے کا توڑ درجن بھر اتحادی جماعتوں اور اُن کی وسیع البنیاد حکومت نہ کر پائی اور میڈیا میں خوب ٹھٹھا اُڑایا گیا کہ جوابی بیانیہ کہاں غائب ہے، وہ کام سائفر پہ آنے والی تین آڈیو لیکس نے کر دکھایا۔ رہی سہی اخلاقی کسر چوتھی لیک نے پوری کر دی کہ کس طرح خان صاحب بذاتِ خود ہارس ٹریڈنگ میں مصروف تھے۔
امتیاز عالم کہتے ہیں کہ ہیکر بھی کیا چن چن کر لیکس پر لیکس مارے جا رہا ہے۔ نہ جانے یہ سلسلہ خلوت میں کی جانے والی کون کون سی اخلاق باختگی کی رسوا کن داستانوں پر جا کر رُکے گا ،امتیاز کہتے ہیں کہ عمران کی طلسماتی شخصیت کا جو بت دہائیوں تک تراشا گیا تھا، لگتا ہے کہ وہ قومی وبالِ جان بن گیا ہے اور اب اس کو مسمار کرنے کا سلسلہ چل نکلا ہے۔ اب نہ تو اسلامی ٹچ بچے گا، اور نہ طلسماتی پردے، سب تار تار ہونے جا رہے ہیں۔ لیکن پھر بھی عمران خان چین سے بیٹھنے والے نہیں۔ ایسے میں دیکھنا یہ ہے کہ اُن کی آتما کو شانتی ملتی ہے یا پھر وہ اپنی ہی لگائی آگ کی نذر ہو جائیں گے۔ صائب مشورہ یہ ہے کہ عمران کو سنبھل کر پیچھے ہٹنا چاہیے جو اُن کے اور جمہوریت دونوں کے مفاد میں ہے۔
