خواتین زیادتی کیس، ڈار کے نواسے کو بچانے کیلئے کوششیں تیز

پولیس نے دو غیر ملکی خواتین کے اغوا اور زیادتی کیس میں نائب وزیر اعظماور وزیر خارجہ اسحاق ڈار کے نواسے رضا ڈار کو بچانے کی کوششیں تیز کر دی ہیں جس کے بعد لاہور میں دو غیر ملکی خواتین کے مبینہ اغوا، تشدد، زیادتی اور کرپٹو کرنسی سے متعلق مقدمے کی تحقیقات ایک نئے مرحلے میں داخل ہو گئی ہیں۔ اگرچہ پولیس کی توجہ بظاہر زیادتی کے الزام اور گرفتار ملزمان کے کردار پر مرکوز ہے، تاہم ذرائع کا دعویٰ ہے کہ کیس کے بعض اہم پہلوؤں، خصوصاً اغوا برائے تاوان اور کرپٹو کرنسی سے متعلق معاملات کو پس منظر میں دھکیلا جا رہا ہے۔ اسی دوران یہ سوال بھی شدت اختیار کر گیا ہے کہ کیا نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کے نواسے رضا ڈار کو قانونی ریلیف دینے کی کوشش کی جا رہی ہے یا تحقیقات صرف شواہد کی بنیاد پر آگے بڑھ رہی ہیں؟ اگرچہ ان دعوؤں کی سرکاری سطح پر تصدیق نہیں ہوئی، تاہم کیس کی ہر نئی پیش رفت نئے سوالات کو جنم دے رہی ہے۔

ذرائع کے مطابق تحقیقاتی ادارے اس وقت اپنی توجہ بنیادی طور پر غیر ملکی خواتین کے ساتھ مبینہ زیادتی اور گرفتار ملزمان کے سابقہ مجرمانہ ریکارڈ پر مرکوز کیے ہوئے ہیں، جبکہ کرپٹو کرنسی کے ذریعے مبینہ مالی فراڈ اور اغوا برائے تاوان جیسے پہلوؤں کو ثانوی حیثیت دی جا رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کیس کی سمت پر مختلف حلقوں میں سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران کی ابتدائی پریس کانفرنس کے بعد پولیس کی جانب سے مزید معلومات شیئر نہ کرنے سے بھی مختلف قیاس آرائیاں جنم لے رہی ہیں۔ بعض ذرائع کا دعویٰ ہے کہ کیس میں رضا ڈار کے کردار کو محدود رکھنے کی کوشش کی جا رہی ہے، جبکہ مرکزی ملزم "باس” وحید اور دیگر گرفتار افراد کے خلاف مضبوط چالان تیار کیا جا رہا ہے۔ تاہم اس حوالے سے پولیس یا حکومت کی جانب سے کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔

تحقیقات سے واقف بعض ذرائع کے مطابق رضا ڈار مبینہ زیادتی کے الزام میں براہ راست ملوث نہیں، بلکہ وہ مرکزی ملزم وحید اور دیگر ساتھیوں کی مبینہ کارروائیوں کے باعث اس تنازع میں آئے۔ انہی ذرائع کا دعویٰ ہے کہ اگر قانونی تقاضوں کے تحت ان کا نام مقدمے میں شامل بھی کرنا پڑا تو انہیں ممکنہ طور پر ریلیف ملنے والے فریق کے طور پر پیش کیا جا سکتا ہے۔ اس دعوے کی آزادانہ تصدیق تاحال ممکن نہیں ہو سکی۔

ذرائع کے مطابق تحقیقات کے دوران پولیس نے غیر ملکی خواتین سے یہ مؤقف بھی اختیار کیا کہ وہ پاکستان میں سیاحتی ویزے پر موجود تھیں اور کرپٹو کرنسی سے متعلق ایسی سرگرمیوں میں شامل تھیں جن کی قانونی حیثیت بھی جانچ کا موضوع بن سکتی ہے۔ ان ذرائع کا کہنا ہے کہ خواتین کو یہ تاثر دیا گیا کہ اگرچہ ان کے ساتھ ہونے والے مبینہ جرائم اپنی جگہ اہم ہیں، تاہم ان کی بعض سرگرمیاں بھی قانونی کارروائی کی زد میں آ سکتی ہیں۔

ذرائع کے مطابق اسی صورتحال کے باعث دونوں خواتین نے جلد از جلد پاکستان چھوڑنے کو ترجیح دی اور سفارتی یا عدالتی کارروائی کو مزید آگے بڑھانے کے بجائے اپنے وطن واپس چلی گئیں۔ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ روانگی سے قبل ان سے بعض دستاویزات پر دستخط بھی لیے گئے، تاہم ان دستاویزات کی نوعیت یا قانونی حیثیت کے بارے میں سرکاری طور پر کوئی وضاحت سامنے نہیں آئی۔

خیال رہے کہ یہ معاملہ اس وقت مزید زیر بحث آیا جب اینکر پرسن غریدہ فاروقی نے سوشل میڈیا پر دعویٰ کیا کہ متاثرہ خواتین نے معاملہ ختم کرنے سے متعلق بعض دستاویزات پر دستخط کیے ہیں، تاہم اس دعوے کی بھی سرکاری سطح پر تصدیق یا تردید نہیں کی گئی۔

ذرائع کے مطابق خواتین کی وطن واپسی کے بعد سے اب تک نہ تو انہوں نے پاکستانی تحقیقاتی اداروں سے دوبارہ رابطہ کیا ہے اور نہ ہی کوئی نیا بیان ریکارڈ کروایا ہے۔ البتہ ڈچ سفارتخانے کو مقدمے کی پیش رفت سے مسلسل آگاہ رکھا جا رہا ہے۔

تحقیقات سے وابستہ ذرائع یہ بھی دعویٰ کرتے ہیں کہ مقدمے کے ابتدائی مرحلے میں پولیس اور ڈیوٹی مجسٹریٹ کے درمیان پیدا ہونے والے انتظامی اختلافات نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا، جس کے نتیجے میں معاملہ مقامی سطح سے نکل کر بین الاقوامی توجہ کا مرکز بن گیا۔ادھر اس مقدمے نے سیاسی رنگ بھی اختیار کر لیا ہے۔ اپوزیشن جماعتوں نے اس حساس معاملے پر بحث کے لیے پنجاب اسمبلی کا اجلاس طلب کرنے کی ریکوزیشن جمع کرا دی ہے۔ اپوزیشن کا مؤقف ہے کہ اگر تحقیقات شفاف انداز میں نہ ہوئیں تو اس سے نہ صرف انصاف کا عمل متاثر ہوگا بلکہ ریاستی اداروں کی ساکھ پر بھی سوالات اٹھیں گے۔دوسری جانب تفتیشی اداروں کا کہنا ہے کہ تحقیقات ابھی جاری ہیں اور حتمی چالان عدالت میں پیش کیے جانے کے بعد ہی واضح ہوگا کہ کس ملزم کے خلاف کون سے الزامات ثابت کرنے کے لیے شواہد موجود ہیں۔ اس لیے مقدمے سے متعلق سامنے آنے والے تمام دعوے تاحال تحقیقات اور عدالتی کارروائی کے نتائج سے مشروط ہیں۔

Back to top button