غدار کا بیٹا

تحریر:حامد میر
بشکریہ: روزنامہ جنگ
بچپن کی کچھ یادیں آج بھی میرا پیچھا کرتی ہیں۔ میں جب بھی کوئی نعت یا حمد باری تعالیٰ سنتا ہوں تو مجھے اپنے دادا میر عبدالعزیز یاد آ جاتے ہیں جو ایک نعت گو شاعر تھے۔ ایک دفعہ دادا جی کسی مشاعرے میں شرکت کیلئے سیالکوٹ سے لاہور آئے۔ برکت علی اسلامیہ ہال میں مشاعرہ رات گئے تک جاری رہا۔ مشاعرہ ختم ہونے کے بعد دادا جی نے رات دیر سے ہمارے گھر آنا مناسب نہ سمجھا اور کچھ دیگر شاعروں کے ہمراہ وہیں اپنا دیوان سرہانے رکھ کر سو گئے۔ فجر کے وقت وضو کیلئے ہال سے باہر گئے۔ واپس آئے تو ان کا دیوان غائب تھا۔ بہت تلاش کیا لیکن یہ دیوان نہیں ملا۔ یہ ایک بڑے سائز کی نوٹ بک تھی جس میں دادا جی کی فارسی، اردو اور پنجابی میں لکھی گئی شاعری تھی۔دیوان کی گمشدگی کے بعد وہ اپنے بیٹے پروفیسر وارث میر کے ہاں پہنچے تو وہ یونیورسٹی جانے کی تیاری کر رہے تھے۔ ہم دادا جی کو دیکھ کر بہت خوش ہوئے کیونکہ وہ ہمیشہ ہمارے لئے مٹھائی لیکر آتے تھے۔ آج خالی ہاتھ تھے۔ پریشان بھی تھے۔ سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ آخر اُنکی ایسی کون سی قیمتی شے چوری ہو گئی ہے جس پر ان سے زیادہ میرے والد افسوس کر رہے تھے۔ میں سکول چلا گیا۔ واپس آیا تو دادا جی سیالکوٹ جا چکے تھے۔ والد صاحب کچھ کاغذات جمع کرکے ایک فائل بنا رہے تھے۔ پتہ چلا کہ وہ اخبارات کے دفاتر میں جا رہے ہیں تاکہ دادا جی کے گمشدہ دیوان کے بارے میں اشتہارات دیئے جائیں۔ میرا تجسس بڑھ گیا کہ دیوان میں ایسا کیا ہے جسکی تلاش بہت ضروری ہے۔ میں دوسری یا تیسری جماعت کا طالب علم تھا۔ میں بھی زبردستی والد صاحب کے ساتھ ہو لیا۔ سب سے پہلے ہم چیئرنگ کراس کے سامنے شارع فاطمہ جناح پر ایک اخبار کے دفتر گئے۔ وہاں جو بھی میر عبدالعزیز کے دیوان کی گمشدگی کے بارے میں سنتا افسوس کا اظہار کرتا۔ اب مجھے احساس ہوا کہ یہ کوئی بہت قیمتی چیز تھی۔ کریسنٹ پبلسٹی سروس والے شیخ عبدالرحمان نے کچھ اخبارات میں اشتہار لگوانے کا ذمہ خود لے لیا اور والد صاحب مجھے لیکر دیگر اخبارات کی طرف روانہ ہو گئے۔ پاکستان ٹائمز کے دفتر میں محمد ادریس صاحب نے میرے والد سے کہا کہ میر صاحب یہ چوری کا مقدمہ ہے اور چور کوئی اور نہیں بلکہ کوئی شاعر ہے جو میر عبدالعزیز کی شاعری اپنے نام سے سنایا کرے گالہٰذا میں متعلقہ تھانے میں رپٹ درج کروا رہا ہوں۔ والد صاحب نے ادریس صاحب کو بتایاکہ گمشدہ دیوان میں زیادہ تر شاعری فارسی میں ہے لہٰذا چور کو خاصی مایوسی ہوگی۔ میرے والد کافی دن تک دوڑ بھاگ کرتے رہے لیکن دادا جی کی گمشدہ شاعری کو بازیاب نہ کروا سکے۔1978ء میں والد صاحب اعلیٰ تعلیم کیلئے برطانیہ چلے گئے تو دادا جی ہمارے پاس لاہور آ گئے۔ انہوں نے مجھے قرآن پڑھانا شروع کر دیا۔کیونکہ میں کئی مولوی صاحبان کی سختی کے خلاف بغاوت کر چکا تھا۔دادا جی کوئی سختی نہیں کرتے تھے اور نرمی سے قرآن پڑھاتے۔ وہ فی سبیل اللہ حکمت بھی کرتے تھے۔ لوگ ان کے پاس سانپ کے کاٹے کا علاج کرانے آتے۔ وہ اس علاج کیلئے جڑی بوٹیوں کی تلاش میں نکلتے تو کبھی کبھی میں بھی ان کے ساتھ چلا جاتا۔ ایک دفعہ گرمیوں کی چھٹیوں میں ہم سیالکوٹ گئے تو میرے تایا انور میر صاحب مجھے پاک بھارت سرحد کے قریب واقع علاقے بڈیانہ کے ایک گاؤں سدھار والی لے گئے۔اس گاؤں میں ہمارے خاندان کے بہت سے لوگ رہتے تھے۔ یہاں ایک بزرگ حضرت بابا کرم علی شاہ صاحب کا مزار ہے۔ میرے پردادا امام دین میر اس بزرگ کےپاس حصول تعلیم کیلئے مقبوضہ جموں وکشمیر کے علاقے بانہال سے آئے تھے۔ بانہال سرینگر اور جموں کے درمیان واقع ہے جسکی زیادہ آبادی کشمیری زبان بولتی ہے۔ امام دین میر کے خاندان کے کئی افراد کرم علی شاہ صاحب کے شاگرد تھے۔ امام دین میر کے خاندان کے زیادہ تر افراد بانہال میں ہی رہتے تھے۔ قیامِ پاکستان سے قبل وہ بانہال آتے جاتے تھے لیکن کرم علی شاہ صاحب کی سدھار والی میں وفات کے بعد واپس بانہال نہیں گئے۔امام دین میر کے والد کا نام کرم دین میر تھا۔ امام دین میر بہت چھوٹے تھے جب کرم دین میر کا انتقال ہو گیاتو انکی پرورش میربخش میر نے کی جو کرم علی شاہ صاحب کے مرید تھے۔ انہوں نے امام دین میر کو کرم علی شاہ صاحب کے سپرد کر دیا۔ امام دین میر اپنے والد کی اکلوتی اولاد تھے اور کرم علی شاہ صاحب کو ہی اپنا سب کچھ سمجھتے تھے اس لئے ساری جائیداد بانہال میں چھوڑ آئے۔انہوں نے اپنے تینوں بیٹوں عبدالعزیز میر، فیروز دین میر اور عبدالمجید میر کو دنیاوی تعلیم سے آراستہ کیا۔ عبدالعزیز میر ایک ہمہ جہت شخصیت تھے۔ انہیں فارسی اور عربی پر بہت عبور حاصل تھا ۔انہوں نے کسی مدرسے کا استاد بننے کی بجائے ایک بیکری بنائی جو سیالکوٹ چھاؤنی اور انگریزوں کے ایک سرکس میں برطانوی فوج کے افسران کو کیک سپلائی کرتی تھی۔ انہیں پہلوانی کا بھی شوق تھا اور جموں سے گوجرانوالہ تک عزیز حلوائی پہلوان کے طور پر بھی مشہور تھے۔تحریکِ پاکستان نے زور پکڑا تو وہ آل انڈیا مسلم لیگ کے جلسوں میں نعتیں اور نظمیں سنانے لگے ۔ پھر انہوں نے انگریزوں کے ساتھ کاروبار بند کر دیا۔ انہوں نے رنگپورہ روڈ پر میر سویٹ ہاؤس کے نام سے اپنا کاروبار شروع کیا۔ لیکن زیادہ وقت مشاعروں میں گزارتےتھے اس لئے کاروبار ترقی نہ کر سکا۔ انہوں نے بڑے بیٹے انور میر کو اپنے ساتھ کام پر لگایا اور چھوٹے بیٹے وارث میر کو تعلیم دلانا شروع کر دی۔ وارث میر سکول بھی جاتےاور رنگپورہ روڈ پر حافظ انتظار صاحب سے دینی تعلیم بھی حاصل کرتے۔ حافظ انتظار صاحب کی مسجد میں وارث میر اذان بھی دیا کرتے ۔ وارث میر مرے کالج سیالکوٹ میں پہنچے تو کالج میگزین کے ایڈیٹر بن گئے۔ ایک دن انہوں نے مضمون لکھ کر نوائے وقت کو بھجوایا توحمید نظامی نے انہیں خود خط لکھ کر نوائے وقت میں ملازمت کی پیشکش کر دی۔ وارث میر نے لاہور میں نوکری کے ساتھ تعلیم بھی مکمل کی۔ وارث میر کا خاندان اور علامہ اقبال کا خاندان شیخ نورالدین ولی ؒ (چرارشریف) اور سائیں عبداللہ قادری ؒ کے ساتھ گہرا روحانی تعلق رکھتا تھا۔ سائیں عبداللہ قادریؒ کا مزار اڈا پسروریاں سیالکوٹ کے پاس ہے۔ سائیں عبداللہ قادری ؒ گوجرانوالہ کے ایک بزرگ خواجہ محمد عمر بخش قادری ؒکے خلیفہ اول تھے۔ڈاکٹر جہانگیر تمیمی نے اپنی کتاب”اقبال ،صاحبِ حال “میں پروفیسر وارث میر کے حوالے سے لکھا ہے کہ علامہ اقبال کے والد شیخ نور محمد ماہ محرم میں گوجرانوالہ جاتے اور خواجہ محمد عمر بخش قادری ؒ کے مزار پر حاضری دیتے۔ اقبال کی رسم بسم اللہّٰ خواجہ محمد عمر بخش قادریؒکی گود میں ہوئی تھی۔ حضرت کرم علی شاہ صاحب سے بھی اس بزرگ کا تعلق تھا۔ ہر سال 22جون کو سردھاروالی میں حضرت کرم علی شاہ صاحب کا بھی عرس ہوتا ہے۔ وارث میر ان دونوں بزرگوں کے علاوہ حضرت علی ہجویری ؒ اور مزنگ لاہور میں حضرت سخی سرور ؒکے مزار پر بھی حاضری دیتے تھے۔ یہ وارث میر کا وہ خاندانی پس منظر ہے جس میں سے ایک ایسی سوچ نے جنم لیا جو پاکستان کو علامہ اقبال اور قائدِاعظم کی تعلیمات کی روشنی میں ایک حقیقی اسلامی جمہوریہ بنانا چاہتی تھی۔ پاکستان میں جب بھی کسی ڈکٹیٹر کی حکومت آئی تو وارث میر نے فوجی ڈکٹیٹر شپ کو پاکستان کا سب سے بڑا دشمن قرار دیا۔ لہٰذا ڈکٹیٹروںنے تحریک پاکستان کے کارکن میر عبدالعزیز کے بیٹے وارث میر کو غدار قراردیکراپنے قومی جرائم پر پردہ ڈالنے کی کوشش کی۔ وارث میر کو غدار قرار دینے کا سلسلہ انکی موت کے بعد بھی جاری ہے۔ 2020 میں تحریک انصاف کے ایک وزیر نے کسی جنرل کے حکم پر وارث میر کو غدار قرار دیااور وزیراعلیٰ عثمان بزدار نے نیوکیمپس کے قریب وارث میر انڈر پاس کا نام بدل دیا۔اس واقعے کے خلاف پنجاب اسمبلی اور سندھ اسمبلی نے متفقہ قراردادوں کے ذریعے وارث میر پر غداری کے الزامات رد کرتے ہوئے جمہوریت اور آزادی اظہار کیلئے خدمات پر انہیں خراجِ تحسین پیش کیا۔کسی کو اچھا لگے یا بُرا لیکن مجھےتحریک پاکستان کے کارکن اورایک نعت گو شاعر کا پوتا ہونے اور فوجی ڈکٹیٹروں کی طرف سے غدار قرار دئیے جانیوالے وارث میر کا بیٹا ہونے پر فخر ہے۔
