حکومت غیر قانونی مقیم افغانوں کے ساتھ کیا کرنے والی ہے؟

حکومت کی جانب سے غیر قانونی طور پر مقیم افغان باشندوں کو ملک چھوڑنے کے لیے دی گئی مہلت ختم ہونے کو ہے، جس کے بعد 10 جولائی سے ملک بھر میں گرفتاریوں اور بے دخلی کے دوسرے مرحلے کا آغاز کیا جائے گا۔ وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے واضح کر دیا ہے کہ اس بار ڈیڈ لائن میں کسی قسم کی توسیع نہیں ہوگی اور تمام متعلقہ ادارے مشترکہ حکمت عملی کے تحت کارروائیاں کریں گے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد کسی مخصوص قومیت کو نشانہ بنانا نہیں بلکہ غیر قانونی طور پر مقیم افراد سے متعلق ریاستی پالیسی پر عمل درآمد اور قومی سلامتی کو درپیش خطرات کا تدارک کرنا ہے۔
ذرائع کے مطابق کراچی میں 28 جون کو رینجرز ہیڈکوارٹر پر ہونے والے دہشت گرد حملے کے بعد ریاستی اداروں نے سیکیورٹی پالیسی مزید سخت کر دی ہے۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق شہر میں دہشت گردوں کے مبینہ سلیپر سیلز، سہولت کاروں اور مشتبہ ٹھکانوں کے خلاف بڑے پیمانے پر انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز جاری ہیں، جبکہ حساس علاقوں میں نگرانی بھی بڑھا دی گئی ہے۔ حکام کا مؤقف ہے کہ امن و امان پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور ملکی سلامتی کے خلاف سرگرم عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی ہوگی۔
کراچی کے مختلف علاقوں میں رہنے والے شہری بھی سیکیورٹی اقدامات کو مثبت قرار دے رہے ہیں۔ گلشنِ اقبال کے رہائشی کامران احمد، جو حملے کے وقت قریبی مارکیٹ میں موجود تھے، کہتے ہیں کہ اس واقعے نے شہریوں میں خوف و ہراس پیدا کر دیا تھا، تاہم اس کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں کی فوری کارروائیوں سے لوگوں میں اعتماد بحال ہوا ہے۔ ان کے مطابق مشکوک ٹھکانوں کے خلاف کارروائیاں اور غیر قانونی رہائش پذیر افراد کی جانچ پڑتال شہر میں امن کی بحالی کے لیے ضروری ہے۔اسی طرح سہراب گوٹھ کے قریب رہائش پذیر ایک طالب علم شاہزیب خان کا کہنا ہے کہ حالیہ دنوں میں بائیومیٹرک تصدیق اور سرچ آپریشنز کے بعد علاقے کی صورتحال میں واضح تبدیلی محسوس کی جا رہی ہے۔ ان کے مطابق سیکیورٹی اداروں کی موجودگی سے شہری خود کو پہلے سے زیادہ محفوظ محسوس کر رہے ہیں۔
سیکیورٹی امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ کراچی میں غیر قانونی بستیوں اور مبینہ سلیپر سیلز کا مسئلہ کئی دہائیوں سے موجود ہے۔ ریٹائرڈ قانون نافذ کرنے والے افسر اسلم سلیم کے مطابق ماضی میں بھی ایسے عناصر کے خلاف کارروائیاں کی گئیں، لیکن مختلف سیاسی اور انتظامی وجوہات کے باعث یہ مسئلہ مکمل طور پر ختم نہ ہو سکا۔ ان کا کہنا ہے کہ موجودہ آپریشن جدید ٹیکنالوجی، بائیومیٹرک تصدیق اور مختلف اداروں کے درمیان انٹیلی جنس شیئرنگ کی وجہ سے ماضی کے مقابلے میں زیادہ مؤثر ثابت ہو سکتا ہے۔شہری اور سماجی امور کی ماہر نادیہ رحمان کا کہنا ہے کہ دنیا کے مختلف ممالک دہشت گردی یا قومی سلامتی کو لاحق خطرات کے بعد سرحدی نگرانی اور امیگریشن قوانین کو مزید سخت کرتے ہیں۔ ان کے مطابق پاکستان کا حالیہ اقدام بھی ریاستی سلامتی اور قانونی نظام کو مضبوط بنانے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔
حکومتی اور سیکیورٹی ذرائع کے مطابق 10 جولائی کے بعد ملک میں غیر قانونی طور پر مقیم افراد کے خلاف کارروائی میں مزید تیزی لائی جائے گی۔ ایک سینیئر سیکیورٹی عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کا مقصد کسی مخصوص برادری کو نشانہ بنانا نہیں بلکہ ایسے عناصر کے خلاف کارروائی کرنا ہے جو دہشت گرد تنظیموں یا ان کے سہولت کاروں سے منسلک ہوں یا قانونی دستاویزات کے بغیر پاکستان میں مقیم ہوں۔
خیبر پختونخوا حکومت نے بھی وفاقی پالیسی کے مطابق واپسی کے عمل کو تیز کرنے کے لیے متعلقہ اداروں کو ہدایات جاری کر دی ہیں۔ محکمہ داخلہ و قبائلی امور کے اجلاس میں غیر قانونی افغان باشندوں کی واپسی، سیکیورٹی صورتحال اور انتظامی تیاریوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ رضاکارانہ واپسی کو ترجیح دی جائے گی، تاہم مقررہ مہلت کے بعد قانون کے مطابق کارروائی بھی عمل میں لائی جائے گی۔
پشاور میں تعینات ایک اعلیٰ پولیس افسر کے مطابق تمام تھانوں کی سطح پر غیر قانونی افغان باشندوں کی فہرستیں تیار کر لی گئی ہیں اور پولیس پہلے ہی گھر گھر جا کر انہیں مقررہ وقت کے اندر وطن واپسی کی ہدایت دے رہی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ 10 جولائی کے بعد قانونی دستاویزات نہ رکھنے والے افراد کے خلاف گرفتاریاں عمل میں لائی جائیں گی اور انہیں سرحدی راستوں کے ذریعے افغانستان واپس بھیجا جائے گا۔ اس مقصد کے لیے ضلع خیبر میں قائم ٹرانزٹ کیمپ کو بھی مکمل طور پر فعال کر دیا گیا ہے۔پولیس حکام کا کہنا ہے کہ کارروائی کے دوران غیر ضروری سختی سے گریز کیا جائے گا اور ضلعی انتظامیہ، پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے مشترکہ طور پر اس عمل کو انجام دیں گے تاکہ واپسی کا مرحلہ منظم انداز میں مکمل ہو سکے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اپریل 2025 سے اب تک تقریباً 9 لاکھ 88 ہزار 812 افغان باشندے پاکستان چھوڑ چکے ہیں، جن میں غیر قانونی طور پر مقیم افراد، افغان سٹیزن کارڈ ہولڈرز اور پروف آف رجسٹریشن کارڈ رکھنے والے افغان شہری شامل ہیں۔
دوسری جانب اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین (UNHCR) اور بین الاقوامی ادارہ برائے مہاجرت (IOM) کے مطابق ستمبر 2023 سے مئی 2026 تک پاکستان سے 23 لاکھ 90 ہزار سے زائد افغان شہری افغانستان واپس جا چکے ہیں، جن میں اکثریت رضاکارانہ طور پر واپس جانے والوں کی ہے۔ اقوام متحدہ کے مطابق پاکستان میں اب بھی نو لاکھ سے زائد رجسٹرڈ افغان مہاجرین موجود ہیں، جبکہ رجسٹرڈ اور غیر رجسٹرڈ افغان باشندوں کی مجموعی تعداد تقریباً 20 لاکھ بتائی جاتی ہے، جن میں سب سے زیادہ خیبر پختونخوا میں مقیم ہیں۔حکومت کا کہنا ہے کہ آئندہ مرحلے میں تمام کارروائیاں ملکی قوانین کے مطابق انجام دی جائیں گی اور صرف وہی افراد پاکستان میں رہ سکیں گے جن کے پاس قانونی رہائشی دستاویزات موجود ہوں گی، جبکہ باقی افراد کی واپسی کے عمل کو ہر صورت مکمل کیا جائے گا۔
