بی جے پی رہنما ‘بائیکاٹ شاہ رخ’ مہم کیوں چلا رہے ہیں؟

آریان خان کی منشیات کیس میں گرفتاری کے بعد مسلمان مخالف روائتی تعصب کا مظاہرہ کرتے ہوئے وزیر اعظم مودی کی بھارتی جنتا پارٹی سے منسلک کئی سیاستدانوں نے بالی وڈ کنگ ‘بائیکاٹ شاہ رخ خان’ مہم چلا دی ہے اور اب کچھ اشتہاری کمپنیوں نے اداکار کو اپنی برینڈ ایمبیسڈر شپ سے علیحدہ کر دیا ہے۔
بی جے پی سے تعلق رکھنے والے کئی معروف سیاست دانوں نے آریان خان کی گرفتاری کے بعد شاہ رخ کے خلاف سوشل میڈیا پر بھرپور مہم چلا رکھی ہے۔ اپنے معروف فلمی ڈائیلاگ ‘مائی نیم از خان اینڈ آئی ایم ناٹ اے ٹیررسٹ’ سے بی جے پی کے غضب کو دعوت دینے والے شاہ رخ خان اس وقت شدید مشکلات کا شکار ہے۔ انڈیا میں ’بائجوز‘ نامی تعلیم کے لیے کام کرنے والی ایک ٹیکنالوجی کمپنی نے بھی آریان کی منشیات کیس میں گرفتاری کے بعد شاہ رخ خان سے علیحدگی اختیار کرلی ہے۔ انڈین ذرائع ابلاغ کے مطابق بالی وڈ کے ’بادشاہ‘ کہلانے والے اداکار شاہ رخ خان بہت ساری ملکی اور غیرملکی کمپنیوں کے لیے اشتہارات میں کام کرتے ہیں۔ ’بائجوز‘ نے آریان خان کی منشیات کیس میں گرفتاری کے بعد اپنی کمپنی کے تمام اشتہارات جن میں شاہ رخ خان نے کام کیا تھا وہ میڈیا پر چلنے سے روک دیے ہیں۔
تاہم کمپنی کی جانب سے باضابطہ طور پر شاہ رخ خان سے کو اپنے برانڈ سے علیحدہ کرنے کا اعلان نہیں کیا گیا۔
واضح رہے کہ آریان خان کو انڈین سنٹرل ایجنسی یا سی بی آئی نے ممبئی سے ایک بحری جہاز پر چھاپہ مارنے کے بعد گرفتار کیا تھا اور کہا تھا کہ ان سے منشیات برآمد ہوئی ہیں۔ بعد ازاں آریان خان کی ضمانت کی درخواست ممبئی کی عدالت نے مسترد کر دی تھی۔
ٹوئٹر پر اس وقت شاہ رخ خان سے منسلک مصنوعات کے بائیکاٹ کے حوالے سے ایک ٹرینڈ بھی چل رہا ہے۔
انڈین صحافی مکیش کمار نے اپنی ایک ٹویٹ میں ’بائجوز‘ کو شاباشی دیتے ہوئے کہا کہ ’میں ان تمام مصنوعات کا بائیکاٹ کررہا ہوں جس کی شاہ رخ خان تائید کرتے ہیں۔انڈین وزیراعظم نریندر مودی کی بھارتیا جننتا پارٹی سے ہمدردی رکھنے والے سادھو یوگی دیوناتھ نے ایک ٹوئیٹ میں کہا کہ ’شاہ رخ خان کی ہر فلم کا بائیکاٹ کریں۔
سوشل میڈیا پر اس ٹرینڈ کا باغور جائزہ لیا جائے تو گمان ہوتا ہے کہ اس مہم کو چلانے کے پیچھے بی جے پی کے اراکین یا ان کے حامیوں کا کردار نظر آتا ہے۔ انڈین ریاست ہریانہ میں بے جے پی کے آئی ٹی سیل کے انچارج ارن یادیو نے اپنی ٹوئیٹ میں لکھا کہ ’میں ان تمام مصنوعات جن کے اشتہارات میں شاہ رخ خان موجود ہیں ان کا بائیکاٹ کررہا ہوں۔وزیراعظم مودی ہی کی جماعت کے ایک اور رکن نریندر کمار چاولہ نے لکھا کہ میں بحیثیت قوم پرست اس ٹرینڈ کی حمایت کرتا ہوں۔بی جے پی کے ایک ترجمان گورو گویل نے اپنی ٹوئیٹ میں لکھا کہ ’ایس آر کے نے ایک بار کہا تھا کہ انڈیا میں عدم برداشت بڑھتی جارہی ہے۔ ہاں، وہ درست تھے انڈیا منشیات کو لے کر عدم برداشت کا شکار ہے۔
لیکن جہاں انڈیا کی حکمران جماعت سے منسلک افراد بالی وڈ اداکار کے خلام مہم چلا رہے ہیں، وہیں شاہ رخ خان کے دفاع کے لیے ان کے پرستار بھی سوشل میڈیا کے میدان میں لڑتے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔ٹوئٹر پر اس وقت ایک اور ٹرینڈ چل رہا ہے جس کا مقصد یہ بتانا ہے کہ’مودی کو بھی شاہ رخ خان برانڈ کی ضرورت ہے۔‘ ایک صارف نے مودی کی ٹوئیٹ کا سکرین شاٹ پوسٹ کیا جس میں وہ شاہ رخ خان سے کہہ رہے تھے ’ڈئیر شاہ رخ خان، آئیں 18 سے 24 سالہ لوگوں کی حوصلہ افزائی کریں ووٹ ڈالنے کے لیے۔‘ صارف نے اس اسکرین شاٹ کیساتھ لکھا ’جب گجرات کے ایک سیاست دان کو سب سے بڑے برانڈ کی ضرورت تھی ووٹرز کی حوصلہ افزائی کرنے کے لیے۔
ایک اور صارف نے لکھا کہ ’شاہ رخ خان کی وجہ سے انڈیا دنیا بھر میں پہچانا جاتا ہے لہذا اس کے خلاف مہم چلانا بھارت کے خلاف نہیں جلانے کے مترادف ہے۔ تاہم دوسری جانب آریان خان کے خلاف مقدمے اور اس کے بعد چلائی جانے والی مہم پر شاہ رخ خان یا ان کی اہلیہ فلم پروڈیوسر گوری خان کا اب تک کوئی براہ راست بیان سامنے نہیں آیا ہے۔ شاہ رخ نے اپنی شوٹنگز منسوخ کر دی ہیں اور وہ گھر کی حد تک محدود ہو گے ہیں۔
