جرمنی کا افغانستان سے شراب واپس لانے کا اعلان

جرمنی نے افغانستان سے اپنے فوجیوں کے انخلا کے ساتھ ساتھ ساڑھے 22 ہزار لیٹر شراب بھی واپس لانے کا اعلان کیا ہے۔ افغانستان میں جرمنی کے 11 سو فوجی اہلکار موجود ہیں جن کی وطن واپسی کے انتظامات کیے جارہے ہیں تاہم نیٹو اتحادی فوج کا حصہ بننے والے جرمن فوج کے ان اہلکاروں کے ساتھ شراب کی بڑی کھیپ بھی واپس لائی جائے گی۔ہ افغانستان کے علاقے مزار شریف میں جرمنی فوج کے زیر استعمال فوجی اڈے میں 60 ہزار بیئر کے کین، وائن اور شیمپین کی بوتلیں موجود ہیں۔فوجی اہلکاروں کو دن میں زیادہ سے زیادہ دو کین بیئر یا اتنی ہی شراب پینے کی اجازت ہوتی ہے تاہم انخلا سے قبل پُرتشدد کارروائیوں میں اضافے کے بعد کمانڈرز نے سپاہیوں کہ شراب نوشی پر پابندی عائد کر دی ہے جس کے باعث کافی مقدار میں غیر استعمال شدہ شراب موجود ہے۔
یاد رہے کٰہ طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے اپنی سلسلہ وار ٹوئٹس میں لکھا کہ زابل، اورزگان، غزنی اور نورستان کے اہم اضلاع کا کنٹرول حکومتی فورسز کو پسپا کرکے حاصل کرلیا ہے۔
