جماعت اسلامی کے سابق امیر سید منور حسن انتقال کر گئے

جماعت اسلامی کے سابق امیر سید منور حسن طویل علالت کے بعد حرکت قلب بند ہوجانے سے 79 برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔
منور حسن 5 اگست 1941 کو دہلی میں پیدا ہوئے تھے اور گزشتہ کئی روز سے خرابی صحت کے باعث کراچی کے ہسپتال میں زیر علاج تھے۔
جماعت اسلامی پاکستان کے نائب امیر ڈاکٹر معراج الہدیٰ صدیقی نے نجی چینل جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے سید منور حسن کے انتقال کی تصدیق کی۔
ڈاکٹر معراج الہدیٰ صدیقی نے بتایا کہ وہ تقریباً 20 روز سے کراچی کے امام کلینک میں زیر علاج تھے، گزشتہ ایک سے 2 روز میں ان کی طبیعت بہتر ہوئی تھی لیکن وہ اپنے رب کے حضور جا پہنچے۔
ان کے بارے میں بات کرتے ہوئے جماعت اسلامی کراچی کے امیر حافظ نعیم الرحمٰن کا کہنا تھا کہ وہ ایک عظیم انسان اور ولی کامل انسان تھے۔
انہوں نے بتایا کہ وہ طویل عرصے سے بیمار تھے تاہم گزشتہ 10 سے 15 روز سے ان کی طبیعت زیادہ خراب ہوگئی تھی۔
نماز جنازہ کے حوالے سے حافظ نعیم الرحمٰن نے بتایا کہ اس حوالے سے مشاورت جاری ہے اور اعلان جلد کیا جائے گا۔
یاد رہے کہ منور حسن تقسیم ہند کے بعد وہ ہجرت کر کے پاکستان آگئے اور جامعہ کراچی سے اسلامک اسٹڈیز اور عمرانیات میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کررکھی تھی۔ جامعہ کراچی کے زمانہ طالب علمی میں مارکسی نظریات کی حامل طلبہ تنظیم نیشنل اسٹوڈنٹس فیڈریشن (ایس ایس ایف) کے سرگرم کارکن تھے۔ انہیں جماعتِ اسلامی کی طلبہ تنظیم، اسلامی جمیعتِ طلبہ سے تعلق رکھنے والے ایک نظریاتی کارکن کو توڑ کر اپنی طرف لانے کی ذمہ داری سونپی گئی، لیکن معاملہ اس کے برعکس ہوا اور وہ ان کے نظریات سے اتنے متاثر ہوئے کہ جمیعت میں ہی شمولیت اختیار کرلی۔ وہ 3 سال تک اسلامی جمیعتِ طلبہ کے ناظمِ اعلیٰ رہے اور 1967 میں اسلامی جمیعت طلبہ سے جماعتِ اسلامی میں شمولیت اختیار کرلی۔
وہ جماعت اسلامی کے امیرِ کراچی رہے، اس کے علاوہ مرکزی شوریٰ اور مجلسِ عاملہ کے بھی رکن رہے۔ مارچ 1977 کے نتیجے میں قائم ہونے والی قومی اسمبلی کے بھی وہ مختصر مدت کے لیے رکن رہے جس کا خاتمہ جنرل ضیاالحق کے مارشل لا کے نتیجے میں ہوا۔
جماعت سے وابستگی کی جھلک ان کی عائلی زندگی میں بھی نظر آتی ہے کیوں کہ ان کی شادی جماعتِ اسلامی شعبہ خواتین کی جنرل سیکریٹری عائشہ منور سے ہوئی تھی۔ بطور ایم این اے انہیں کسی بھی انفرادی امیدوار کے مقابلے میں ملک بھر میں سب سے زیادہ ووٹ حاصل کرنے کا اعزاز بھی پایا۔
قاضی حسین احمد کے بعد منور حسن 2008 میں جماعت کے امیر منتخب ہوئے لیکن انہوں نے مسلسل خراب ہوتی صحت کے سبب اگلے انتخابات میں حصہ نہ لینے کا فیصلہ کیا اور یوں وہ اب تک جماعت کے واحد امیر تھے جو محض ایک مرتبہ امارات کے منصب پر فائض ہوئے۔
