جنگ بندی ٹوٹ گئی،مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر جنگ کے دہانے پر

امریکا اور ایران کے درمیان چند روز قبل ہونے والی جنگ بندی عملی طور پر دم توڑتی دکھائی دے رہی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جنگ بندی کو "ختم” قرار دینے اور ایران کے خلاف نئی فوجی کارروائیوں کے اعلان کے بعد مشرقِ وسطیٰ ایک مرتبہ پھر شدید کشیدگی کی لپیٹ میں آ گیا ہے۔ امریکی فضائی حملوں کے نتیجے میں ایران کے جنوبی ساحلی علاقوں میں متعدد دھماکوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جبکہ تہران نے بھی سخت ردعمل کا عندیہ دیتے ہوئے آبنائے ہرمز کو دوبارہ بند کرنے کی دھمکی دے دی ہے۔
ایرانی میڈیا کے مطابق امریکی حملوں میں بندر عباس، سرک، کونارک، چابہار، بوشہر اور ابو موسیٰ جزیرے سمیت کئی اہم علاقوں کو نشانہ بنایا گیا، جہاں رات بھر دھماکوں کی آوازیں گونجتی رہیں۔ چابہار میں حملوں کے بعد بجلی کی فراہمی معطل ہونے کی اطلاعات بھی سامنے آئیں، جبکہ امام علی اسپتال کے قریب بھی ایک پروجیکٹائل گرنے کی خبر دی گئی۔ تاہم ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ بوشہر کے جوہری پاور پلانٹ کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔
ادھر امریکی سینٹرل کمانڈ نے کارروائی کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ حملوں کا مقصد آبنائے ہرمز میں بین الاقوامی بحری جہازوں کو لاحق خطرات کا خاتمہ اور ایرانی عسکری صلاحیت کو محدود کرنا تھا۔ امریکی فوج کے مطابق گزشتہ کارروائیوں میں ایران کے فضائی دفاعی نظام، ساحلی نگرانی کے مراکز، ڈرون لانچ سائٹس اور پاسداران انقلاب کی ساٹھ سے زائد چھوٹی کشتیوں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نیٹو سربراہی اجلاس کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے واضح کیا کہ ایران کے ساتھ ہونے والا عبوری معاہدہ اب ختم ہو چکا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران مسلسل معاہدے کی خلاف ورزی کر رہا ہے، اس لیے مزید مذاکرات یا وقت ضائع کرنے کا کوئی فائدہ نہیں۔ ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ ایران پہلے جیسا طاقتور علاقائی کردار ادا کرنے کی پوزیشن میں نہیں رہا۔صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ ایران کے جوہری مواد تک رسائی انتہائی مشکل ہے کیونکہ وہ پہاڑوں کے اندر گہرائی میں محفوظ کیا گیا ہے۔ ان کے مطابق ایسی تنصیبات تک پہنچنے کی صلاحیت صرف امریکا کے پاس موجود ہے۔ زمینی کارروائی کے امکان پر انہوں نے کہا کہ امریکا صرف اسی صورت میں ایسا قدم اٹھائے گا جب ایران مکمل طور پر کمزور ہو جائے یا کوئی نیا معاہدہ طے پا جائے۔امریکی صدر نے ایران کے اہم تیل برآمدی مرکز خارگ جزیرے پر ممکنہ کنٹرول حاصل کرنے اور ایرانی بندرگاہوں کے گرد بحری ناکہ بندی دوبارہ نافذ کرنے کا عندیہ بھی دیا، جسے خطے میں مزید کشیدگی کا اشارہ قرار دیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب ایران نے امریکی کارروائیوں کو کھلی جارحیت قرار دیتے ہوئے سخت جواب دینے کا اعلان کیا ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ نے امریکی حملوں اور ایران کو تیل فروخت کرنے کی اجازت دینے والے لائسنس کی منسوخی کو فریم ورک معاہدے کی صریح خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ایرانی میڈیا کے مطابق امریکی حملوں میں آٹھ فوجی اہلکار جان کی بازی ہار گئے، جبکہ پاسداران انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ بحرین اور کویت میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا گیا ہے اور ایک امریکی MQ-9 ڈرون بھی مار گرایا گیا ہے۔
ایران کی سب سے بڑی دھمکی آبنائے ہرمز کی ممکنہ بندش ہے۔ تہران نے واضح کیا ہے کہ اگر امریکا نے مزید فوجی کارروائیاں جاری رکھیں تو دنیا کی سب سے اہم توانائی گزرگاہ کو مکمل طور پر بند کیا جا سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق دنیا کی تیل تجارت کا ایک بڑا حصہ اسی آبی راستے سے گزرتا ہے، اس لیے اس کی بندش عالمی معیشت کے لیے انتہائی سنگین نتائج پیدا کر سکتی ہے۔اسی خدشے کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں فوری اضافہ دیکھنے میں آیا۔ برینٹ خام تیل تقریباً آٹھ فیصد اضافے کے بعد 80 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گیا جبکہ امریکی خام تیل ڈبلیو ٹی آئی بھی نمایاں مہنگا ہو گیا۔ تیل کی قیمتوں میں اضافے کے ساتھ دنیا بھر کی اسٹاک مارکیٹوں میں شدید مندی دیکھی گئی، جبکہ پاکستان اسٹاک ایکسچینج بھی کاروبار کے آغاز سے ہی دباؤ کا شکار رہی۔
دفاعی اور معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر امریکا اور ایران کے درمیان موجودہ کشیدگی مزید بڑھی اور آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت متاثر ہوئی تو نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ پوری عالمی معیشت ایک نئے بحران میں داخل ہو سکتی ہے۔ فی الحال دنیا کی نظریں واشنگٹن اور تہران کے اگلے اقدامات پر مرکوز ہیں، کیونکہ آنے والے چند دن خطے کے مستقبل کا تعین کرنے میں انتہائی اہم ثابت ہو سکتے ہیں۔
