عمران خان نے کامیاب ہونا ہے تو خوشامدیوں سے جان چھڑا لیں

مسلم لیگ ق کے سربراہ اور کپتان کے اتحادی چوہدری شجاعت حسین نے وزیر اعظم عمران خان کو اپنے قریبی رفقاء سے محتاط رہنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر وہ کامیابی سے حکومت چلانا چاہتے ہیں تو انہیں اپنے اردگرد موجود خوشامدیوں اور منافقوں سے نجات حاصل کرنا ہو گی۔
خیال رہے کہ اس بیان سے محض ایک ہفتہ قبل ہی قاف لیگ کی مرکزی قیادت کی جانب سے یہ اعلان سامنے آیا تھا کہ ان کے حکومت کے اتحادیوں کے ساتھ اختلافات ختم ہوگئے ہیں۔ یہ دوسری مرتبہ ہے کہ وفاق اور صوبہ پنجاب میں پی ٹی آئی کی اہم اتحادی جماعت پی ایم ایل کیو نے وزیراعظم کے قریبی ساتھیوں پر انگلی اٹھائی ہے اور انہیں حکومت چلانے میں پی ٹی آئی کی ناکامی کا ذمہ دار قرار دیا ہے۔ عمرہ کی ادائیگی کے بعد سعودی عرب سے واپسی پر چوہدری شجاعت کا کہنا تھا کہ ’عمران خان کے ارادے اچھے ہیں لیکن انہوں نے ابھی تک دوسروں کی طرح سیاسی داؤ پیچ نہیں سیکھے، میں انہیں ایک مشورہ دینا چاہتا ہوں کہ اپنے ارد گرد موجود خوشامدیوں اور منافقوں سے دور رہیں اور انہیں اپنے آس پاس نہ رہنے دیں‘ کیونکہ یہی لوگ فساد پیدا کرتے ہیں۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ میں نے ماضی میں نواز شریف کو بھی خودپسندی میں مبتلا ہونے پر خبردار کیا تھا لیکن انہوں نے بھی میری بات پر دھیان نہیں دیا اور پھر نقصان اٹھایا، چوہدری شجاعت نے کہا کہ دلچسپ بات یہ ہے کہ کچھ خوشامدی جو نواز شریف کے ساتھ تھے آج عمران کے ساتھ اقتدار میں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں نے جنرل پرویز مشرف کو بھی یہی مشورہ دیا تھا لیکن سچ تو یہ ہے کہ اپنی تعریف کون نہیں سننا چاہتا اور خوشامد کون پسند نہیں کرتا۔
یاد رہے کہ اس پہلے چوہدری شجاعت نے ایک موقع پر یہ کہا تھا کہ وزیراعظم کی ٹیم میں کچھ فسادی کردار موجود ہیں جو انہیں درست مشورہ نہیں دے سکتے۔ چوہدری شجاعت کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ وہ انہی فسادیوں کی بات کر رہے ہیں جنہوں نے کپتان اور قاف لیگ کی قیادت کے مابین فاصلے پیدا کیے ہیں۔ ذرائع کا کہنا تھا کہ ’مسلم لیگ (ق) کو یقین ہے کہ اس طرح کے عناصر وزیراعظم کو ان کی جماعت کی قیادت کے بارے میں غلط معلومات دے کر ان کے درمیان بھروسے کا بحران پیدا کرتے ہیں‘۔
خیال رہے کہ گزشتہ ماہ دونوں حکومتی اتحادیوں کے درمیان اختلافات اس وقت کھل کر سامنے آئے تھے جب مسلم لیگ (ق) کے وزیر ہاؤسنگ طارق بشیر چیمہ نے کابینہ اجلاس میں شرکت نہ کر کے حکومت سے راہیں جدا کرنے کا عندیہ دیا تھا۔
یہ رپورٹس بھی تھیں کہ چوہدری شجاعت حسین اور پرویز الٰہی پنجاب کی ‘اعلیٰ بیورو کریسی’ میں اپنا حصہ حاصل کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ قاف لیگ کو رام کرنے کے لئے وزیراعظم نے جہانگیر ترین کی سربراہی میں ایک کمیٹی بنا کر مسلم لیگ (ق) کی قیادت سے مذاکرات کیے تھے اور وفاق اور پنجاب میں قاف لیگ کے ایک، ایک وزیر کو بااختیار بنانے پر رضامندی کا اظہار کیا تھا۔ تاہم حکومت اور چوہدریوں کے تعلقات میں ایک مرتبہ پھر اس وقت دراڑ آئی جب عمران خان نے مذاکراتی کمیٹی سے جہانگیر ترین کو نکال دیا۔ نئی کمیٹی کے قیام کے بعد تحریک انصاف سے مذاکرات کرنے والے پرویز الٰہی نے معاہدے پر عمل درآمد نہ ہونے پر تشویش کا اظہار کیا تھا اور حکومت کو اس پر عمل درآمد کے لیے ایک ہفتے کی مہلت دی تھی۔ بعدازاں پرویز الٰہی نے حکومتی کمیٹی سے مذاکرات کے بعد 10 فروری کو معاملات طے پانے کا اعلان کیا تھا۔ تاہم اب چودھری شجاعت کے تازہ ترین بیان سے ایسا لگتا ہے کہ حکومت اور ق لیگ کے معاملات ابھی پوری طرح درست نہیں ہو پائے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button