جنگ یا امن معاہدہ ٹرمپ آخر چاہتا کیا ہے؟

 

 

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایران کے پاس بہت کم وقت رہ گیا ہے اور وہ معاہدہ کرنا چاہتا ہے، اگر ایران نے مزید حملے کیے تو امریکا ہر حملے کے جواب میں 20 گنا زیادہ طاقت سے کارروائی کرے گا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے طیارے ایئر فورس ون میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایرانی معاہدہ کرنا بہت چاہتے ہیں اور کچھ دیر پہلے ایران کی جانب سے رابطہ بھی کیا گیا ہے لیکن مجھے نہیں معلوم کہ وہ معاہدہ کرنے کے قابل اعتماد ہیں یا نہیں۔

صدر ٹرمپ نے کہا کہ نہیں معلوم وہ معاہدے کی پابندی کریں گے یا نہیں اور اصل مسئلہ بھی یہی ہے۔

ایران پر تازہ ترین امریکی حملوں سے متعلق ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ یہ حملے آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں پر حملوں کے جواب میں کیے گئے ہیں اور ہم نے ایران کو حملوں کا کہیں زیادہ سخت جواب دیا ہے۔حالیہ حملوں کے بعد ایران نے ایک بار پھر معاہدے کی خواہش ظاہر کی ہے۔

ایران امریکا بحران، سفارتی کوششیں ناکام ہوئیں تو کیا ہوگا؟

امریکی صدر سے سوال کیا گیا کہ کیا یہ تنازع دوبارہ مکمل جنگ میں تبدیل ہوچکا ہے؟ جس پر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ مجھے نہیں معلوم، لیکن امریکا اپنے فوجی اہداف پہلے ہی حاصل کرچکا ہے۔

 

 

Back to top button