برینڈ کی تشہیر، خرچہ گاہک کا،شاپنگ بیگز پر اضافی چارجز ختم

پنجاب میں خریداری کرنے والے لاکھوں صارفین کے لیے ایک اہم تبدیلی آنے والی ہے۔ اگر آپ کسی شاپنگ مال، برینڈڈ سٹور، سپر مارکیٹ یا ریسٹورنٹ سے خریداری کرتے ہیں تو اب وہ وقت قریب ہے جب سامان کے ساتھ دیے جانے والے پلاسٹک شاپنگ بیگ کے الگ سے پیسے وصول نہیں کیے جا سکیں گے۔

خیال رہے کہ محکمہ تحفظِ ماحول پنجاب نے ایک نیا حکم نامہ جاری کیا ہے جس کے تحت 6 ستمبر 2026 سے صوبے بھر میں کوئی بھی دکان، ریٹیل سٹور، شاپنگ مال، ہوٹل یا ریسٹورنٹ صارفین سے پلاسٹک شاپنگ بیگ کی مد میں اضافی رقم وصول نہیں کر سکے گا۔ اس اقدام کا مقصد صرف صارفین کو ریلیف دینا نہیں بلکہ پلاسٹک کے بڑھتے ہوئے استعمال کو روکنا اور ماحول دوست متبادل کو فروغ دینا بھی ہے۔

واضح رہے کہ گزشتہ کئی برسوں سے صارفین اس بات پر اعتراض کرتے رہے ہیں کہ ہزاروں روپے کی خریداری کے باوجود انہیں شاپنگ بیگ کے لیے الگ رقم ادا کرنا پڑتی ہے، جبکہ اسی بیگ پر متعلقہ کمپنی یا برینڈ کا نمایاں لوگو بھی موجود ہوتا ہے۔صارفین کا مؤقف تھا کہ اگر وہ شاپنگ بیگ کی قیمت ادا کر رہے ہیں تو پھر اس پر کمپنی کی تشہیر کیوں کی جا رہی ہے؟ ان کے مطابق یا تو ایسے بیگ مفت فراہم کیے جائیں یا پھر اگر قیمت وصول کی جائے تو وہ بغیر برینڈنگ کے ہوں۔ یہی سوال سوشل میڈیا پر بھی کئی برسوں سے زیرِ بحث تھا اور اب حکومت کے نئے فیصلے کو اسی عوامی مطالبے کا جواب قرار دیا جا رہا ہے۔

تاہم اب پنجاب انوائرنمنٹل پروٹیکشن ایکٹ 1997 اور سنگل یوز پلاسٹک ریگولیشنز 2023 کے تحت جاری کیے گئے حکم نامے کے مطابق صوبے میں کوئی بھی تجارتی ادارہ فروخت کے وقت پلاسٹک شاپنگ بیگ کی قیمت وصول نہیں کر سکے گا۔البتہ اگر کوئی کاروباری ادارہ کاغذ، کپڑے یا کسی ایسے ماحول دوست مواد سے تیار کردہ بیگ فراہم کرتا ہے جو دوبارہ استعمال یا ری سائیکل کیا جا سکتا ہو، تو اس کی قیمت وصول کرنے کی اجازت ہوگی۔حکام کے مطابق یہ رعایت صرف ماحول دوست متبادل کی حوصلہ افزائی کے لیے دی گئی ہے تاکہ پلاسٹک کے استعمال میں بتدریج کمی لائی جا سکے۔ تاہم یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا برینڈڈ کپڑے یا کاغذی بیگز بھی مفت ہوں گے؟اس سوال کا جواب "نہیں” ہے۔محکمہ تحفظِ ماحول کے مطابق یہ حکم صرف پلاسٹک شاپنگ بیگز پر لاگو ہوگا۔ اگر کوئی کمپنی کپڑے، کینوس، جوٹ یا دیگر ماحول دوست مواد سے تیار کردہ بیگ فراہم کرتی ہے تو وہ اس کی قیمت وصول کر سکتی ہے، چاہے اس پر کمپنی کی برینڈنگ موجود ہو۔حکام کا کہنا ہے کہ ایسے بیگز کی قیمت یا برینڈنگ ان کے دائرۂ اختیار میں نہیں آتی کیونکہ موجودہ قانون صرف پلاسٹک کے استعمال کو محدود کرنے کے لیے بنایا گیا ہے۔

واضح رہے کہ دنیا کے کئی ممالک پہلے ہی پلاسٹک کے استعمال کو کم کرنے کے لیے سخت قوانین نافذ کر چکے ہیں۔یورپی یونین، برطانیہ، کینیڈا اور دیگر ترقی یافتہ ممالک میں پلاسٹک بیگز پر اضافی فیس یا ٹیکس ضرور لیا جاتا ہے، لیکن اس کا مقصد کمپنیوں کو منافع پہنچانا نہیں بلکہ صارفین کو دوبارہ استعمال ہونے والے تھیلے استعمال کرنے کی ترغیب دینا ہوتا ہے۔کئی ممالک میں اس رقم کو ماحولیاتی فنڈز میں جمع کرایا جاتا ہے، جبکہ بعض جگہوں پر برینڈڈ پلاسٹک بیگز کی حوصلہ شکنی کی جاتی ہے تاکہ کمپنیاں صارفین کے خرچ پر اپنی تشہیر نہ کر سکیں۔

تاہم حکومت پنجاب اس فیصلے کو اپنی "پلاسٹک سے پاک پنجاب” مہم کا اہم حصہ قرار دے رہی ہے۔ اس مہم کے تحت سنگل یوز پلاسٹک کی پیداوار اور استعمال میں کمی لانے، نکاسی آب کے نظام کو بہتر بنانے، آلودگی کم کرنے اور ماحول دوست مصنوعات کے استعمال کو فروغ دینے کے لیے متعدد اقدامات کیے جا رہے ہیں۔حکام کے مطابق پلاسٹک بنانے والی فیکٹریوں کی نگرانی سخت کر دی گئی ہے، غیر معیاری شاپرز کی تیاری کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں اور اب ریٹیل سطح پر بھی پلاسٹک بیگز کی فروخت روکنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

حکم نامے کے مطابق 6 ستمبر 2026 کے بعد اگر کوئی دکاندار یا تجارتی ادارہ پلاسٹک شاپنگ بیگ کے نام پر صارفین سے رقم وصول کرتا ہے تو اس کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کو 5 ہزار سے 50 ہزار روپے تک جرمانہ کیا جا سکتا ہے، جبکہ مسلسل خلاف ورزی کی صورت میں مزید قانونی اقدامات بھی کیے جا سکتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق حکومت کا یہ اقدام صرف اضافی اخراجات کم کرنے تک محدود نہیں بلکہ اس کا اصل مقصد پلاسٹک کے استعمال میں کمی، ماحول کے تحفظ اور کاروباری اداروں کو ماحول دوست متبادل اختیار کرنے پر مجبور کرنا ہے۔اب دیکھنا یہ ہوگا کہ برینڈڈ سٹورز، سپر مارکیٹس اور بڑے شاپنگ مالز اس قانون پر کس حد تک عمل درآمد کرتے ہیں اور آیا صارفین کو واقعی اس فیصلے کا عملی فائدہ ملتا ہے یا نہیں۔

Back to top button