غزہ میں 1500شہادتوں کے بعد عارضی جنگ بندی میں کیا ہو گا؟

غزہ میں سات اکتوبر سے جاری اسرائیلی جارحیت میں لگ بھگ پندرہ ہزار فلسطینیوں کی شہادت کے بعد اسرائیل اور حماس کی لڑائی میں چار روزہ وقفے کا آغاز ہو گیا ہے. جمعے کی صبح عارضی جنگ بندی کے آغاز سے چند گھنٹے پہلے تک غزہ پر اسرائیلی حملے جاری تھے اور علاقے سے مسلسل گولہ باری اور فائرنگ کی آوازیں سنی جا سکتی تھیں تاہم مقامی وقت کے مطابق صبح سات بجے لڑائی میں وقفے کی مقررہ مدت کے شروع ہونے کے بعد آہستہ آہستہ خاموشی چھا گئی۔اگر یہ عارضی جنگ بندی قائم رہتی ہے تو سات اکتوبر سے شروع ہونے والی لڑائی میں یہ پہلا وقفہ ہو گا تاہم اسرائیل نے واضح کیا ہے کہ یہ وقفہ جنگ کا خاتمہ نہیں . ، یہ جنگ بندی ہر روز صرف صبح 10:00 شام چار بجے تک کے درمیان ہو گی۔ توقع ہے کہ چار دن کی عارضی جنگ بندی کے دوران اسرائیلی فوج اور ان کے ٹینک غزہ کے اندر اپنی پوزیشنوں پر موجود رہیں گے۔ بی بی سی کے مطابق جمعے کی صبح سے شروع ہونے والے اس عارضی جنگ بندی کے دوران حماس کے پاس موجود 50 اسرائیلی یرغمالیوں اور اسرائیل کی جیلوں میں قید 150 فلسطینیوں کی رہائی کے علاوہ غزہ میں امداد کی فراہمی پر اتفاق کیا گیا ہے۔ جمعے کی شام پہلے مرحلے میں 13 اسرائیلیوں کو رہا کیا جائے گا جبکہ اسرائیلی جیلوں سے چار روز میں 150 خواتین اور بچے بھی آزاد ہوں گے۔ اسرائیل نے حماس کو مزید یرغمالیوں کی رہائی کی ترغیب دیتے ہوئے جنگ بندی کی مدت میں ایک روز کے اضافے کی پیشکش بھی کی ہے۔ اسرائیلی فوج کے ترجمان نے جمعے کی صبح ایک بیان میں کہا ہے کہ ’انسانی ہمدردری کے تحت یہ وقفہ عارضی ہے‘۔ انھوں نے غزہ کے شہریوں کو مخاطب کر کے کہا کہہ ’شمالی غزہ ایک خطرناک علاقہ ہے اور شمال کی جانب سفر کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ اپنے تحفظ کے لیے جنوب میں ہی رہیں۔‘ اسرائیلی حکومت نے حماس کا نام و نشان مٹانے کا عزم ظاہر کیا ہے اور تمام یرغمالیوں کی رہائی کی امید ظاہر کی ہے۔ امریکی صدر جو بائیڈن نے کہا ہے کہ یہ معاہدہ غزہ میں موجود اسرائیلی یرغمالیوں کی ‘ناقابل بیان آزمائش’ کا خاتمہ کرے گا اور ‘معصوم فلسطینی خاندانوں کے مصائب کو کم کرے گا۔’اقوام متحدہ کے مطابق غزہ میں جاری جنگ کے بعد سے 17 لاکھ شہری پہلے ہی اپنے گھر بار چھوڑ چکے ہیں۔ غزہ کے شہریوں کے لیے اس جاری وحشیانہ لڑائی سے جلد چھٹکارا ممکن نہیں۔
اس معاہدے کے تحت چار روز کے وقفے کے دوران امداد لے جانے والے 200 ٹرکوں کو رفح کراسنگ کے ذریعے غزہ میں داخل ہونے کی اجازت ہو گی۔ غزہ میں ہسپتالوں کے جنریٹر، پانی کو صاف کرنے والے پلانٹس اور سیوریج کے پلانٹس کو ایندھن کی اشد ضرورت ہے اور بظاہر غزہ میں عارضی جنگ بندی کے دورانیے میں پہچنے والا ایندھن صرف اس وقت تک موجود رہے گا جب تک کہ جنگ میں وقفہ جاری رہے گا. اگرچہ یہ معاہدہ غزہ کے لوگوں کو شمال سے جنوب تک محفوظ راستے کی اجازت دے گا، لیکن یہ شمال سے بے گھر ہونے والے لاکھوں لوگوں کو گھر واپس جانے کی اجازت نہیں دے گا۔ حماس نے اس ضمن میں اپنے بیان میں کہا ہے کہ اس معاہدے کا مقصد ’اپنے لوگوں کی خدمت کرنا اور جارحیت کے مقابلے میں ان کی ثابت قدمی کو مضبوط بنانا‘ ہے۔
حماس نے خبردار کیا ہے کہ ’ہماری انگلیاں (بندوق کے) گھوڑے پر ہیں اور ہمارے فاتح جنگجو اپنے لوگوں کے دفاع اور (اسرائیلی) جارحیت کو شکست دینے کے لیے تیار رہیں گے۔‘ قطر کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ دوحہ میں آپریشنز روم براہ راست اسرائیل، حماس کے سیاسی دفتر اور ہلال احمر کے ساتھ رابطے میں رہے گا جس دوران معاہدے میں کسی بھی خلاف ورزی پر ’دونوں فریقین سے فوراً بات چیت ہوگی‘ تاکہ عملدرآمد دوبارہ یقینی بنایا جاسکے۔ ان کا کہنا تھا کہ سب سے اہم بات یہ ہے کہ ایسا ماحول بنایا جائے تاکہ یرغمالیوں کی منتقلی محفوظ ہو۔ قطر کو امید ہے کہ عارضی وقفہ مزید یرغمالیوں کی رہائی کا سبب بن سکتا ہے تاکہ ’جنگ بندی کے مزید اقدامات کیے جاسکیں۔۔۔ اور غزہ میں مستقل طور پر لڑائی کا خاتمہ ہوسکے۔‘

Back to top button