آبنائے ہرمز امریکی دباؤ سے نہیں، ایرانی انتظامات کے تحت ہی کھلے گی: قالیباف

ایران کے چیف مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے آبنائے ہرمز کے معاملے پر امریکی دباؤ کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہےکہ یہ اہم بحری گزرگاہ امریکی دھمکیوں سے نہیں بلکہ صرف ایرانی انتظامات کے تحت ہی کھلے گی۔
سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف نے امریکا کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہےکہ اب دھونس، دھمکیوں اور وعدہ خلافی کی کوئی کارروائی بغیر جواب کے نہیں رہے گی۔
محمد باقر قالیباف نے امریکا کو مزید خبردار کرتے ہوئے کہا کہ واضح کردینا چاہتا ہوں،اگر آپ حملہ کریں گے تو آپ پر بھی حملہ ہوگا۔بےمقصد ہاتھ پاؤں مارنے سے گریز کریں ورنہ آپ مزید دلدل میں دھنستے چلےجائیں گے۔
امریکا ایران کشیدگی، کیا جنگ کے سائے میں امن مذاکرات ممکن ہیں؟
دوسری جانب امریکا کے نائب صدر جے ڈی وینس نے کا کہنا ہے کہ ایران نے آبنائے ہرمز بند کرنے کی کوشش کی تو اسے امریکی فوج کی جانب سے جوابی کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔
نائب امریکی صدر جے ڈی وینس کا کہنا تھا کہ ہم نے واضح طور پر یہ مؤقف اختیار کیا ہے کہ اگر ایران بحری جہازوں پر حملے بند کردے تو ہم اپنی ناکہ بندی ختم کردیں گے لیکن اگر وہ جہازوں کو نشانہ بناتا رہا تو ہم بھرپور جوابی کارروائی کریں گے۔
جے ڈی وینس نے کہا کہ ایران کے پاس دو راستے ہیں،یا تو وہ اس معاہدے کی پاسداری کرتےہوئے بحری راستہ کھلا رکھے اور جہازوں پر حملے بند کردے، یا پھر اسے گزشتہ رات کی طرح مسلسل امریکی کارروائی کا سامنا کرنا پڑےگا۔یہ سلسلہ اس وقت تک جاری رہےگا جب تک ایران اس اہم بحری گزرگاہ کو کھول نہیں دیتا اور جہازوں پر حملے بند نہیں کردیتا۔
