پاکستان میں پانچ سال سے کم عمر بچوں کی اموات زیادہ کیوں؟

پاکستان میں بچوں کی صحت آج بھی قومی صحت کے نظام کے لیے ایک بڑا چیلنج بنی ہوئی ہے۔ تازہ تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ ملک اب بھی دنیا کے اُن ممالک میں شامل ہے جہاں پانچ سال سے کم عمر بچوں اور نوزائیدہ بچوں کی شرحِ اموات تشویشناک حد تک بلند ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ان اموات کی بڑی وجوہات ایسی ہیں جنہیں بہتر طبی سہولیات، بروقت تشخیص، حفاظتی ٹیکہ کاری اور عوامی آگاہی کے ذریعے بڑی حد تک روکا جا سکتا ہے۔
آغا خان یونیورسٹی کراچی میں پیش کی گئی چائلڈ ہیلتھ اینڈ مورٹیلٹی پری وینشن سرویلنس (CHAMPS) پاکستان کی تحقیق کے مطابق کراچی کے کم آمدنی والے علاقوں میں خسرہ پانچ سال سے کم عمر بچوں کی اموات کی سب سے نمایاں وجہ بن کر سامنے آیا ہے، جبکہ غذائی قلت، نمونیا، شدید انفیکشن، ڈینگی، زچگی کے دوران پیدا ہونے والی پیچیدگیاں اور مختلف حادثات بھی بچوں کی جان لینے والے اہم عوامل میں شامل ہیں۔تحقیق کے مطابق پاکستان میں پانچ سال سے کم عمر بچوں کی شرحِ اموات تقریباً 56 فی ایک ہزار زندہ پیدائش جبکہ نوزائیدہ بچوں کی شرحِ اموات 36 فی ایک ہزار زندہ پیدائش ہے، جو عالمی سطح پر تشویش کا باعث سمجھی جاتی ہے۔
اعدادوشمار سے معلوم ہوا کہ سب سے زیادہ اموات نوزائیدہ بچوں میں ہوئیں، جبکہ ایک ماہ سے ایک سال اور ایک سے پانچ سال عمر کے بچوں میں بھی بڑی تعداد میں اموات ریکارڈ کی گئیں۔تحقیق کے مطابق خسرہ اس وقت سب سے خطرناک بیماری کے طور پر سامنے آیا ہے، جس کے بعد نمونیا، بیکٹیریا سے ہونے والے شدید انفیکشن، ڈینگی اور دیگر متعدی امراض نمایاں وجوہات ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ حمل اور زچگی کے دوران پیچیدگیاں، کم وزن کے ساتھ پیدائش، غذائی قلت اور بروقت طبی سہولتوں کی عدم دستیابی بھی نوزائیدہ بچوں کی جان کے لیے بڑا خطرہ بنتی ہیں۔
تحقیق میں کئی ایسے واقعات بھی سامنے آئے جن کا تعلق براہِ راست سماجی رویوں اور آگاہی کی کمی سے تھا۔ڈاکٹر مومن قاضی کے مطابق بعض نوزائیدہ بچوں کو پیدائش کے فوراً بعد ماں کا دودھ بروقت نہیں مل سکا، جبکہ کچھ خاندانوں میں ثقافتی روایات اور غلط فہمیوں کے باعث علاج میں تاخیر ہوئی، جس کے نتیجے میں بچوں کی جان نہ بچائی جا سکی۔اسی طرح کئی حادثاتی اموات بھی رپورٹ ہوئیں، جن میں بچوں کا پانی کی بالٹی، ٹینکی، گٹر یا دیگر خطرناک مقامات میں گر جانا شامل تھا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ مناسب نگرانی اور حفاظتی اقدامات سے ایسی اموات بھی روکی جا سکتی ہیں۔
تحقیق میں شامل ماہرین کے مطابق ان کا مقصد صرف اموات کی وجوہات معلوم کرنا نہیں بلکہ ان کی روک تھام کے لیے عملی اقدامات کی نشاندہی بھی ہے۔اسی مقصد کے تحت تحقیقاتی ٹیم ہر ماہ ہزاروں افراد سے ملاقات کر کے والدین کو حفاظتی ٹیکہ جات، غذائیت، نوزائیدہ بچوں کی دیکھ بھال، صفائی اور بروقت طبی امداد کی اہمیت سے آگاہ کر رہی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر بچوں کی شرحِ اموات کم کرنی ہے تو حفاظتی ٹیکہ کاری کو مزید مؤثر بنانا، حاملہ خواتین کو بہتر طبی سہولیات فراہم کرنا، غذائی قلت کا خاتمہ، بنیادی مراکزِ صحت کی استعداد بڑھانا اور والدین میں صحت سے متعلق شعور پیدا کرنا ناگزیر ہے۔ان کے مطابق خسرہ، نمونیا اور دیگر کئی بیماریاں بروقت تشخیص اور علاج سے قابلِ علاج ہیں، جبکہ متعدد حادثاتی اموات بھی صرف احتیاط اور آگاہی کے ذریعے روکی جا سکتی ہیں۔
صحتِ عامہ کے ماہرین کے مطابق بچوں کی اموات میں کمی صرف ہسپتالوں کی ذمہ داری نہیں بلکہ حکومت، طبی اداروں، مقامی انتظامیہ اور والدین کو مل کر کام کرنا ہوگا۔ مؤثر حفاظتی ٹیکہ کاری، بہتر غذائیت، محفوظ گھریلو ماحول، بروقت طبی سہولیات اور عوامی شعور میں اضافہ ہی وہ بنیادی اقدامات ہیں جو پاکستان میں ہزاروں بچوں کی جانیں بچانے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
