امریکا ایران کشیدگی، کیا جنگ کے سائے میں امن مذاکرات ممکن ہیں؟

امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ فوجی کشیدگی نے ایک بار پھر مشرقِ وسطیٰ کو غیر یقینی صورتحال سے دوچار کر دیا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے خلاف سخت بیانات، مزید حملوں کی دھمکیاں اور دوسری طرف مذاکرات کے دروازے مکمل طور پر بند نہ کرنے کے اشارے اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ واشنگٹن ایک ایسے دوراہے پر کھڑا ہے جہاں عسکری طاقت اور سفارتکاری ایک دوسرے کے متوازی چل رہی ہیں۔
خیال رہے کہ ترکی میں نیٹو سربراہی اجلاس کے موقع پر صدر ٹرمپ نے ایرانی قیادت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ وہ تہران کے ساتھ مزید مذاکرات کے خواہاں نہیں۔ تاہم انہی بیانات کے دوران انہوں نے اپنے مذاکرات کاروں کو رابطے جاری رکھنے کی اجازت دینے کا عندیہ بھی دیا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ سخت سیاسی مؤقف کے باوجود سفارتی راستہ مکمل طور پر بند نہیں ہوا۔یہی تضاد موجودہ بحران کا سب سے اہم پہلو بن چکا ہے۔ اگر امریکا واقعی سمجھتا ہے کہ فوجی دباؤ ہی مسئلے کا حل ہے تو پھر مذاکراتی چینل کیوں برقرار رکھا جا رہا ہے؟ اور اگر مذاکرات ہی واحد قابلِ عمل راستہ ہیں تو پھر مسلسل سخت بیانات اور عسکری کارروائیاں اعتماد کی فضا کیسے پیدا کریں گی؟
مبصرین کے مطابق حالیہ کشیدگی نے اس مفاہمتی عمل کو بھی غیر یقینی بنا دیا ہے جسے اسلام آباد میں طے پانے والے فریم ورک کے ذریعے آگے بڑھانے کی کوشش کی جا رہی تھی۔ اس عمل کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کی بحالی، مرحلہ وار کشیدگی میں کمی اور جوہری و علاقائی تنازعات کا سیاسی حل تلاش کرنا تھا۔ لیکن تازہ حملوں اور جوابی بیانات نے اس پیش رفت کو شدید دھچکا پہنچایا ہے۔امریکی عسکری برتری اپنی جگہ مسلم ہے، تاہم اب تک کی صورتحال یہ ظاہر کرتی ہے کہ صرف فوجی کارروائیوں کے ذریعے ایران کو اپنے بنیادی مؤقف سے پیچھے ہٹانے میں کامیابی حاصل نہیں ہو سکی۔ خاص طور پر آبنائے ہرمز کے معاملے پر تہران نے واضح کیا ہے کہ وہ اپنی حکمت عملی تبدیل کرنے پر آمادہ نہیں۔
ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز صرف ایک بحری راستہ نہیں بلکہ عالمی توانائی کی شہ رگ سمجھی جاتی ہے۔ دنیا میں استعمال ہونے والے خام تیل اور قدرتی گیس کا بڑا حصہ اسی راستے سے گزرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس آبی گزرگاہ پر ایران کا اثر و رسوخ اسے عالمی سفارتکاری میں ایک اہم تزویراتی حیثیت دیتا ہے۔تہران کا مؤقف ہے کہ وہ اس خطے میں اپنی سلامتی اور معاشی مفادات پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ اسی لیے ایران ایسے کسی بھی معاہدے کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں دکھائی دیتا جس سے اس کی علاقائی پوزیشن کمزور ہو۔دوسری جانب واشنگٹن کی خواہش ہے کہ ایران یورینیم افزودگی محدود کرے، بین الاقوامی جوہری معائنہ کاروں کو مکمل رسائی دے اور اپنے جوہری پروگرام سے متعلق عالمی خدشات دور کرے۔ لیکن اعتماد کے فقدان نے ان مطالبات کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق موجودہ بحران کا سب سے بڑا مسئلہ یہی ہے کہ دونوں ممالک ایک دوسرے کی نیت پر اعتماد نہیں کرتے۔ امریکا کو خدشہ ہے کہ ایران کسی بھی معاہدے کے بعد دوبارہ اپنی جوہری سرگرمیاں تیز کر سکتا ہے، جبکہ ایران کا خیال ہے کہ واشنگٹن مستقبل میں بھی پابندیاں، فوجی دباؤ اور طاقت کے استعمال کی پالیسی ترک نہیں کرے گا۔یہی عدم اعتماد مذاکراتی عمل کی سب سے بڑی رکاوٹ بن چکا ہے۔
اس کے باوجود سفارتی ذرائع اب بھی اس امید کا اظہار کر رہے ہیں کہ اگر کشیدگی مزید نہ بڑھی تو بالآخر دونوں ممالک کو مذاکرات کی میز پر واپس آنا پڑے گا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ طویل جنگ نہ امریکا کے مفاد میں ہے، نہ ایران کے، اور نہ ہی خطے یا عالمی معیشت کے لیے قابلِ برداشت ہوگی۔ممکنہ معاہدے کی صورت میں ایران کو منجمد مالی اثاثوں تک رسائی، تیل کی برآمدات میں نرمی اور معاشی پابندیوں میں جزوی ریلیف مل سکتا ہے، جبکہ اس کے بدلے تہران کو اپنے جوہری پروگرام پر بین الاقوامی نگرانی اور محدود افزودگی جیسے اقدامات قبول کرنا پڑ سکتے ہیں۔تاہم موجودہ حالات میں یہ راستہ انتہائی دشوار دکھائی دیتا ہے۔ سخت بیانات، فوجی کارروائیاں اور باہمی عدم اعتماد ہر نئے دن کے ساتھ سفارتی کوششوں کو مزید کمزور کر رہے ہیں۔
ماہرین کے مطابق موجودہ بحران ایک مرتبہ پھر یہ ثابت کر رہا ہے کہ عسکری طاقت جنگیں شروع تو کر سکتی ہے، لیکن دیرپا امن قائم نہیں کر سکتی۔ اگر واشنگٹن اور تہران واقعی خطے کو مزید تباہی سے بچانا چاہتے ہیں تو انہیں بالآخر مذاکرات، سفارتکاری اور باہمی اعتماد سازی ہی کی طرف لوٹنا ہوگا۔اب اصل سوال یہ نہیں کہ امریکا ایران پر مزید دباؤ ڈال سکتا ہے یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ کیا دونوں ممالک سیاسی حقیقت پسندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایک ایسے معاہدے تک پہنچ سکیں گے جو صرف جنگ کو روکنے کے لیے نہیں بلکہ خطے میں پائیدار استحکام کے لیے بھی بنیاد فراہم کرے۔
