PTI بڑے احتجاج کی بجائے ممی ڈیڈی سرگرمیوں پر زور کیوں دینے لگی؟

پاکستان تحریک انصاف پنجاب میں گزشتہ چند ماہ سے اپنی سیاسی حکمت عملی میں نمایاں تبدیلی لاتی دکھائی دے رہی ہے۔ سڑکوں پر بڑے احتجاج، جلسوں اور طاقت کے مظاہروں کے بجائے پارٹی نے نسبتاً کم پروفائل سیاسی سرگرمیوں پر توجہ مرکوز کر دی ہے۔ پارٹی قیادت اسے کارکنوں کے تحفظ، تنظیم کی ازسرنو بحالی اور سیاسی نقصان سے بچنے کی حکمت عملی قرار دے رہی ہے، جبکہ سیاسی مبصرین کے نزدیک یہ تبدیلی 9 مئی کے بعد پیدا ہونے والی سیاسی، قانونی اور تنظیمی مشکلات کا نتیجہ ہے۔ ایسے میں سوال یہ ہے کہ کیا پی ٹی آئی پنجاب خاموشی سے خود کو دوبارہ منظم کر رہی ہے یا صوبے میں اس کی سیاسی قوت بتدریج محدود ہوتی جا رہی ہے؟
سال 2024 کے عام انتخابات اور 9 مئی کے واقعات کے بعد پنجاب میں پاکستان تحریک انصاف کا تنظیمی ڈھانچہ شدید دباؤ کا شکار رہا۔ متعدد رہنما اور کارکن گرفتار ہوئے، کئی نے جماعت چھوڑ دی جبکہ بعض نے عملی سیاست سے کنارہ کشی اختیار کر لی۔ دوسری جانب بانی چیئرمین عمران خان سے جیل میں ملاقاتوں پر پابندیوں اور مسلسل قانونی مقدمات نے بھی پارٹی کی تنظیمی سرگرمیوں کو متاثر کیا، جس کے باعث پنجاب میں جماعت پہلے کی نسبت کم متحرک دکھائی دے رہی ہے۔
اس وقت پی ٹی آئی پنجاب کی سیاست بڑے احتجاجی مظاہروں کے بجائے پریس کانفرنسوں، اسمبلی کے اندر احتجاج، بجٹ پر تنقید، آئینی و قانونی بیانات اور محدود سیاسی اجتماعات تک محدود نظر آتی ہے۔ پارٹی کے ایک سینیئر رہنما نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ قیادت نے دانستہ طور پر کم پروفائل حکمت عملی اختیار کی ہے تاکہ کارکنوں اور تنظیمی ڈھانچے کو مزید نقصان سے بچایا جا سکے۔
ان کے مطابق ماضی میں ہونے والے بڑے احتجاج نہ صرف مطلوبہ سیاسی نتائج حاصل نہیں کر سکے بلکہ حکومت کو بھی سخت اقدامات کا جواز فراہم کرتے رہے۔ یہی وجہ ہے کہ اب پارٹی اپنی توانائیاں احتجاجی سیاست کے بجائے تنظیمی بحالی پر صرف کر رہی ہے۔
پارٹی ذرائع کے مطابق سیکریٹری جنرل سلمان اکبر راجہ کی ہدایت پر پنجاب کوآرڈینیشن کمیٹی ضلعی اور علاقائی سطح پر تنظیم کو دوبارہ فعال بنانے کی کوشش کر رہی ہے، تاہم اندرونی اختلافات، قیادت کے درمیان رابطوں کے مسائل اور مختلف دھڑوں کی موجودگی اس عمل کو پیچیدہ بنا رہی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کی رہائی کے لیے اب قانونی اور آئینی راستوں پر زیادہ انحصار کیا جا رہا ہے، جبکہ سوشل میڈیا پر بھی پارٹی کا بیانیہ پہلے جیسا مؤثر نہیں رہا۔ پارٹی کے بعض رہنما یہ بھی تسلیم کرتے ہیں کہ ماضی کے سخت اور جارحانہ بیانیے نے جماعت کو سیاسی نقصان پہنچایا اور عوامی حمایت پر بھی اس کے اثرات مرتب ہوئے۔
پی ٹی آئی کے اندر یہ احساس بھی پایا جاتا ہے کہ پنجاب میں بار بار احتجاج کی کالوں کے باوجود عوام کی جانب سے وہ ردعمل سامنے نہیں آیا جس کی قیادت کو توقع تھی۔ پارٹی رہنماؤں کے مطابق موجودہ معاشی حالات، مہنگائی، بے روزگاری اور روزمرہ مسائل نے عام شہری کی ترجیحات بدل دی ہیں، جس کے باعث احتجاجی سیاست کے لیے عوامی جوش و خروش میں واضح کمی آئی ہے۔
پارٹی ذرائع کے مطابق اگر مستقبل میں کسی بڑے احتجاج یا تحریک کا فیصلہ کیا بھی جاتا ہے تو اس کا مرکز زیادہ امکان ہے کہ خیبر پختونخوا ہوگا، جہاں پی ٹی آئی کی حکومت موجود ہے اور سیاسی سرگرمیوں کے لیے نسبتاً زیادہ گنجائش بھی میسر ہے۔
حال ہی میں پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں عمران خان کی صحت، جیل میں مبینہ قید تنہائی اور دیگر معاملات پر اسمبلی کا اجلاس طلب کرنے کے لیے ریکوزیشن جمع کرانے کا فیصلہ بھی اسی نئی حکمت عملی کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے، جس میں پارلیمانی اور آئینی فورمز کو ترجیح دی جا رہی ہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق مسلسل کم ہوتی سرگرمیوں کے باعث کارکنوں میں بھی مایوسی اور غیر فعالیت بڑھ رہی ہے۔ اگرچہ پنجاب میں پی ٹی آئی کا ووٹ بینک اب بھی خاصا مضبوط تصور کیا جاتا ہے، تاہم مؤثر تنظیمی حکمت عملی اور فعال سیاسی مہم کے فقدان نے جماعت کی سیاسی موجودگی کو محدود کر دیا ہے۔
سینیئر صحافی ماجد نظامی کے مطابق پاکستان تحریک انصاف صرف پنجاب ہی نہیں بلکہ ملک بھر میں پہلے کے مقابلے میں محدود سیاسی سرگرمیاں کر رہی ہے۔ ان کے نزدیک اس کی بنیادی وجوہات حکومت کی سخت پالیسی، 9 مئی کے بعد تنظیمی ڈھانچے کا بکھر جانا اور پارٹی کے اندر پیدا ہونے والے اختلافات ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ اگرچہ پی ٹی آئی نے گزشتہ دو برس کے دوران خود کو دوبارہ متحرک کرنے کی کئی کوششیں کیں، لیکن انہیں خاطر خواہ کامیابی حاصل نہیں ہوئی، جس کے باعث کارکن بھی اب محتاط طرزِ عمل اختیار کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق پارٹی قیادت کو اندازہ ہو چکا ہے کہ فوری سیاسی تبدیلی کے امکانات محدود ہیں، اس لیے اب زیادہ توجہ آئندہ انتخابات کی تیاری اور تنظیمی استحکام پر دی جا رہی ہے۔
ماجد نظامی کے مطابق چونکہ خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کی حکومت قائم ہے، اس لیے بڑے جلسے، احتجاج اور عوامی طاقت کے مظاہرے زیادہ تر وہیں سے منظم کیے جا رہے ہیں، جبکہ پنجاب میں اندرونی اختلافات اور قیادت کے مسائل جماعت کی سیاسی رفتار کو متاثر کر رہے ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ آنے والے مہینوں میں یہ واضح ہوگا کہ آیا پی ٹی آئی کی موجودہ کم پروفائل حکمت عملی تنظیمی بحالی میں مددگار ثابت ہوتی ہے یا پھر اس سے پنجاب میں جماعت کی سیاسی موجودگی مزید محدود ہو جاتی ہے۔ فی الحال پارٹی قیادت اسے ایک سوچا سمجھا سیاسی لائحہ عمل قرار دے رہی ہے، جبکہ ناقدین اسے سیاسی کمزوری اور دفاعی حکمت عملی سے تعبیر کر رہے ہیں۔
