بابری مسجد کو شہید کرنیکی کوشش ناکام بنانیوالے ملائم سنگھ چل بسے

بھارت کی سماج وادی پارٹی کے سرپرست ،3 بار اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ رہنے والے ،بابری مسجد کی جگہ مندر کی تعمیر کے سخت مخالفت اور اس کے نتیجے میں ہندو انتہا پسندوں کے ریڈار پر رہنے والے ملائم سنگھ یادو چل بسے۔

بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق ملائم سنگھ یادو چند روز اسپتال میں زیر علاج رہنے کے بعد انتقال کرگئے۔ انھیں بھارت میں انتہا پسندی کے خلاف موثر آواز اور اقلیتوں کے حقوق کے لیے سرگرم رہنما سمجھا جاتا تھا۔

رپورٹس کے مطابق نیتا جی کے نام سے شہرت پانے والے ملائم سنگھ نے بابری مسجد کے معاملے پر اپنے ہم عقیدہ افراد کے بجائے مسلمانوں کے مؤقف کی نہ صرف تائید کی بلکہ اس ظلم کے خلاف توانا آواز بنے اور اپنے دور میں بابری مسجد کے انہدام کی پہلی کوشش ناکام بنادی تھی۔

میڈٰیا کے مطابق ملائم سنگھ کے انتقال کی خبر ان کے بیٹے نے ٹوئٹر پر دی تھی جس کے بعد تعزیتوں کا تانتا بندھ گیا۔ وزیر اعظم نریندر مودی مودی نے کہا ایک شائستہ رہنما کے طور پر انہیں کافی سراہا جاتا تھا۔ انہوں نے تندہی سے لوگوں کی خدمت کی اور جے پرکاش نارائن اور ڈاکٹر لوہیا کے نظریات کو مقبول بنانے کے لیے اپنی زندگی وقف کر دی۔

بھارتی میڈیا کے مطابق سماج وادی کے سرپرست اعلیٰ کی آخری رسومات کل ادا کی جائیں گی۔

Back to top button