ایران اور امریکہ کا ’’لو اینڈ ہیٹ‘‘ ریلیشن

تحریر: محمد بلال غوری
بشکریہ: روزنامہ جنگ
اسلام آباد مفاہمتی یادداشت سے متعلق خدشات درست ثابت ہوئے اور امریکہ و ایران کے درمیان لڑائی کا پھر سے آغاز ہوگیا ہے۔دراصل ایران اور امریکہ کے درمیان ہمیشہ ’’لو اینڈ ہیٹ ‘‘ریلیشن شپ رہا ہے۔شاہ ایران نے تو امریکہ کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھایا مگر امریکی انتظامیہ نے زیادہ گرمجوشی کا مظاہرہ نہ کیا۔سویت یونین کے توسیع پسندانہ عزائم کے پیش نظر پاکستان ،ایران ،عراق،ترکی اوربرطانیہ نے 1955ء میں بغداد پیکٹ نامی دفاعی معاہدے پر دستخط کیے جو آگے چل کر سینٹرل آرگنائزیشن ٹریٹی یعنی ’’سینٹو‘‘ کہلایا۔14جولائی 1958ء کو اس حوالے سے ہونیوالے ایک خصوصی اجلاس میں شرکت کیلئے صدر پاکستان اسکندر مرزا،کمانڈر انچیف جنرل ایوب خان کے ہمراہ استنبول میں موجود تھے ۔شاہ ایران محمد رضا شاہ پہلوی بھی اس اجلاس میں شرکت کیلئے موجودتھے۔اچانک خبر ملی کہ عراقی فوج کے کیمونزم سے متاثر فوجی افسروں نے ہاشمی حکومت کے خلاف بغاوت کردی ہے اورعراقی فرمانرواشاہ فیصل ثانی کو شاہی خاندان کے تمام افراد اور عراقی وزیراعظم نوری السعید سمیت قتل کردیا گیا ہے۔ شاہ ایران جو پہلے ہی اشتراکیت سے خوف زدہ تھے ،انہوں نے افواج پاکستان کے سربراہ جنرل ایوب خان کو پیشکش کی کہ ایران اور پاکستان پر مشتمل فیڈریشن تشکیل دی جائے ،دونوں ممالک کی ایک ہی فوج ہو،ایوب خان سپہ سالار ہوں اور محمد رضا شاہ پہلوی بادشاہ۔شاہ ایران کے پاکستان کے صدر اسکندر مرزا سے بہت قریبی مراسم تھے مگر انہیں معلوم تھا کہ اصل حکمران جنرل ایوب خان ہیں ۔چنانچہ انہوں نے ایران اور پاکستان پر مشتمل کنفیڈریشن تشکیل دینے کی پیشکش کی ۔یہ تجویز محض سرسری نوعیت کی نہیں تھی کیونکہ تب مصر اور شام نے یونائیٹڈ عرب ری پبلک کے نام سے اتحاد کررکھا تھا ،عراق اور اردن کنفیڈریشن شمار ہوتے تھے ۔ترکی نیٹو میں شامل ہوچکا تھا ،پاکستان اور ایران دو ایسے اہم ممالک تھے جنکی کوئی صف بندی نہیں تھی مگرایوب خان نے شاہ ایران کی اس بات کا کوئی حتمی جواب نہ دیا اور پاکستان واپس آکر بھی شاہ ایران کی پیشکش سے متعلق کسی کو کچھ نہ بتایا ۔عراق میں بغاوت کی تفصیل کچھ یوں ہے کہ وہاں شریف مکہ کے پوتے شاہ فیصل حکمران تھے جو اردن میں تخت نشین شاہ حسین کے کزن تھے۔شاہ حسین نے شاہ فیصل کے ساتھ مشترکہ دفاع کے معاہدے پر دستخط کر رکھے تھے جولائی 1958ء میں شاہ فیصل نے 42سالہ میجر جنرل عبدالکریم قاسم کی سربراہی میں فوجی دستے اردن روانہ کیے تاکہ شاہ حسین کے خلاف ممکنہ بغاوت کو کچلا جا سکے۔ عبدالکریم قاسم کی قیادت میں اردن کی طرف پیشقدمی کر رہی فوج نے اچانک منزل تبدیل کرکے واپس بغداد کا رُخ کرلیا۔میجر جنرل عبدالکریم قاسم اور کرنل عبدالسلام عارف کی قیادت میں یہ فوجی دستے14جولائی 1958ء کی صبح بغیر کسی مزاحمت کے بغداد میں داخل ہوگئے اور اہم عمارتوں اور سرکاری دفاتر پر قبضہ کرلیا۔ایک شاہی باورچی جو جان بچا کر انقرہ کی طرف فرار ہونے میں کامیاب ہوا اس نے فوجی انقلاب کی رودادد سنائی تو یہ تفصیل ٹائم میگزین میں شائع ہوئی۔ عراق میں عنانِ اقتدار پر قابض باغی فوجی افسروں میجر جنرل عبدالکریم اور کرنل عبدالسلام عارف نے بغدادپیکٹ دفاعی معاہدے سے الگ ہونے کا اعلان کیا توامریکی وائٹ ہائوس اور پینٹا گان میں خطرے کی گھنٹی بج گئی۔

پاکستان کی طرف سے مایوس ہونے کے بعد شاہ ایران نے امریکہ سے اُمیدیں وابستہ کرلیں مگر وہاں سے بھی کچھ نہ ملا ۔9مارچ 1956ء کو بغداد پیکٹ سے متعلق کراچی میں ہونے والے اجلاس کے دوران شاہ ایران کی گورنر جنرل ہائوس میں امریکی وزیر خارجہ John Dullesسے ملاقات ہوئی جس میں شاہ ایران نے ایران کی جغرافیائی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ ایران دنیا کے نقشے پر بہت اہم ملک ہے لہٰذا امریکہ اسے اپنا دفاع مضبوط بنانے کیلئے 75ملین ڈالر سالانہ امداد دے ۔امریکی وزیر خارجہ نے ، کہا ہر ملک کا یہی دعویٰ ہے ،حتیٰ کہ میزبان ملک یعنی پاکستان کا بھی یہی موقف ہے کہ وہ سویت یونین کیخلاف بہت اہم مورچہ ہے ۔امریکہ کی طرف سے مسلسل نظر انداز کیے جانے کے باوجود شاہ ایران مایوس نہ ہوئے۔معروف مصنف Dilip Hiro اپنی کتاب Iran under the ayatollahsمیں لکھتے ہیں کہ جولائی 1958ء میں عراقی بادشاہ فیصل دوئم کے خلاف فوجی بغاوت کے بعد شاہ ایران نے امریکی صدر آئزن ہاور سے رابطہ کیا اوردو طرفہ دفاعی معاہدہ کرنے کو کہا مگر امریکی صدر نے انکار کردیا۔قیام پاکستان کے بعد مئی 1950ء میں ایران کے ساتھ فرینڈ شپ ٹریٹی اور پھر مارچ 1956ء میں کلچرل ٹریٹی پر دستخط کیے گئے۔افغانستان کے ساتھ پاکستان کا سرحدی تنازع چل رہا تھا مگر ایران جسکے ساتھ پاکستان کی 909کلومیٹر طویل سرحد ہے ،یہاں کسی قسم کا اختلاف رائے نہ ہوا اور6فروری 1958ء کو سرحدی حد بندی پر اتفاق ہوگیا۔بعد ازاں جنرل ایوب خان بزعم خود فیلڈ مارشل بن گئے اور صدر اسکندر مرزا کوگھر بھیج کر عنان اقتدارپر قبضہ کرلیا تو اسکے بعد بھی شاہ ایران کی طرف سے پاکستان کی طرف پیشقدمی کا سلسلہ جاری رہا۔ایوب خان نے1959ء میں 9سے18نومبر تک ایران کا8روزہ سرکاری دورہ کیا ۔ایوب خان کا ایران میں نہایت پرتپاک استقبال ہوا،وہ کئی شہروں میں گئے ،مشہد ،اصفہان اور شیراز میں ہونیوالی تقریبات میں شرکت کی ،امام رضا کے روضہ پر حاضری دی،انہوں نے اسپورٹس فیسٹیول دیکھے ،ملٹری ڈرل کا معائنہ کیا ،تہران یونیورسٹی نے انہیں اعزازی ڈگری دی ۔اس موقع پر تقریریں کرتے ہوئے ،ایوب خان نے کہا ،آپ کا اور ہمارا عقیدہ ہی نہیں ثقافت اور تہذیب ایک ہے،آپکا لٹریچر ہمارا ادب ہے،آپکے ہیروز ہمارے ہیروز ہیں ،آپکے دوست ہمارے دوست اور آپکے دشمن ہمارے دشمن ہیں ۔پوری دنیا کی نظریں اس دورے پر مرکوز تھیں مگر بعد ازاں جب ایوب خان نے عرب ممالک سے دوستی اور تعلقات بڑھائے تو شاہ ایران کسی حد تک خفا ہوگئے۔بعد ازاں شاہ ایران محمد رضا شاہ پہلوی 24فروری 1965ء کو پاکستان آئے توان کا فقید المثال استقبال ہوا۔

 

Check Also
Close
Back to top button