کیا بلوچستان میں دہشت گرد فوج سے زیادہ مضبوط ہو چکے؟

بلوچستان میں دہشت گردی کے خاتمے اور شدت پسندوں کے خلاف مسلسل کارروائیوں کے سرکاری دعووں کے باوجود صوبے میں سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں پر حملوں میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے، جس کے باعث ملکی سلامتی کی صورتحال پر سنگین سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ حالیہ خونریز حملوں نے یہ تاثر مزید مضبوط کیا ہے کہ شدت پسند گروہ نہ صرف اپنی کارروائیوں میں پہلے سے زیادہ منظم اور جارحانہ ہو چکے ہیں بلکہ وہ بعض علاقوں میں ریاستی رٹ کو بھی کھلا چیلنج کر رہے ہیں، جس سے امن و امان کی مجموعی صورتحال پر خدشات ہر گزرتے دن کے ساتھ بڑھتے جا رہے ہیں۔
پاک فوج کے شعبۂ تعلقات عامہ کے مطابق گزشتہ چار روز کے دوران بلوچستان میں پیش آنے والے شدت پسندی کے تین بڑے واقعات میں 27 پولیس اہلکار، 11 فوجی اہلکار اور چار شہری جان کی بازی ہار گئے، جبکہ سکیورٹی فورسز کی جوابی کارروائیوں میں 54 شدت پسند مارے گئے۔ فوجی ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے بدھ کو پریس کانفرنس میں ان واقعات کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے کہا کہ مختلف علاقوں میں شدت پسندوں کے خلاف آپریشن بدستور جاری ہیں۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق پہلا واقعہ چار اور پانچ جولائی کی درمیانی شب کوئٹہ کے نواحی علاقے ہنہ اوڑک میں پیش آیا، جہاں مسلح شدت پسندوں نے شہری آبادی کو نشانہ بنایا۔ مقامی افراد نے اپنی مدد آپ کے تحت مزاحمت کی جس کے نتیجے میں حملہ آور پسپا ہو گئے، تاہم اس دوران چار شہری جاں بحق جبکہ چھ زخمی ہوئے۔
دوسرا اور سب سے بڑا واقعہ ضلع زیارت کے علاقے مانگی ڈیم کے قریب پیش آیا جہاں بلوچستان پولیس کی ایک چیک پوسٹ پر مسلح حملہ آوروں نے مختلف اطراف سے حملہ کر دیا۔ آئی ایس پی آر کے مطابق یہ چیک پوسٹ مانگی ڈیم اور کوئٹہ کو پانی فراہم کرنے والی اہم تنصیبات کے تحفظ پر مامور تھی۔
فوجی ترجمان کے مطابق ابتدائی جھڑپ میں پولیس اہلکاروں نے بھرپور مزاحمت کی اور 15 شدت پسند مارے گئے، تاہم نو پولیس اہلکار شہید ہو گئے۔ بعد ازاں آرمی اور ایف سی کی کمک پہنچنے سے قبل حملہ آور مزید 18 پولیس اہلکاروں کو یرغمال بنا کر اپنے ساتھ لے گئے۔ لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کے مطابق سکیورٹی فورسز نے حملہ آوروں کا تعاقب کرتے ہوئے ان کا گھیرا تنگ کر دیا، تاہم یرغمال اہلکاروں کی جانوں کو خطرے کے پیش نظر فضائی کارروائی نہیں کی گئی۔ ان کے بقول جب شدت پسندوں کو محسوس ہوا کہ ان کا محاصرہ مکمل ہو چکا ہے تو انہوں نے تمام 18 مغوی پولیس اہلکاروں کو قتل کر دیا، جس کے بعد اس واقعے میں شہید ہونے والے پولیس اہلکاروں کی مجموعی تعداد 27 ہو گئی۔
فوجی ترجمان نے بتایا کہ زیارت آپریشن کے دوران مجموعی طور پر 26 شدت پسند مارے گئے جبکہ بدھ کے روز ضلع بیلا میں فوجی قافلے پر ایک اور حملے میں ایک جونیئر کمیشنڈ افسر (جے سی او) سمیت 11 فوجی اہلکار جان کی بازی ہار گئے۔ اس کے علاوہ خاران اور دالبندین میں کارروائیوں کے دوران مزید 14 شدت پسند ہلاک کیے گئے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق تینوں بڑے واقعات میں مجموعی طور پر 42 افراد، جن میں چار شہری، 27 پولیس اہلکار اور 11 فوجی شامل ہیں، جاں بحق ہوئے جبکہ مختلف مقامات پر شدت پسندوں کے خلاف کلیئرنس اور سرچ آپریشن بدستور جاری ہیں۔
پریس کانفرنس کے دوران فوجی ترجمان نے ان حملوں کا ذمہ دار بھارت اور اس کے مبینہ حمایت یافتہ شدت پسند گروہوں کو قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ حالیہ کارروائیوں میں مارے جانے والے بیشتر شدت پسند افغانستان کے شہری تھے۔ تاہم بھارت کی جانب سے ان الزامات پر فوری ردعمل سامنے نہیں آیا، جبکہ نئی دہلی ماضی میں ایسے تمام دعووں کو مسترد کرتا رہا ہے۔
دوسری جانب ضلع زیارت کے ڈپٹی کمشنر عبدالقدوس اچکزئی نے بتایا کہ حملے کا نشانہ بننے والے پولیس اہلکار مانگی ڈیم فیز تھری کی تعمیراتی سائٹ پر ڈیوٹی انجام دے رہے تھے۔ ان کے مطابق بڑی تعداد میں مسلح افراد نے اچانک حملہ کیا جس میں دو ایس ایچ اوز سمیت متعدد اہلکار مارے گئے جبکہ کئی اہلکار لاپتہ بھی ہوئے۔
حملے کے بعد زیارت اور پشین میں شدید احتجاج دیکھنے میں آیا، جہاں مشتعل مظاہرین نے قومی شاہراہ کئی گھنٹوں تک بند رکھی اور مغوی اہلکاروں کی فوری بازیابی کا مطالبہ کیا۔ بعد ازاں حکومتی حکام نے دعویٰ کیا کہ متعدد اہلکاروں کو بازیاب کرا لیا گیا جبکہ باقی کی تلاش کے لیے ایف سی اور پولیس کا مشترکہ آپریشن جاری رہا۔
اس واقعے کے بعد وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے زیارت کے ایس پی کو معطل کرتے ہوئے اعلیٰ سطحی انکوائری کمیٹی قائم کر دی ہے جو حملے سے قبل، دوران اور بعد کے تمام حالات، سکیورٹی انتظامات، کمانڈ اینڈ کنٹرول، رابطہ کاری اور ممکنہ غفلت یا آپریشنل خامیوں کا جائزہ لے کر 15 روز میں اپنی رپورٹ پیش کرے گی۔
تاہم اس حملے کے حوالے سے بعض پولیس اہلکاروں اور مقامی سیاسی رہنماؤں نے سنگین سوالات بھی اٹھائے ہیں۔ نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ایک پولیس اہلکار نے دعویٰ کیا کہ ان کے ساتھی کئی گھنٹوں تک محدود اسلحے اور گولہ بارود کے ساتھ مقابلہ کرتے رہے۔ پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے سیکریٹری جنرل عبدالرحیم زیارتوال کے مطابق بعض اہلکاروں نے دورانِ محاصرہ اپنے اہل خانہ کو فون کر کے بتایا تھا کہ ان کے پاس گولیاں ختم ہو رہی ہیں اور اگر فوری کمک نہ پہنچی تو ان کی جانیں خطرے میں پڑ جائیں گی۔ دوسری جانب حکومت بلوچستان کے ترجمانوں نے اس تاثر کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ امدادی کارروائیاں بروقت کی گئیں اور دشوار گزار راستوں اور بارودی سرنگوں کی موجودگی کے باعث پیش قدمی میں مشکلات پیش آئیں۔
جنگ بندی کے خاتمے کے اعلان کے بعد دنیا پھر بحران کا شکار
سکیورٹی امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ حالیہ حملے بلوچستان میں شدت پسند تنظیموں کی بڑھتی ہوئی صلاحیت اور بدلتی حکمت عملی کی عکاسی کرتے ہیں۔ پاکستان انسٹیٹیوٹ فار پیس اسٹڈیز کے ڈائریکٹر عامر رانا کے مطابق شمالی بلوچستان میں مختلف شدت پسند گروہوں کی سرگرمیوں میں اضافہ ہوا ہے جبکہ بعض علاقوں میں نئے مسلح عناصر کی موجودگی بھی تشویش کا باعث بن رہی ہے۔ سینئر تجزیہ کار سلیم شاہد کے مطابق بلوچستان کے شمالی اضلاع میں شدت پسند تنظیمیں ماضی میں بھی سرگرم رہی ہیں، تاہم حالیہ حملوں نے سکیورٹی صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔
