تین برس کی پابندی کا مطلب ہے عمراکمل کے کرکٹ کیریئر کا خاتمہ

پاکستان کرکٹ بورڈ کی جانب سے تین سال کی پابندی عائد کیے جانے کے بعد مسلسل تنازعات کی زد میں رہنے والے مڈل آرڈر بیٹسمین عمر اکمل کا کرکٹ کیرئیر بالآخر مکمل ختم ہوتا نظر آتا ہے۔ میچ فکسکنگ کی ایک پیشکش سے متعلق ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کے کیس میں کرکٹ بورڈ نے عمر اکمل پر 3 سال کی پابندی عائد کر کے ان کے کرکٹ کیرئیر کے خاتمے پر مہر تصدیق ثبت کر دی ہے۔ تاہم دوسری طرف ان کے بھائی کامران اکمل نے بورڈ کے فیصلے پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر عمر اکمل کے خلاف بورڈ کے پاس ثبوت تھے تو ان پر تین سال کی بجائے تاحیات پابندی لگانی چاہیے تھی۔
یاد رہے کہ عمر اکمل پر پی سی بی اینٹی کرپشن کوڈ 4.2.2 کی دو مرتبہ خلاف ورزی کا الزام تھا۔ عمر اکمل نے اپنے خلاف چارج شیٹ کو چیلنج نہیں کیا تھا اور کیس کی اینٹی کرپشن ٹریبونل میں سماعت کی درخواست بھی نہیں کی تھی جس کے بعد پی سی بی نے کیس ڈسپلنری پینل کے چیئرمین جسٹس ریٹائرڈ فضل میراں چوہان کو بھجوایا تھا۔ پی سی بی کے قانوی مشیر تفضل رضوی کا کہنا ہے کہ عمر اکمل دوران سماعت میچ فکسنگ کی پیشکش کی بروقت اطلاع نہ دینے کا الزام تسلیم کرنے پر تین سال کی سخت سزا کے حقدار قرار پائے۔ بورڈ اپنے فیصلے پر مطمئن ہے اور ہر فورم پر فیصلے کا دفاع کرے گا۔
دوسری طرف پی سی بی کے فیصلے پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے قومی ٹیم کے وکٹ کیپر بلے باز کامران اکمل نے اپنے بھائی عمر اکمل پر تین سال کی پابندی کو زیادتی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر بورڈ کے پاس ٹھوس شواہد تھے تو عمر اکمل پرتین سال کی بجائے تاحیات پابندی عائد کی جانی چاہیے تھی۔ان کا کہنا تھاکہ تین سال کی پابندی عمر اکمل کے لیے بہت بڑا دھچکا ہے۔ تین سال کی پابندی سے عمر اکمل کا کرکٹ کیرئیر ختم ہو جائے گا لیکن ہم بورڈ سے لڑ نہیں سکتے۔ صرف اپیل کر سکتے ہیں اور تفصیلی فیصلہ آنے پر متعلقہ فورم میں اپیل دائر کی جائے گی۔
خیال رہے کہ 20 فروری کو پاکستان کرکٹ بورڈ نے اینٹی کرپشن کوڈ کے تحت عمر اکمل کو فوری طور پر معطل کر دیا تھا۔ اینٹی کرپشن یونٹ کی جانب سے تحقیقات شروع کی گئی تھیں عمر کو نوٹس آف چارج جاری کرتے ہوئے ان سے 14 دن کے اندر جواب طلب کیا گیا تھا۔ معطلی کی وجہ سے عمر اکمل پاکستان سپر لیگ 5 میں بھی حصہ نہیں لے سکے تھے اور پی ایس ایل میں اپنی ٹیم کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کی نمائندگی نہیں کر سکے تھے۔
یاد رہے کہ عمر اکمل اپنے کیریئر کے دوران ڈانس پارٹیوں میں شرکت، بدتمیزی، لڑائی جھگڑے سمیت مختلف اوقات میں مسلسل تنازعات کا شکار رہے ہیں، عمر اکمل نے اپنا ڈیبو نیوزی لینڈ کے خلاف کیا تھا جہاں انھوں نے سنچری سکور کی لیکن دورہ آسٹریلیا میں بڑے بھائی کامران اکمل کو میچ سے ڈراپ کرنے پر بطور احتجاج انجری کا بہانا بنا کر نہ ڈسپلن کی خلاف ورزی کرتے ہوئے میچ نہ کھیلنے پر ان پر جرمانہ عائد کیا گیا تھا۔
2015 میں ایک روزہ کرکٹ کے عالمی کپ کے بعد ہیڈ کوچ وقاریونس نے اپنی رپورٹ میں عمراکمل کےمبینہ غیرسنجیدہ رویوں کے بارے میں منفی ریمارکس تحریر کیے اور انھ سے جان چھڑانے کی تجویز دی۔ 2017 میں وہ مکی آرتھر کے ساتھ اختلافات کی وجہ سے خبروں کی زینت بنے رہے۔
عمراکمل نے دو سال قبل ٹی وی انٹرویو میں یہ دعوی کیا کہ انھیں 2015 کے عالمی کپ میں بھارت کے خلاف میچ سے قبل اسپاٹ فکسنگ میں شریک ہونے کی پیشکش ہوئی تھی۔پاکستان کرکٹ بورڈ نے ان کے اس دعوے کا نوٹس لیتے ہوئے انھیں اپنے اینٹی کرپشن یونٹ کے سامنے پیش ہونے کے لیے کہا جبکہ آئی سی سی نے بھی اس بارے میں اپنی تحقیقات شروع کردی تھی جو ابھی ختم نہیں ہوئی ہے ۔
عمراکمل کو نومبر 2015 میں حیدرآباد میں ایک ڈانس پارٹی کے دوران پولیس حراست میں لے کر تھانے لی گئی تھی تاہم بعدازاں انھیں اس واقعے میں کلیئر کردیا گیا تھا۔ چند ماہ بعد اپریل 2016 میں عمراکمل فیصل آباد میں ایک اسٹیج ڈرامہ دیکھنے کے دوران تھیٹر کی انتظامیہ سے جھگڑے کے سبب شہ سرخیوں میں آئے تھے۔
عمراکمل دو مرتبہ لاہور میں ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر ٹریفک وارڈن سے الجھ چکے ہیں۔ پہلا واقعہ فروری 2014 میں پیش آیا جب ٹریفک وارڈن کے ساتھ نامناسب گفتگو کرنے پر ان کے خلاف ایف آئی آر بھی درج کی گئی تھی اور انہیں پولیس اسٹیشن لے جایا گیا تھا۔ اس کے بعد مارچ 2017 میں دوسرے واقعے میں ان پر اپنی گاڑی پر فینسی نمبر پلیٹ لگانے کا الزام تھا۔
تاہم حالیہ واقعہ میں کرپشن کی بروقت اطلاع نہ دینے پر پاکستان کرکٹ بورڈ کی جانب سے پابندی عائد کئے جانے کے بعد اب عمر اکمل 3 سال تک کسی بھی طرز کی کرکٹ نہیں کھیل سکیں گے اور اس پابندی کے بعد ان کا کیریئر ختم ہونے کا اندیشہ ہے۔
