ایران امریکا بحران، سفارتی کوششیں ناکام ہوئیں تو کیا ہوگا؟

امریکا اور ایران کے درمیان ایک مرتبہ پھر بڑھتی ہوئی کشیدگی نے نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ پوری دنیا کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ چند روز قبل جنگ بندی اور سفارتی رابطوں سے پیدا ہونے والی امیدیں اس وقت دھندلا گئی ہیں جب دونوں ممالک نے ایک دوسرے کے خلاف سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے نئی فوجی کارروائیوں اور جوابی اقدامات کے اشارے دیے ہیں۔ تازہ صورتحال نے اس خدشے کو تقویت دی ہے کہ اگر کشیدگی پر بروقت قابو نہ پایا گیا تو خطہ ایک نئے اور زیادہ خطرناک تنازع کی طرف بڑھ سکتا ہے۔اگرچہ جنگ بندی کے بعد یہ توقع کی جا رہی تھی کہ قطر اور دیگر دوست ممالک کی ثالثی سے مذاکرات کا سلسلہ آگے بڑھے گا، تاہم دونوں ممالک کے درمیان بداعتمادی اس قدر گہری رہی کہ مفاہمتی عمل مضبوط بنیادوں پر استوار نہ ہو سکا۔ حالیہ امریکی حملوں، ایران کے سخت ردعمل اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے جنگ بندی کو ختم قرار دینے کے بیان نے سفارتی کوششوں کو شدید دھچکا پہنچایا ہے۔

سیاسی اور دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ بحران صرف دو ممالک کے درمیان تنازع نہیں بلکہ اس کے اثرات پورے مشرقِ وسطیٰ کی سلامتی، عالمی توانائی کی منڈیوں اور بین الاقوامی معیشت تک پھیل سکتے ہیں۔ اگر فوجی کارروائیوں کا دائرہ وسیع ہوا تو ایران اپنے علاقائی اتحادی گروپوں کو مزید متحرک کر سکتا ہے، جبکہ امریکا بھی ایرانی عسکری اور حساس تنصیبات کو نشانہ بنانے کی پالیسی اختیار کر سکتا ہے۔ ایسی صورتحال پورے خطے کو طویل عدم استحکام سے دوچار کر سکتی ہے۔

مبصرین کے بقول کشیدگی کے ابتدائی اثرات عالمی منڈی میں پہلے ہی نمایاں ہونا شروع ہو چکے ہیں۔ خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ، سرمایہ کاروں کی بے یقینی اور عالمی اسٹاک مارکیٹوں میں مندی اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ دنیا ایک نئے معاشی دباؤ کی جانب بڑھ رہی ہے۔ اگر آبنائے ہرمز جیسے اہم بحری راستے متاثر ہوتے ہیں تو توانائی کی عالمی سپلائی چین بھی شدید دباؤ کا شکار ہو سکتی ہے۔ ماہرین کے بقول پاکستان کے لیے بھی یہ صورتحال غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے۔ ملک پہلے ہی معاشی مشکلات، مہنگائی اور توانائی کے بڑھتے ہوئے اخراجات کا سامنا کر رہا ہے۔ ایسی صورت میں اگر مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی مزید بڑھتی ہے تو تیل کی قیمتوں میں اضافہ، درآمدی بل میں اضافہ، مہنگائی اور زرِمبادلہ کے ذخائر پر دباؤ جیسے مسائل مزید شدت اختیار کر سکتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ علاقائی سلامتی اور سرحدی استحکام کے حوالے سے بھی نئے چیلنجز سامنے آ سکتے ہیں۔اسی تناظر میں پاکستان مسلسل سفارتی حل، جنگ بندی اور مذاکرات کی حمایت کر رہا ہے۔ اسلام آباد قطر، سعودی عرب اور دیگر دوست ممالک کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے تاکہ دونوں فریقوں کو مذاکرات کی میز پر واپس لایا جا سکے۔ پاکستان کا مؤقف یہی رہا ہے کہ خطے میں پائیدار امن صرف سفارتکاری اور سیاسی مذاکرات کے ذریعے ہی ممکن ہے۔

بین الاقوامی سطح پر بھی اقوام متحدہ، چین، روس، یورپی ممالک اور بیشتر خلیجی ریاستیں کسی وسیع جنگ کی مخالف ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان براہ راست جنگ نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ پوری عالمی معیشت اور بین الاقوامی سلامتی کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی برادری دونوں ممالک پر تحمل اور مذاکرات کی راہ اختیار کرنے پر زور دے رہی ہے۔

ماہرین کے مطابق موجودہ بحران میں چین، پاکستان، قطر، سعودی عرب اور دیگر علاقائی ممالک اہم سفارتی کردار ادا کر سکتے ہیں۔ پہلے پس پردہ رابطوں، پھر محدود جنگ بندی اور اس کے بعد باضابطہ مذاکرات کی بحالی ہی وہ راستہ ہے جو موجودہ کشیدگی کو کم کرنے میں مؤثر ثابت ہو سکتا ہے۔ ماضی میں بھی امریکا اور ایران کے درمیان کئی بحران سفارتکاری کے ذریعے ہی حل ہوئے اور موجودہ حالات میں بھی یہی راستہ سب سے زیادہ قابلِ عمل اور دیرپا دکھائی دیتا ہے۔اگرچہ دونوں ممالک سخت بیانات اور محدود فوجی کارروائیوں کے ذریعے ایک دوسرے پر دباؤ بڑھانے کی کوشش کر رہے ہیں، تاہم مکمل جنگ کسی بھی فریق کے مفاد میں نہیں۔ سیاسی، معاشی اور عسکری نقصانات سے آگاہی ہی اس امید کو زندہ رکھتی ہے کہ بالآخر مذاکرات کی بحالی اور سفارتی رابطے ہی اس بحران کا دیرپا حل ثابت ہوں گے۔

Back to top button