امریکا سے معاہدہ یا انتقام؟ ایران کی قیادت دو دھڑوں میں تقسیم

امریکہ کے ساتھ جنگ بندی اور مجوزہ سفارتی معاہدے نے ایران کے اندر طاقت کے مراکز میں ایسے اختلافات کو جنم دیا ہے جو گزشتہ کئی دہائیوں میں شاذ و نادر ہی عوامی سطح پر سامنے آئے تھے۔ نیو یارک ٹائمز کی ایک تفصیلی رپورٹ کے مطابق صدر مسعود پزشکیان، وزیر خارجہ عباس عراقچی اور پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف شدید تنقید کی زد میں ہیں، جبکہ سخت گیر حلقے مذاکرات کو قومی مفادات سے انحراف قرار دیتے ہوئے امریکہ سے بدلہ لینے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق صورتحال اس وقت مزید پیچیدہ ہو گئی جب سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی تدفین اور سرکاری سوگ کی تقریبات میں نئے سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای کی غیر موجودگی نے نئی قیاس آرائیوں کو جنم دیا۔ مارچ میں منصب سنبھالنے کے بعد وہ تاحال عوامی سطح پر کسی تقریب میں شریک نہیں ہوئے، جس سے یہ سوال اٹھنے لگا کہ آیا ایران میں عملی طور پر اقتدار کس کے ہاتھ میں ہے۔

سرکاری تقریبات میں صدر، پارلیمنٹ کے اسپیکر، عدلیہ کے سربراہ اور پاسداران انقلاب کے اعلیٰ فوجی افسران تو موجود تھے، لیکن نئے سپریم لیڈر کی عدم موجودگی نے سیاسی حلقوں میں بے چینی پیدا کر دی۔ اس دوران ایران کے مختلف سیاسی دھڑوں کے درمیان امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے معاملے پر سخت الزامات کا تبادلہ جاری رہا۔ ایک دوسرے پر غداری، بغاوت کی سازش، نئے سپریم لیڈر کو گمراہ کرنے اور ریاستی پالیسی کو اپنے مفاد میں استعمال کرنے جیسے الزامات عائد کیے جا رہے ہیں۔

تہران میں ایک عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے سخت گیر رہنما حسن رحیم پور ازغدی نے امریکہ کے ساتھ مذاکرات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ایسے وقت میں امن کی بات کرنا ناقابل قبول ہے جب ایران اپنی اعلیٰ قیادت کو کھو چکا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ان کے نزدیک واحد راستہ امریکہ اور اسرائیل سے انتقام لینا ہے، نہ کہ سفارتی مذاکرات۔

صورتحال کو قابو میں لانے کے لیے آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای نے ایک تحریری بیان جاری کیا، لیکن اس کے برعکس سخت گیر حلقوں کا غصہ مزید بڑھ گیا۔ اب ان کے حامی رات کے وقت احتجاجی جلوس نکال کر مطالبہ کر رہے ہیں کہ سپریم لیڈر خود عوام کے سامنے آئیں یا کم از کم اپنی آواز میں ایک پیغام جاری کریں۔ تاہم اب تک ایسا نہیں ہوا۔

ذرائع کے مطابق آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای اپنے والد کی تدفین میں شرکت کے خواہش مند تھے، لیکن سکیورٹی اداروں نے اسرائیلی حملے کے خدشے کے پیش نظر انہیں اجازت نہیں دی۔ اطلاعات ہیں کہ سکیورٹی حکام کو اندیشہ تھا کہ عوامی تقریب میں شرکت کی صورت میں ان کی جان کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے یا ان کے محفوظ مقام کا سراغ لگایا جا سکتا ہے۔

اسی دوران پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کو ایک لائیو ٹی وی پروگرام کے دوران اچانک آف ایئر کر دیا گیا جب وہ امریکہ کے ساتھ جنگ بندی معاہدے کی تفصیلات بیان کر رہے تھے۔ اس واقعے کے بعد سرکاری ٹی وی کے کردار پر بھی شدید تنقید ہوئی اور اس کے سربراہ کو ہٹانے کے مطالبات سامنے آئے۔ دوسری جانب سرکاری میڈیا مسلسل مذاکراتی ٹیم کو تنقید کا نشانہ بنا رہا ہے جبکہ مختلف شہروں میں ہونے والے اجتماعات میں مذاکرات کرنے والوں کے خلاف مقدمات چلانے اور انہیں سزا دینے کے مطالبات بھی کیے جا رہے ہیں۔

وزیر خارجہ عباس عراقچی کو بھی عراق میں ایک مذہبی مقام پر عوامی احتجاج کا سامنا کرنا پڑا، جہاں ان کے خلاف نعرے بازی کی گئی۔ معروف سخت گیر تجزیہ کار فواد ایزدی نے سرکاری ٹیلی ویژن پر حکومت اور قالیباف کی ٹیم کو ناتجربہ کار قرار دیتے ہوئے مذاکراتی حکمت عملی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔

ایران کی سیاست میں اختلافات ہمیشہ موجود رہے ہیں، لیکن ماضی میں یہ کشمکش اصلاح پسندوں اور قدامت پسندوں کے درمیان ہوتی تھی۔ موجودہ صورتحال میں پہلی مرتبہ خود قدامت پسند دو واضح دھڑوں میں تقسیم دکھائی دیتے ہیں۔ ایک گروہ، جسے حقیقت پسند قرار دیا جا رہا ہے، سمجھتا ہے کہ ایران کی معاشی بقا اور عالمی تنہائی کے خاتمے کے لیے امریکہ سے تعلقات بہتر بنانا ناگزیر ہے۔ دوسرا گروہ سخت گیر عناصر پر مشتمل ہے جو کسی بھی قسم کی امریکی رعایت یا سفارتی مفاہمت کو قومی مفاد کے خلاف قرار دیتا ہے۔

چار اعلیٰ ایرانی حکام اور پاسداران انقلاب سے وابستہ ذرائع کے مطابق اصل کشمکش صرف مذاکرات تک محدود نہیں بلکہ ایران کے مستقبل کی قیادت پر قبضے کی جنگ بھی جاری ہے۔ دونوں دھڑے نئے سپریم لیڈر کو اپنے حق میں کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ فی الحال حقیقت پسند حلقہ زیادہ مضبوط دکھائی دیتا ہے، جس میں صدر مسعود پزشکیان، محمد باقر قالیباف، پاسداران انقلاب کے سینئر کمانڈرز اور سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کی قیادت شامل ہے۔ انہی حلقوں نے جنگ بندی قبول کرانے، امریکی نائب صدر جے ڈی وینس سے رابطوں اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ معاہدے کی منظوری میں اہم کردار ادا کیا۔

حکومت کے قریبی تجزیہ کار مہدی رحمتی کے مطابق ایران کو ایک ایسے جامع معاہدے کی ضرورت ہے جو جنگ کے خطرات ختم کرے اور معیشت کو بحال کرے، کیونکہ عوام اب مزید کشیدگی نہیں بلکہ معمول کی زندگی چاہتے ہیں۔

اگرچہ صدر پزشکیان کا دعویٰ ہے کہ آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای نے امریکہ کے ساتھ سفارتی عمل کی توثیق کی تھی، تاہم سخت گیر حلقے اس مؤقف کو قبول کرنے پر آمادہ نہیں۔ ان کے مطابق امریکہ پر اعتماد کرنا ایک سنگین غلطی ہے اور نئے سپریم لیڈر کبھی بھی ایسی پالیسی کی حمایت نہیں کر سکتے۔

رپورٹ کے مطابق جنگ کے بعد پاسداران انقلاب نے اپنے اختیارات مزید مستحکم کر لیے ہیں اور ریاستی فیصلوں میں ان کا کردار پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ چکا ہے۔ اس کے ساتھ ہی فیصلہ سازی کا نظام بھی سابق سپریم لیڈر کے مطلق اختیار سے نکل کر نسبتاً اجتماعی مشاورت کی طرف بڑھتا دکھائی دیتا ہے۔

ایران کے نائب صدر برائے انتظامی امور محمد جعفر قائم پناہ کا یہ بیان بھی غیر معمولی اہمیت اختیار کر گیا، جس میں انہوں نے کہا کہ سپریم لیڈر کی رائے بھی دیگر ریاستی اداروں کی آرا کی طرح قابل بحث ہونی چاہیے۔ ان کے بقول اگر ہر فیصلہ صرف سپریم لیڈر ہی نے کرنا ہے تو پھر پارلیمنٹ اور سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کی ضرورت ہی کیا رہ جاتی ہے۔ ماضی میں اس نوعیت کا بیان ناقابل تصور سمجھا جاتا تھا۔

رپورٹ کے مطابق امریکہ کے ساتھ معاہدے کی منظوری کا مرحلہ انتہائی حساس تھا۔ صدر پزشکیان نے نئے سپریم لیڈر سے ملاقات میں انہیں خبردار کیا کہ اگر معاہدہ مسترد کیا گیا تو ایران شدید معاشی بحران میں داخل ہو جائے گا اور وہ بطور صدر استعفیٰ دینے پر مجبور ہوں گے۔ اسی دوران مرکزی بینک کے سربراہ عبد الناصر ہمتی نے بھی ایک تفصیلی خط میں خبردار کیا کہ امریکی بحری ناکہ بندی برقرار رہی تو اگست کے آخر تک خوراک اور ادویات کے ذخائر خطرناک حد تک کم ہو جائیں گے اور ایران کے پاس تیل کی برآمدات یا تجارت کے متبادل راستے موجود نہیں ہوں گے۔

انہی معاشی خدشات کے بعد آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای نے اگرچہ ذاتی طور پر معاہدے سے اختلاف کا اظہار کیا، تاہم سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کی اکثریتی حمایت کے بعد انہوں نے مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانے کی منظوری دے دی۔ صدر پزشکیان کے مطابق کونسل کے تیرہ میں سے بارہ ارکان نے اس معاہدے کی حمایت کی۔

اب نگاہیں نئے سپریم لیڈر کے آئندہ فیصلوں پر مرکوز ہیں۔ عدلیہ، سرکاری میڈیا، بسیج فورس اور چیف آف اسٹاف سمیت اہم ریاستی اداروں میں ہونے والی تقرریاں واضح کریں گی کہ وہ حقیقت پسند دھڑے کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں یا سخت گیر گروہ کو ترجیح دیتے ہیں۔

جان ہاپکنز یونیورسٹی کے معروف ایرانی امور کے ماہر پروفیسر ولی نصر کے مطابق ایران اس وقت اپنی حالیہ تاریخ کے ایک انتہائی نازک مرحلے سے گزر رہا ہے جہاں اقتدار، خارجہ پالیسی اور ریاست کے مستقبل کے لیے حقیقی کشمکش جاری ہے۔ ان کے بقول اگر عملیت پسند قوتیں کامیاب ہو گئیں تو ایران کی پالیسی میں بڑی تبدیلی آ سکتی ہے، لیکن اگر سخت گیر عناصر غالب آگئے تو ملک ایک بار پھر طویل محاذ آرائی اور مزید داخلی بحران کی طرف بڑھ سکتا ہے

Back to top button