تحریک انصاف کو  بلاول کے دورہ پختونخواہ سے کیا تکلیف ہوئی؟

کیا پاکستان تحریکِ انصاف اب بھی خیبرپختونخوا کی سب سے مقبول جماعت ہے؟ کیا عمران خان کے جیل میں ہونے اور قیادت کے خلاف کریک ڈاؤن کے باوجود پی ٹی آئی کا ووٹ بینک صوبے میں برقرار ہے؟ یہ وہ سوالات ہیں جو پیپلز پارٹی کے چیئرمین اور سابق وزیر خارجہ بلاول بھٹو کے صوبہ خیبر پختونخواہ کے دورے میں ان کی سیاسی سرگرمیوں کے پیش نظر عوامی اور سیاسی حلقوں میں موضوعِ بحث ہیں۔بلاول بھٹو ایک ھفتے کے دورے کے دوران کے پی کے مختلف مقامات پر جلسے بھی کر رہے ہیں جب کہ دیگر سیاسی جماعتوں نے بھی صوبے میں سیاسی سرگرمیوں کا اعلان کر رکھا ہے۔ جبکہ تحریک انصاف کی مقامی قیادت شکوہ کناں ھے کہ ہمیں تو حجروں میں بھی انتخابی مہم چلانے سے روکا جا رہا ہے وائس آف امریکہ کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ھے کہ پی ٹی آئی کے خلاف مبینہ کریک ڈاؤن کے باوجود خیبرپختونخوا کے پارٹی رہنما یہ دعوے کر رہے ہیں کہ صوبے میں تحریک انصاف اب بھی سب سے مقبول جماعت ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ صوبے میں پی ٹی آئی کے اندر ٹوٹ پھوٹ کے باوجود اب بھی بہت سے رہنما پارٹی کے ساتھ وفاداری نبھا رہے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ صوبے میں پی ٹی آئی کا ووٹ بینک برقرار ہے۔واضح رہے کہ پی ٹی آئی خیبرپختونخوا کے رہنما اور سابق وزیرِ اطلاعات شوکت یوسفزئی کا نام ای سی ایل میں نہ ہونے کے باوجود اُنہیں سعودی عرب جانے سے روک دیا گیا تھا۔دوسری جانب پشاور ہائی کورٹ نے بھی پی ٹی ائی کو سیاسی سرگرمیوں سے مبینہ طور پر روکنے کی شکایات پر نگراں حکومت کی سرزنش کی ہے۔

سینئر صحافی عرفان خان کہتے ہیں کہ پی ٹی آئی کے خلاف کریک ڈاؤن کے باعث پی ٹی آئی نے اپنی سیاسی سرگرمیاں گھروں اور حجروں تک محدود کر دی ہیں۔ اُن کا کہنا تھا کہ اہم عہدے داروں کی غیر موجودگی کے باوجود پی ٹی آئی کے مقامی رہنما انفرادی سطح پر پارٹی کو انتخابی مہم چلانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ڈیرہ اسماعیل خان پریس کلب کے صدر اور سینئر صحافی یاسین قریشی کہتے ہیں کہ پی ٹی آئی کے صوبائی صدر علی امین گنڈا پور ملک سے باہر ہیں، لیکن وہ صوبے میں پارٹی رہنماؤں اور کارکنوں کے ساتھ مکمل رابطے میں ہیں۔دیگر صوبوں کی نسبت خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی اب بھی مضبوط ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سابق وزرائے اعلٰی پرویز خٹک اور محمود خان کی جانب سے نئی سیاسی جماعت پی ٹی آئی (پارلیمینٹرینز) کو زیادہ پذیرائی نہیں ملی صوبے میں پی ٹی آئی کے رہنما بشمول سابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر، سابق صوبائی وزیر کامران بنگش سمیت بہت سے رہنما گرفتار ہو چکے ہیں۔

سابق وزرا اور سابق اراکینِ پارلیمنٹ سمیت درجنوں نے عدالتوں سے ضمانت پر رہائی حاصل کی ہے۔ مگر صوبائی قیادت کے زیرِ زمین جانے کے بعد ان رہنماؤں کے عام کارکنوں کے ساتھ رابطے منقطع ہو چکے ہیں۔سابق صوبائی وزیر کامران بنگش کو بدھ کو ایک مقامی عدالت نے رہا کرنے کا حکم دیا ہے، مگر خاندانی ذرائع کے مطابق انہیں ابھی تک رہا نہیں کیا گیا۔ کامران بنگش اکتوبر سے جنوبی شہر ڈیرہ اسماعیل خان کی سینٹرل جیل میں قید ہیں۔پاکستان تحریک انصاف خیبر پختونخوا کے سینئر نائب صدر شوکت علی یوسفزئی نے رابطے پر وائس آف امریکہ کو بتایا کہ نہ ان کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں ہے اور نہ ان کے خلاف کوئی مقدمہ درج ہے مگر پھر بھی انہیں عمرہ ادائیگی سے روک دیا گیا۔انہوں نے کہا کہ اُنہوں نے کبھی بھی فوج اور دیگر ریاستی اداروں کے خلاف بات نہیں کی۔

پاکستان تحریکِ انصاف خیبرپختونخوا کے ترجمان ظاہر شاہ طورو کہتے ہیں کہ صوبے میں پی ٹی آئی کی مقبولیت کم نہیں کی جا سکتی۔ اُن کا کہنا تھا کہ عمران خان اب بھی مقبول ترین لیڈر ہیں، لہذٰا پارٹی ملک میں شفاف انتخابات کا انعقاد چاہتی ہے۔ اُن کا کہنا تھا کہ اس وقت جو صورتِ حال ہے اور ایک پارٹی کو اہمیت دی جا رہی ہے، ان حالات میں الیکشن ہوئے تو کوئی آٹھ فروری 2024 کے انتخابی نتائج کو تسلیم نہیں کرے گا۔ سابق وزیرِ اعلٰی کے سابق مشیرِ اطلاعات بیرسٹر محمد علی سیف نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ صوبے میں پاکستان تحریکِ انصاف کو سیاسی سرگرمیوں سے روکا جا رھا ھے پارٹی کے لوگ ہجروں میں  جمع ہوتے ہیں، جہاں دفعہ 144 کا نفاذ نہیں ہوتا، لیکن باہر نکلنے پر اُنہیں ہراساں کیا جاتا ہے۔

دوسری جانب خیبرپختونخوا کی نگراں حکومت پاکستان تحریکِ انصاف کے الزامات کی تردید کرتی رہی ہے۔ حکومت کا یہ مؤقف رہا ہے کہ صوبے میں ہر جماعت کو انتخابی مہم چلانے کا حق ہے، لیکن صوبے میں امن و امان کی خراب صورتِ حال کے باعث مخصوص مدت کے لیے دفعہ 144 لگائی گئی ہے۔

Back to top button