توشہ خانہ ٹو کیس : عمران خان، بشریٰ بی بی کا ایف آئی اے قوانین کے تحت ٹرائل شروع

توشہ خانہ ٹو کیس میں عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے خلاف ایف آئی اے قوانین کےتحت ٹرائل شروع کردیاگیا۔
توشہ خانہ ٹو کیس کی پہلی سماعت اڈیالہ جیل میں اسپیشل جج سینٹرل شاہ رخ ارجمند نے کی،ملزمان کی جانب سےسلمان صفدر عدالت میں پیش ہوئے جب کہ ایف ائی اے کے اسپیشل پراسیکیوٹر ذوالفقار نقوی اور نیب پراسیکیوٹر عمیر مجید عدالت میں پیش ہوئے۔
عدالت نے تفتیشی افسر کو آئندہ سماعت پر تفتیشی رپورٹ پیش کرنےکی ہدایت کرتےہوئے کیس کی سماعت 23 ستمبر تک ملتوی کردی۔
دوران سماعت ایف آئی اے پراسیکیوٹر نےمؤقف اپنایاکہ نیب ترامیم کےبعد یہ پہلا کیس ہےجو وفاقی تحقیقاتی ادارے کو منتقل ہوا،کیس کو ایف آئی اے قوانین کےتحت دیکھنا ضروری ہے۔
بعد ازاں، ملزمان کی درخواست ضمانتوں پرسماعت بھی آئندہ پیشی تک ملتوی کردی گئی۔
یادرہے کہ 12 ستمبر کو توشہ خانہ ٹو کیس کی تحقیقات کےلیے ایف آئی اےکی تین رکنی جے آئی ٹی تشکیل دی گئی تھی۔
آئینی ترمیم کا مقصد صرف مجھے جیل میں رکھنا ہے : عمران خان
خیال رہے کہ نیب ترامیم کے حوالے سے سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد احتساب عدالت نے عمران خان اور بشریٰ بی بی کےخلاف توشہ خانہ ٹو ریفرنس نیب سےایف آئی اے کو منتقل کردیاتھا۔
قبل ازیں عدالت نے توشہ خانہ 2 ریفرنس کا ریکارڈ اسپیشل جج سینٹرل کی عدالت کو منتقل کرنے کاحکم دیاتھا۔
جب کہ 13جولائی کو نیب نے عمران خان اور ان کی اہلیہ کو عدت نکاح کیس میں ضمانت ملنے کےفوری بعد توشہ خانہ کےایک نئے ریفرنس میں گرفتار کرلیاتھا۔
نیب کی انکوائری رپورٹ کےمطابق نیا کیس 7 گھڑیوں سمیت 10 قیمتی تحائف خلاف قانون پاس رکھنےاور بیچنے سےمتعلق ہے۔
