آفریدی سرکار نے اراکین اسمبلی پر خزانے کا منہ کیسے کھولا؟

جب ملک مہنگائی، بے روزگاری، قرضوں اور مالی بحران کا شکار ہو، سرکاری ملازمین اپنی تنخواہوں میں اضافے کے لیے احتجاج کر رہے ہوں، پنشنرز مشکلات کا سامنا کر رہے ہوں اور عام شہری بنیادی ضروریات پوری کرنے کے لیے جدوجہد کر رہا ہو، ایسے وقت میں خیبرپختونخواہ حکومت کا عوامی نمائندوں کی مراعات میں اضافہ ایک ایسا فیصلہ ہے جو کئی سوالات کو جنم دیتا ہے۔

خیال رہے کہ خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے منظور کیے گئے نئے قوانین میں اراکین اسمبلی، سپیکر اور ڈپٹی سپیکر کو متعدد نئی سہولتیں دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ان میں اسلحہ لائسنسوں کی تعداد میں اضافہ، وی آئی پی لاؤنج تک رسائی، ٹنٹڈ شیشوں کی اجازت، کلب ممبرشپ، شریک حیات کے لیے خصوصی مراعات اور سپیکر و ڈپٹی سپیکر کے لیے سرکاری خرچ پر بزنس کلاس سفر جیسی سہولتیں شامل ہیں۔سوال یہ ہے کہ کیا اس وقت صوبے کے عوام کی سب سے بڑی ضرورت یہی تھی؟

ناقدین کے مطابق خیبر پختونخوا کو دہشت گردی، معاشی دباؤ، صحت اور تعلیم کے مسائل، بے روزگاری، انفراسٹرکچر کی کمی اور ترقیاتی منصوبوں کے تعطل جیسے سنگین چیلنجز کا سامنا ہے۔ ایسے حالات میں عوام کی توقع تھی کہ اسمبلی اپنی توانائیاں عوامی مسائل کے حل، گورننس میں بہتری اور معاشی بحالی پر مرکوز کرے گی، نہ کہ اپنی مراعات میں اضافے پر۔خاص طور پر سپیکر، ڈپٹی سپیکر اور ان کے شریک حیات کے لیے سرکاری خرچ پر بزنس کلاس سفر کی منظوری نے عوامی حلقوں میں بحث چھیڑ دی ہے۔ ناقدین کے مطابق اگر سرکاری وسائل محدود ہیں تو کیا ان وسائل کا اولین حق عوامی خدمات پر نہیں ہونا چاہیے؟

ناقدین کے بقول اسی طرح غیر ممنوعہ اسلحہ لائسنسوں کی تعداد چار سے بڑھا کر آٹھ کرنا بھی کئی سوالات اٹھاتا ہے۔ اگر مقصد صرف ذاتی تحفظ ہے تو کیا موجودہ نظام ناکافی تھا؟ اور اگر امن و امان کی صورتحال ایسی ہے کہ منتخب نمائندوں کو مزید اسلحے کی ضرورت محسوس ہو رہی ہے تو پھر عام شہری کے تحفظ کے لیے کیا اقدامات کیے جا رہے ہیں؟

ایک اور اہم ترمیم اسمبلی کی فنانس کمیٹی کو تنخواہوں اور الاؤنسز میں اضافہ کرنے کا اختیار دینا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مستقبل میں مراعات بڑھانے کے لیے ہر مرتبہ مکمل قانون سازی کی ضرورت نہیں رہے گی۔ اگرچہ حکومت اسے انتظامی آسانی قرار دے رہی ہے، لیکن شفافیت کے حامی حلقوں کا کہنا ہے کہ ایسے فیصلوں پر زیادہ عوامی نگرانی ہونی چاہیے تاکہ مفادات کے ٹکراؤ کا تاثر پیدا نہ ہو۔

سیاسی حلقوں میں خیبرپختونخوا اسمبلی کارروائی کی رپورٹنگ سے متعلق جرمانوں میں کئی گنا اضافہ بھی توجہ کا مرکز بنا ہے۔ غلط یا ممنوعہ رپورٹنگ کے خلاف قانون موجود ہونا ضروری ہے، لیکن صحافتی تنظیموں کا مؤقف ہے کہ سخت سزاؤں اور بھاری جرمانوں کا استعمال اس انداز میں ہونا چاہیے کہ آزاد اور ذمہ دار صحافت متاثر نہ ہو۔ تاہم کے پی کے حکومت کا مؤقف ہے کہ کوئی غیر معمولی مراعات نہیں دی گئیں بلکہ پہلے سے موجود قوانین کو جدید تقاضوں کے مطابق منظم کیا گیا ہے، جبکہ بلیو پاسپورٹ سے متعلق خبریں بھی بے بنیاد قرار دی گئی ہیں۔ تاہم یہ وضاحت اس بنیادی سوال کا مکمل جواب نہیں دیتی کہ موجودہ معاشی حالات میں ترجیحات کیا ہونی چاہییں۔جمہوریت میں عوامی نمائندوں کو مناسب سہولتیں ملنی چاہییں تاکہ وہ مؤثر انداز میں اپنے فرائض انجام دے سکیں، لیکن ان مراعات کا تعین معاشی حقائق، مالی وسائل اور عوامی توقعات کو سامنے رکھ کر ہونا چاہیے۔ جب عوام کو بجلی، گیس، صحت، تعلیم اور روزگار جیسے بنیادی مسائل درپیش ہوں تو نمائندوں کی مراعات میں اضافے کے فیصلے فطری طور پر تنقید کی زد میں آتے ہیں۔ تاہم آج سب سے بڑا سوال یہی ہے کہ کیا عوام کی مشکلات کم کرنے کے لیے بھی اتنی ہی سرعت سے قانون سازی کی جا رہی ہے، جتنی تیزی سے منتخب نمائندوں کی سہولتوں میں اضافہ کیا جا رہا ہے؟ یہی سوال کسی بھی جمہوری نظام میں احتساب، شفافیت اور عوامی اعتماد کا اصل پیمانہ بنتا ہے۔

خیال رہے کہ خیبر پختونخوا اسمبلی نے اراکینِ صوبائی اسمبلی، سپیکر اور ڈپٹی سپیکر کی مراعات سے متعلق قوانین میں اہم ترامیم منظور کر لی ہیں، جن کے تحت متعدد نئی سہولیات اور اختیارات شامل کیے گئے ہیں۔ ان ترامیم کے ساتھ اسمبلی کارروائی کی رپورٹنگ سے متعلق سزاؤں میں بھی نمایاں اضافہ کیا گیا ہے۔ترمیم شدہ قوانین کے مطابق سپیکر اور ڈپٹی سپیکر کو سرکاری خرچ پر اندرون اور بیرون ملک فرسٹ کلاس یا بزنس کلاس میں سفر کی سہولت حاصل ہوگی، جبکہ ان کے شریک حیات بھی ان سفری مراعات سے مستفید ہو سکیں گے۔ مزید یہ کہ دونوں عہدیدار اپنے دو نجی ملازمین کو بھی سرکاری خرچ پر اکانومی کلاس میں سفر کروا سکیں گے۔قانون میں یہ شق بھی شامل کی گئی ہے کہ سپیکر، ڈپٹی سپیکر، ان کے شریک حیات اور نجی ملازمین ٹرین اور فیری کے ذریعے بھی سرکاری خرچ پر سفر کر سکیں گے۔

ترمیم شدہ قانون کے تحت اراکین اسمبلی کے لیے غیر ممنوعہ اسلحے کے لائسنسوں کی تعداد چار سے بڑھا کر آٹھ کر دی گئی ہے۔ ان میں چار لائسنس مفت جبکہ مزید چار مقررہ فیس کے ساتھ حاصل کیے جا سکیں گے۔اراکین اسمبلی پہلے کی طرح ملک بھر میں ٹول ٹیکس سے مستثنیٰ رہیں گے، جبکہ انہیں سرکاری ہسپتالوں، بنیادی مراکز صحت، تعلیمی اداروں، سوشل ویلفیئر مراکز اور دیگر سرکاری اداروں کے معائنے کا اختیار بھی حاصل رہے گا۔قانون میں پہلی مرتبہ اراکین اسمبلی کی اہلیہ کے لیے اسمبلی شناختی کارڈ جاری کرنے کی شق شامل کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ اراکین اسمبلی ملک کے تمام ہوائی اڈوں پر وی آئی پی لاؤنج استعمال کر سکیں گے۔اسی طرح انہیں مختلف کلبز کی رکنیت سرکاری ملازمین کے مساوی شرائط پر حاصل کرنے کی اجازت ہوگی، جبکہ ذاتی گاڑیوں میں ٹنٹڈ شیشے استعمال کرنے کی بھی اجازت دے دی گئی ہے۔

قانون کی ایک اہم ترمیم کے مطابق اب اراکین اسمبلی کی تنخواہوں اور مختلف الاؤنسز میں اضافے کے لیے ہر مرتبہ قانون سازی ضروری نہیں ہوگی۔نئے نظام کے تحت اسمبلی کی فنانس کمیٹی کو اختیار دیا گیا ہے کہ وہ ضرورت کے مطابق تنخواہوں اور مراعات میں تبدیلی کی منظوری دے سکے۔ قانونی ماہرین کے مطابق اس ترمیم سے مالی معاملات میں زیادہ انتظامی لچک پیدا ہوگی، تاہم ناقدین اسے شفافیت کے تناظر میں بھی دیکھ رہے ہیں۔

اسمبلی کارروائی کی رپورٹنگ سے متعلق قوانین میں بھی نمایاں تبدیلیاں کی گئی ہیں۔غلط رپورٹنگ پر جرمانہ پانچ ہزار روپے سے بڑھا کر تین لاکھ روپے کر دیا گیا ہے، جبکہ ایسی کارروائی کی اشاعت جس پر پابندی عائد کی گئی ہو، اس پر جرمانہ بڑھا کر دس لاکھ روپے مقرر کیا گیا ہے۔اسی طرح اسمبلی یا اس کے ارکان سے متعلق غیر مہذب یا غیر اخلاقی مواد شائع کرنے پر چھ ماہ قید کے ساتھ دس لاکھ روپے تک جرمانہ عائد کیا جا سکے گا۔اسمبلی یا کسی کمیٹی کی غیر شائع شدہ کارروائی یا رپورٹ منظر عام پر لانے کی صورت میں بھی تین ماہ قید اور تین لاکھ روپے جرمانے کی سزا برقرار رکھی گئی ہے۔صحافتی حلقوں کا کہنا ہے کہ اگرچہ ان میں سے کئی شقیں پہلے سے موجود تھیں، تاہم جرمانوں میں غیر معمولی اضافے کے باعث اظہارِ رائے اور پارلیمانی رپورٹنگ کے حوالے سے نئی بحث جنم لے سکتی ہے۔

 

Back to top button