مکتوب واشنگٹن

تحریر: حماد غزنوی
بشکریہ: روزنامہ جنگ
جہاز میں ہمارے برابر میں بیٹھے ہوئے ہیں چیتن اگروال، عمر تیس سال، وطن مالوف سورت، بھارتی گجرات ہےمگر اب امریکی شہری ہیں اور واشنگٹن ڈی سی میں کنسٹرکشن کا کام کرتے ہیں۔ گفتگو جاری ہے، ہم نے مودی جی کی سیاست سے متعلق استفسار کیا، ہندوتوا اور مسلمانوں کی طرف بی جے پی کے رویے کی طرف ہلکا سا اشارہ کیا، اڈانی امبانی جیسے سرمایہ داروں اور مودی جی کے اتحاد کے بھارتی جمہوریت پر اثرات بارے سوال کیا، بھارتی میڈیا کی حالت پر روشنی ڈالنے کی درخواست کی۔ چیتن صاحب نے مختصر اور” جامع” جواب دیا۔ "مودی جی doer ہیں، گجرات میں انہوں نے کر کے دکھایا تھا، اب بھی وہ کر کے دکھا رہے ہیں۔” یہ کہہ کر چیتن نے آنکھیں موند لیں۔ ہم دونوں متنازع باتوں سے پرہیز کر رہے ہیں۔ سچی بات ہے کہ ہمارے دل میں مسلسل یہ خواہش کلبلا رہی ہے کہ گفتگو میں کہیں سے "رافیل” کا ذکر خیر آ جائے مگر ایسا ہو نہیں پا رہا۔ ہم نے بھارتی کرکٹ ٹیم کی شکتی کا ذکر اس امید پر کیا کہ کہ وہ شاید شدت جذبات سے مغلوب ہو کر کوئی سخت بات کریں تو ہمیں بھی جواباً مئی 2025 کے تذکرے کا موقع مل جائے۔ مگر وہ ستّو منش نکلے (فلائٹ میں کھانا بھی خالص ویجی ٹیرین کھا رہے تھے)۔ الٹا اپنی ٹیم کی آئرلینڈ سے تازہ شکست کا چرچا کرنے لگے۔ یعنی کسی طرح ہمارے دام میں گرفتار نہ ہوئے۔ آخر ہم مایوس ہو گئے، خاموش ہو گئے۔امریکا تک کا سفر قریباً 24 گھنٹے طویل ہے، مگر خلیج سے واشنگٹن تک کی 13 گھنٹے کی فلائٹ تو آدمی کا پلیتھن نکال دیتی ہے، کھانا، چائے، کافی، جوس، فلمیں، ٹائلٹ، سب مراحل سے گزر کر گھڑی دیکھی ہے تو ابھی آدھا سفر باقی ہے۔ پہلی دفعہ احساس ہوا کہ بھرے ہوئے پیٹ کے باوجود ہم کھانا اس لیے کھا رہے ہیں کہ کچھ وقت کٹ جائے گا۔ زمین پر ہم نے کبھی ٹائم کِل کرنے کیلئے کھانا نہیں کھایا، غالباً کسی نے بھی نہیں کھایا ہو گا۔ خدا خدا کر کے جہاز واشنگٹن ڈی سی پر اترنا شروع ہوا تو چیتن اگروال صاحب نے ایئرپورٹ کے قریب ایک عمارت کی تصویریں اتارنا شروع کر دیں، بہت سی تصویریں اتار کر انہوں نے ہماری طرف دیکھا اور مسکرا کر بتانے لگے کہ یہ ایک ڈیٹا سنٹر ہے جو ان کی کمپنی نے تعمیر کیا ہے۔ پھر بتانے لگے کہ ورجینیا ایش برن کا یہ علاقہ دنیا بھر میں ڈیٹا سینٹرز کا سب سے بڑا مرکز ہے۔ ہم نے بات چیت آگے بڑھانے کیلئےپوچھا کہ سنتے ہیں ان ڈیٹا سنٹرز کی عوامی مخالفت بڑھتی جا رہی ہے کیوں کہ یہ ڈیٹا سنٹرز بے پناہ بجلی اور کثرت سے پانی استعمال کرتے ہیں، مسلسل آواز دیتے ہیں، علاقے کی خوبصورتی بھی گہنا دیتے ہیں، وغیرہ وغیرہ۔ چیتن نے سیٹ بیلٹ باندھتے ہوئے اطمینان سے کہا یہ اربوں ڈالر کا کھیل ہو رہا ہے، اور طاقتوروں کے نزدیک یہ بجلی پانی ماحول وغیرہ معمولی باتیں ہیں۔ائرپورٹ سے باہر نکلے تو غضب کی لُو چل رہی ہے، درجہ حرارت دیکھا تو "فیل لائیک” 45 ڈگری سینٹی گریڈ ہے، لاہور کا موسم چیک کیا تو واشنگٹن سے کم گرمی ہے۔ یہاں سورج کی تمازت کچھ زیادہ ہی ہوتی ہے، مگر پچھلے کچھ برسوں میں تو ناقابل برداشت ہوتی جا رہی ہے۔ دھوپ کاٹتی ہے۔ درخت اور سبزہ تو اس علاقے میں قابل رشک ہیں مگر درجہ حرارت کچھ برسوں سے مسلسل بڑھتا جا رہا ہے۔ وجوہات میں ان گنت گاڑیاں، ائر کنڈیشنرز کی کثرت، کنکریٹ عمارتوں کی کثرت، آبادی میں اضافہ وغیرہ بتایا جا رہا ہے۔ وجہ جو بھی رہی ہو، ڈی سی دہک رہا ہے، اور سن بلاک کے بغیر چھاؤں میں بیٹھنا بھی خطرے سے خالی نہیں۔ بہرحال، اسی موسم میں امریکا میں فٹ بال ورلڈ کپ کے میچز ہو رہے ہیں، اور سٹیڈیم کھچا کھچ بھرے ہوئے ہیں۔ ہم نے بھی سوچا یہ ایک تاریخی موقع ہے اور ہمیں بھی یادگار کے طور پر ایک آدھ میچ دیکھنا چاہیے۔ اور پھر اگر دیکھنا ہی ہے تو کیوں نہ فائنل میچ دیکھا جائے۔ لہٰذا اپنی میزبان، اپنی پیاری بیٹی تعبیر سے اپنی اس خواہش کا اظہار کیا، تھوڑی دیر بعد تعبیر نے قدرے ہچکچاتے ہوئے بتایا کہ فائنل میچ کی اچھی ٹکٹ ذرا مہنگی ہے، یہی کوئی ایک لاکھ ڈالر کی، یعنی قریبا ً تین کروڑ روپے کی۔ یعنی گھر بیچ کر میچ دیکھا جا سکتا ہے۔ ٹکٹ کی قیمت سن کر طبیعت سمجھوتے پر آمادہ ہو ئی تو سب سے سستی ٹکٹ کی قیمت دریافت کی،وہ مبلغ 10 ہزار ڈالر کی نکلی یعنی 30 لاکھ روپے کی، ہمارا نہ کرپٹو کرنسی کا کاروبار ہے نہ پاپا جونز پیزے کا، لہٰذا حالات نے مزید سمجھوتے پر مائل کیا، اور اب یہی طے ہوا ہے کہ فائنل پوپ کارنز کی ہمراہی میں گھر کے لاؤنج میں ہی دیکھا جائے گا۔فٹ بال ورلڈ کپ دیکھنے کیلئے یورپ سے جو فینز امریکا آئے ہوئے ہیں انکے امریکا بارے تاثرات میں میچ کی ٹکٹوں کی ہوش ربا قیمت کے ساتھ ساتھ جو چیز سب سے نمایاں ہے وہ یہاں ریستورانوں میں بکنے والے کھانوں کی مقدار ہے۔ ہر ڈش کا پورشن مضحکہ خیز حد تک بڑا ہے، یورپ سے کم از کم چار گنا زیادہ بڑا اور کولڈ ڈرنک اور کیچ اپ کے لامحدود ری فِلز۔ جبکہ یورپ کا معاملہ یک سر مختلف ہے۔ یورپ کی "فیاضی” کی نسبت سے ہمارا تجربہ بھی خاصا سبق آموز ہے۔ بہت سال ہوئے پہلی دفعہ پیرس پہنچتے ہی ہم نے ریلوے سٹیشن پر چائے کا کپ خریدا۔ ہمیں چائے کا کپ دے دیا گیا، مگر دکان دار دودھ دینا بھول گیا، ہم نے یاد دہانی کرائی تو ہمیں اطلاع دی گئی کہ چائے چائے ہے اور دودھ دودھ۔ اگر دودھ لینا ہے تو اس کی قیمت علاحدہ ادا کریں۔ ایک جگہ سے برگر خریدا تو ساتھ کیچ اپ نہیں تھی، اسکے ساشے الگ سے خریدے۔ ایک ریستوران میں واش روم جانے لگے تو بتایا گیا کہ پہلے”اٹھنی” ادا کریں، ورنہ "ضبط نفس” کا مظاہرہ کریں۔ لہٰذا اگر یورپی سیاحوں کو امریکا میں کثرت خوراک اور ایک عمومی کھلے پن کا احساس ہو رہا ہے تو قابل فہم ہے۔بہرحال، تصویر کا دوسرا رخ یہ ہے کہ اس "سخاوت” کے نتیجے میں سالانہ 100 ملین ٹن سے زیادہ خوراک، جسکی مالیت قریباً 400 بلین ڈالر ہے، ضائع ہو جاتی ہے جس سے 10 کروڑ انسانوں کو ایک سال کھانا کھلایا جا سکتا ہے۔ کچھ علاج اس کا بھی اے شیشہ گراں ہے کہ نہیں؟

 

Check Also
Close
Back to top button