جنگ بندی کے خاتمے کے اعلان کے بعد دنیا پھر بحران کا شکار

 

 

 

امریکی صدر کی جانب سے ایران کے ساتھ جنگ بندی کے خاتمے کے اعلان نے پوری دنیا کو ایک مرتبہ پھر شدید بحرانی کیفیت سے دوچار کر دیا ہے۔ چند ہفتے قبل ہونے والی جنگ بندی اور مفاہمتی پیش رفت کے بعد جس کشیدگی کے خاتمے پر عالمی سطح پر اطمینان کا اظہار کیا جا رہا تھا، لیکن اب وہ امیدیں دوبارہ خطرے میں پڑتی دکھائی دے رہی ہیں۔

 

جنگ بندی کے خاتمے کے اعلان، آبنائے ہرمز میں حملوں، امریکی فضائی کارروائیوں اور ایرانی جوابی حملوں نے نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ عالمی توانائی کی منڈیوں اور بین الاقوامی سلامتی کے حوالے سے بھی نئی تشویش پیدا کر دی ہے۔ یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے دورہ ترکی کے دوران انقرہ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اعلان کیا کہ ایران کے ساتھ جنگ بندی اب ختم ہو چکی ہے۔ تاہم انہوں نے اس کے ساتھ یہ بھی کہا کہ دونوں ممالک کے مذاکرات کار رابطے برقرار رکھ سکتے ہیں اور اگر حالات سازگار ہوئے تو سفارتی عمل دوبارہ آگے بڑھایا جا سکتا ہے۔

 

دوسری جانب ایران کی پارلیمان کے سپیکر باقر قالیباف نے امریکہ پر مفاہمتی یادداشت اور آبنائے ہرمز میں ایرانی ضوابط کی خلاف ورزی کا الزام عائد کرتے ہوئے سخت ردعمل دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ "دھونس اور بھتہ خوری کا دور ختم ہو چکا، ایران کسی دباؤ کے سامنے گھٹنے نہیں ٹیکے گا۔”

 

یہ تازہ بحران اس وقت شدت اختیار کر گیا جب منگل اور بدھ کی درمیانی شب آبنائے ہرمز میں تین تجارتی جہازوں پر حملوں کے بعد امریکی فوج نے ایران میں 80 سے زائد اہداف پر حملوں کا اعلان کیا۔ امریکی حکام نے ان کارروائیوں کو تجارتی جہازوں کے تحفظ کے لیے ضروری قرار دیا۔ امریکی سینٹ کام کے مطابق کارروائی کے دوران ایرانی فضائی دفاعی نظام، کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز، ساحلی ریڈار تنصیبات اور پاسداران انقلاب کی ساٹھ سے زائد تیز رفتار کشتیوں کو نشانہ بنایا گیا۔ امریکی فوج نے خبردار کیا کہ بین الاقوامی آبی گزرگاہ میں بے گناہ تجارتی عملے کو نشانہ بنانے کی ایران کو بھاری قیمت چکانا پڑے گی۔

 

اس کے جواب میں ایران کے پاسداران انقلاب نے بحرین اور کویت میں امریکی فوجی تنصیبات سمیت 85 اہداف کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا۔ پاسداران انقلاب کے مطابق یہ امریکی کارروائی کا ابتدائی جواب تھا اور مزید اقدامات بھی کیے جا سکتے ہیں۔ ایرانی سرکاری میڈیا نے بتایا کہ امریکی حملوں میں قشم جزیرے، بندر عباس اور سرک کے علاقوں کو نشانہ بنایا گیا جہاں متعدد افراد زخمی ہوئے، تاہم فوری طور پر کسی ہلاکت کی تصدیق نہیں کی گئی۔

ایران کے نائب وزیر خارجہ نے امریکی حملوں کو گزشتہ ماہ طے پانے والے معاہدے کی کھلی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ تہران اپنے قومی مفادات اور سلامتی کے تحفظ کے لیے فیصلہ کن اقدامات کرے گا۔

 

تازہ تنازع کی بنیاد اس وقت پڑی جب امریکی سینٹ کام نے منگل کے روز الزام عائد کیا کہ ایران نے آبنائے ہرمز میں تجارتی ٹینکروں کو نشانہ بنا کر جنگ بندی کی خلاف ورزی کی ہے۔ سینٹ کام کے مطابق ایران نے انتہائی خطرناک اور جارحانہ طرز عمل اختیار کیا جس کے جواب میں امریکی کارروائی ناگزیر ہو گئی۔

ادھر پاسداران انقلاب نے اپنے تفصیلی بیان میں دعویٰ کیا کہ امریکہ نے سابق ایرانی رہبرِ اعلیٰ کی تدفین کے بعد ایک مرتبہ پھر جنگ بندی اور مفاہمتی معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ہرمزگان اور ماہشہر کے ساحلی علاقوں میں فوجی اور غیر فوجی اہداف پر فضائی حملے کیے، جس کے جواب میں بحرین میں امریکی پانچویں بحری بیڑے کے مرکز، پورٹ سلمان، کویت کے علی السالم فضائی اڈے سمیت 85 اہم فوجی اہداف پر میزائل اور ڈرون حملے کیے گئے۔

 

پاسداران انقلاب نے ایک امریکی ایم کیو نائن ڈرون مار گرانے کا دعویٰ بھی کیا، تاہم امریکی حکام کی جانب سے اس دعوے کی آزادانہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔ دریں اثنا سعودی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں ایران کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ایک سعودی اور ایک قطری ٹینکر کو نشانہ بنایا گیا، جس سے نہ صرف عالمی توانائی کی رسد بلکہ بین الاقوامی بحری راستوں کی سلامتی بھی خطرے میں پڑ گئی ہے۔

 

ادھر قطر نے بھی بحرین اور کویت پر ایرانی حملوں کو دونوں ممالک کی خودمختاری اور بین الاقوامی قانون کی سنگین خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے تمام فریقوں پر زور دیا کہ وہ کشیدگی کم کریں، مذاکرات کا راستہ اختیار کریں اور مفاہمتی عمل کو دوبارہ بحال کریں۔ امریکہ نے اس دوران ایرانی تیل کی فروخت پر وہ عارضی پابندیاں بھی دوبارہ نافذ کرنے کا اعلان کر دیا جو معاہدے کے بعد ہٹا لی گئی تھیں۔ ایران نے اس اقدام کو معاہدے کی صریح خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے ایک بار پھر ثابت ہو گیا ہے کہ امریکی حکومت پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا۔

ایران کی جوابی کارروائی: کویت، بحرین میں امریکی فوجی اڈوں پر حملے

دوسری جانب عالمی منڈیوں نے بھی اس کشیدگی پر فوری ردعمل ظاہر کیا۔ آبنائے ہرمز میں کشیدگی بڑھنے کے بعد برینٹ کروڈ کی قیمت تین فیصد سے زیادہ اضافے کے ساتھ 76 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی، جبکہ سفارتی حلقوں میں یہ سوال شدت اختیار کر گیا ہے کہ آیا ایران اور امریکہ کے درمیان طے پانے والا معاہدہ اب مکمل طور پر ختم ہو چکا ہے یا دونوں ممالک مذاکرات کے ذریعے ایک بار پھر بحران کو قابو میں لانے میں کامیاب ہو جائیں گے۔

 

Back to top button