” بارلے“ مری کے بڑے دشمن!

تحریر: انصار عباسی
بشکریہ: روزنامہ جنگ
مری کے مقامی لوگ عموماً سور یا وائلڈ بور کا نام لینے سے گریز کرتے ہیں۔ مری میں ایک عام تصور پایا تجاتا ہے کہ سور کا نام لینے سے زبان ناپاک ہو جاتی ہے اور چالیس دن بعد پاک ہوتی ہے۔ یہ تصور شاید دینی اعتبار سے درست نہیں۔ اسلام نے سور کا گوشت کھانے کو حرام قرار دیا ہے، محض اس کا نام لینے سے کوئی شرعی ناپاکی کا مجھے علم نہیں۔ تاہم چونکہ یہ بات مری کے مقامی عوام میں رائج ہے، اس لیے مری کے لوگ سور کو “بارلے” کہہ کر پکارتے ہیں۔ اگر آپ مری کے کسی بھی مقامی باشندے سے گفتگو کریں اور یہاں کی مشکلات کا ذکر کریں گے تو چند ہی لمحوں میں وہ “بارلے” کا ذکر ضرور کرے گا۔ مری کی دیہی علاقوں میں شاید ہی کوئی گھر ایسا ہو جو ان سے متاثر نہ ہوا ہو۔ مقامی لوگوں کی سب سے بڑی شکایت یہی ہے کہ ان جانوروں کی تعداد اس قدر بڑھ چکی ہے کہ انہوں نے لوگوں کا جینا دوبھر کر دیا ہے۔ رات کے اندھیرے میں یہ جنگلوں سے نکل کر آبادیوں میں داخل ہوتے ہیں۔ کھیت، باغات اور سبزیوں کے قطعے ان کا آسان ہدف بنتے ہیں۔ یہ صرف فصلیں نہیں کھاتے بلکہ پورے کھیت کو اجاڑ کر رکھ دیتے ہیں۔ سبزیوں کو جڑوں سمیت اکھاڑ دیتے ہیں، پھلدار پودوں کو نقصان پہنچاتے ہیں اور محنت سے تیار کی گئی فصل چند گھنٹوں میں برباد کر دیتے ہیں۔ نتیجہ یہ نکلا ہے کہ بہت سے لوگوں نے سبزیاں اگانا ہی چھوڑ دی ہیں۔ کئی کسان اب کھیتی باڑی کو نقصان کا سودا سمجھنے لگے ہیں۔ جو فصل آخرکار ان “بارلے” والوں کی نذر ہو جانی ہو، اس پر محنت اور سرمایہ کیوں لگایا جائے؟ یہ مسئلہ صرف چند فصلوں کے نقصان تک محدود نہیں بلکہ مقامی معیشت پر براہِ راست حملہ ہے۔ مری کے بیشتر رہائشی غریب اور متوسط طبقے سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان کی آمدنی کا ایک اہم ذریعہ چھوٹے باغات، سبزیاں، مکئی، آلو اور دیگر مقامی فصلیں ہیں۔ جب یہی ذریعہ معاش بار بار تباہ ہو تو اس کا مطلب صرف زرعی نقصان نہیں بلکہ گھریلو آمدنی، بچوں کی تعلیم اور پورے خاندان کے مستقبل پر ضرب لگنا ہے۔ اس کے علاوہ یہ “بارلے” انسانوں کے لیے بھی خطرہ بن چکے ہیں اور اکثر شکایت کی جاتی ہے کہ لوگوں پر حملہ بھی کرتے ہیں۔ چند دہائیاں پہلے تک مری کے جنگلات میں ان “بارلے” والوں سے پاک تھے۔ ماضی میں ان کی موجودگی کا کبھی ذکر نہیں سنا۔ لیکن کچھ عرصہ سے یہ ہمارے جنگلوں میں نجانے کہاں سے آ گئے اور اب ان کی اتنی تعداد بڑھ چکی ہے کہ یہ مری کے لیے بڑا خطرہ بن چکے ہیں۔ یہ کہاں سے آ گئے؟ ان کی تعداد میں اتنا غیر معمولی اضافہ کیوں ہوا؟ کیا ان کے قدرتی شکاری ختم ہو گئے ہیں؟ کیا جنگلات کے ماحول میں کوئی تبدیلی آئی ہے؟ یا پھر اس کے پیچھے کوئی اور وجہ ہے؟ ان سوالات کے جواب ماہرین جنگلی حیات کو تلاش کرنے چاہییں، لیکن جب تک جواب ملتے ہیں تب تک مری کے لوگوں کو تنہا نہیں چھوڑا جا سکتا۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ عام آدمی ان جنگلی سوروں کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔ نہ اس کے پاس وسائل ہیں نہ ہی ایسے خطرناک جانوروں سے نمٹنے کی صلاحیت۔ معمولی باڑیں، دیواریں یا حفاظتی انتظامات بھی ان کے سامنے زیادہ دیر نہیں ٹھہرتے۔ اس لیے یہ مکمل طور پر حکومت کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اس مسئلے کا حل نکالے۔ میری رائے میں اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت پنجاب اس مسئلے کو ہنگامی بنیادوں پر لے۔ محکمہ جنگلی حیات، محکمہ زراعت اور ضلعی انتظامیہ مل کر ایک جامع منصوبہ بنائیں۔ ان جنگلی سوروں کی تعداد کم کرنے کے لیے خصوصی مہم چلائی جائے اور ان کی پکڑ یا تلفی کے لیے مناسب انعامی رقم بھی مقرر کی جائے تاکہ مقامی سطح پر بھی اس مہم میں مدد مل سکے۔ اس کے ساتھ حکومت ایسے ممالک سے بھی بات کرے جہاں سور کے گوشت کی قانونی مارکیٹ موجود ہے، خصوصاً چین۔ اگر ملکی قوانین، بین الاقوامی ضابطوں، ویٹرنری تقاضوں اور برآمدی شرائط کے مطابق ایسا ممکن ہو تو ان جنگلی سوروں کو پکڑ کر یا قانونی طریقے سے ان کی برآمد کا کوئی انتظام کیا جائے۔ اگر چین یا کوئی اور ملک انہیں خریدنے میں دلچسپی رکھتا ہے تو انہیں وہاں بھیج دیا جائے۔ وہاں وہ ان کا جو استعمال کرنا چاہیں کریں، لیکن مری کے لوگوں کو اس مستقل عذاب سے نجات ملنی چاہیے۔ مری کے لوگوں کو اس سے کوئی سروکار نہیں کہ ان جانوروں کا بعد میں کیا ہوتا ہے۔ ان کی خواہش صرف اتنی ہے کہ ان کے کھیت محفوظ رہیں، ان کے باغات آباد رہیں، ان کی سبزیاں تباہ نہ ہوں اور ان کی محنت ہر رات برباد نہ ہو۔ ایک غریب کسان ہر موسم میں دوبارہ فصل لگانے کا خرچ برداشت نہیں کر سکتا۔ مری کی مقامی معیشت اس مسلسل نقصان کی متحمل نہیں ہو سکتی۔ یہ بھی ضروری ہے کہ حکومت متاثرہ کسانوں کے نقصانات کا جائزہ لے، انہیں مناسب معاوضہ دینے کا نظام وضع کرے اور مستقبل میں فصلوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات کرے۔ مری میں مقامی زراعت تقریباً ختم ہو چکی ہے جس کا نقصان صرف چند خاندانوں کو نہیں بلکہ پورے علاقے کی معیشت کو ہوا ہے۔ مری پاکستان کا سب سے بڑا سیاحتی مرکز ضرور ہے، لیکن اس کی اصل شناخت یہاں کے مستقل رہائشی ہیں۔ اگر وہی اپنے گھروں، باغات اور زمینوں پر محفوظ نہ ہوں تو سیاحت کی چمک بھی اپنی اہمیت کھو دیتی ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب سے درخواست ہے کہ وہ اس مسئلے کا فوری نوٹس لیں۔ مری کے لوگوں کو محض یقین دہانیوں کی نہیں بلکہ عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔ ایک جامع حکمت عملی بنائی جائے، جنگلی سوروں کی بڑھتی ہوئی تعداد پر قابو پایا جائے، مقامی آبادی اور ان کی معیشت کو تحفظ دیا جائے، اور اگر قانونی و انتظامی تقاضے پورے ہوتے ہوں تو ان جانوروں کی برآمد سمیت ہر قابلِ عمل آپشن پر غور کیا جائے۔ آخرکار ریاست کی اولین ذمہ داری اپنے شہریوں کے جان و مال اور روزگار کا تحفظ ہے، اور مری کے لوگ برسوں سے اسی تحفظ کے منتظر ہیں۔
