تاریخی جناح باغ میں تجاوزات قائم کرنے کی کوششیں

ملک بھر میں تاریخی اہمیت کی حامل عمارات کے احاطوں میں تعمیرات پر پابندی عائد ہونے کے باوجود مال روڈ لاہور پر واقع قدیم ترین لارنس گارڈن یا جناح باغ میں واسا حکام نے بارش کا پانی اکٹھا کرنے کے نام پر ایک جہازی سائز انڈر گراونڈ واٹر ٹینک کی تعمیر کا منصوبہ شروع کردیا ہے۔ تاہم سول سوسائٹی نے اس ٹینک کی تعمیر کو لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کرتے ہوئے یہ موقف اختیار کیا ہے کہ اس منصوبے کا بنیادی مقصد لارنس گارڈن میں واسا کے دفاتر تعمیر کرنا ہے کیونکہ بارش اور سیوریج کے پانی کے لیے تو باغ جناح کے اندر پہلے ہی سیوریج کا سسٹم موجود یے۔
قیام پاکستان سے قبل انگریز دور میں لاہور شہر میں ہر طرف بڑے بڑے باغ تھے، اسی لیے اسے باغوں کا شہر کہا جاتا تھا۔ ناصر باغ، بادامی باغ اور چوبرجی باغ پہلے ہی سڑکوں اور عمارتوں کی نظر ہوچکے ہیں جب کہ شاہراہوں پر بنی بڑی بڑی گرین بیلٹس بھی ختم ہوچکی ہیں۔ اب مال روڈ پر واقع وسیع رقبے پر پھیلا باغ جناح بھی تعمیرات کی نظر ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ یاد رہے کہ باغ جناح 1862میں بنایا گیا تھا، جہاں سو سال سے زائد عمر کے درخت ابھی تک موجود ہیں۔ اس سے پہلے بھی لارنس گارڈن میں سرکاری دفاتر منتقل کرنے کی کوشش کی گئی تھی جو سول سوسائٹی نے ناکام بنا دی تھی۔ اب واسا کی جانب سے اس تاریخی باغ میں سیوریج کے لیے واٹر ٹینک بنانے کی آڑ میں اپنے دفاتر تعمیر کرنے کا کام شروع کردیا گیا ہے۔
لاہور ہائیکورٹ میں اس منصوبے کی تعمیر کو چیلنج کرتے ہوئے سول سوسائٹی کے نمائندوں نے موقف اختیار کیا ہے کہ پنجاب کی بیوروکریسی گزشتہ دس سالوں سے اس خوبصورت اور قدیم باغ میں سرکاری دفاتر تعمیر کرنا چاہتی ہے جس سے یہاں درختوں اور پودوں کا وجود ختم ہوسکتا ہے۔ قمر زیدی کے مطابق پہلے ہی اس باغ کے کئی حصوں پر عمارتیں بنا کر اس سبزہ زار کو نقصان پہنچایا گیا اور اب پانی جمع کرنے کےلیے ٹینک کی آڑ میں اس پر قبضے کی کوشش ہو رہی ہے۔
دوسری جانب چیئرمین پارکس اینڈ ہارٹی کلچر لاہور یاسر گیلانی کا کہنا ہے کہ باغ جناح میں پانی کا ٹینک بارش کا پانی جمع کرنے کےلیے بنایا جا رہا ہے۔دستاویزات کے مطابق باغ دراصل جناح 177 ایکڑ رقبے پر بنایا گیا تھا، لیکن بعد میں 14 ایکڑ زمین چڑیا گھر کو دے دی گئی، کئی ایکڑ گورنمنٹ کالج یونیورسٹی کو بوٹینکل گارڈن بنانے کے لیے دے دی گئی جب کہ کچھ حصہ وزیراعلیٰ پنجاب آفس 90 شاہراہ، مال روڈ کو کشادہ کرنے میں چلی گئی۔ یوں اب اس کا رقبہ 141 ایکڑ بچا ہے، لیکن اس میں بھی لیڈیز کلب، اوپن ایئر تھیٹر، فٹبال، کرکٹ گراؤنڈ، کاسموکلب اور دربار بھی بنا دیا گیا، جب کہ کئی کنال زمین آس پاس کی سڑکیں کشادہ کرنے پر صرف ہوگئی۔
سابقہ حکومت نے یہاں محکمہ پارکس اور زراعت کے دفاتر بنانے کی منصوبہ بندی کی تھی جب کہ موجودہ دور میں بھی یہاں واسا اور پی ایچ اے نے مل کر زیر زمین 100 فٹ چوڑا، 150 فٹ لمبا اور 20 فٹ گہرا زیر زمین ٹینک تعمیر کا کام شروع کردیا ہے اور یہاں کی لاکھوں روپے کی مٹی بھی فروخت کر دی گئی۔
سول سوسائٹی کے نمائندے قمر زیدی کے مطابق سیوریج کے گندے پانی کا ٹینک باغ کو نہ صرف تباہ کرے گا بلکہ یہاں ماحول بھی خراب ہوگا۔انہوں نے بتایا کہ جس طرح لبرٹی مین بلیوارڈ کا سبزہ بچانے کےلیے عدالتوں سے رجوع کیا گیا تھا، اب بھی انہوں نے ہائی کورٹ اور ایف آئی اے سے رجوع کیا ہے تاکہ باغ جناح کو بچایا جاسکے۔
چیئرمین پارکس اینڈ ہارٹی کلچر لاہور یاسر گیلانی کا کہنا ہے کہ یہ ٹینک وارث روڈ، مزنگ اور لارنس روڈ کی آبادیوں میں بارش اور سیوریج کا پانی ختم کرنے کےلیے بنایا جارہا ہے، جسے اوپر سے بند کیا جائے گا اور مٹی ڈال کر سبز گھاس لگائی جائے گی جب کہ یہی پانی صاف کرکے پودوں کو دیا جائے گا۔
دوسری جانب پروجیکٹ ڈائریکٹر باغ جناح اختر محمود نے بتایا کہ یہ منصوبہ حکومت پنجاب کا ہے، باغ جناح انتظامیہ کا نہیں۔ یہاں تعمیر سے کوئی نقصان نہیں ہوگا اور نہ ہی اس سے پودے یا درخت متاثر نہیں ہوں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس منصوبے کو روکنے کا اختیار ہمیں نہیں ہے، یہ پارک پی ایچ اے کے دائرہ اختیار میں ہے، لہذا پی ایچ اے اور واسا نے مل کر یہ منصوبہ شروع کیا ہے۔ ہمیں بتایا گیا ہے کہ یہاں پانی جمع ہوگا اور اس سے یہیں کے پودے اور درخت سیراب ہوں گے۔
تاہم قمر زیدی نے اس موقف کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اگر اس زیر زمین ٹینک کی تعمیر بارش اور سیوریج کے پانی کی نکاسی کےلیے ہے تو باغ جناح کے اندر سے پہلے ہی سیوریج کا ایک بڑا نالہ گزر رہا ہے اور دوسرا نالہ اسی جگہ سے گزرتا ہے جہاں ٹینک تعمیر ہو رہا ہے، لہٰذا نالے میں پانی ڈالا جاسکتا تھا اور یہیں سے پمپوں کی مدد سے پودے اور درخت سیراب ہوسکتے تھے۔
انہوں نے کہا کہ ‘میری اطلاعات کے مطابق اس ٹینک کی اجازت پنجاب حکومت نے نہیں دی بلکہ واسا اور پی ایچ اے مل کر یہاں قبضہ جمانے کےلیے ایسی تعمیرات کو ڈھال بنا رہے ہیں تاکہ بعد میں یہاں دفاتر تعمیر ہوسکیں۔’

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button