جن ترامیم پر اتفاق ہےوہ اکتوبر کےپہلے ہفتے میں منظور کرائی جاسکتی ہیں: رانا ثناء اللہ

وزیر اعظم کے مشیر برائے سیاسی امور اور سینئر رہنما مسلم لیگ ن رانا ثناء اللہ کا کہنا ہے کہ جن ترامیم پر اتفاق ہےوہ اکتوبر کےپہلے ہفتے میں منظور کرائی جاسکتی ہیں۔

سینئر رہنما مسلم لیگ ن رانا ثناء اللہ نےکہاکہ مجوزہ آئینی ترامیم کے مسودے پر پی ٹی آئی سےبھی غیر رسمی بات ہوئی ہے اور وہ بھی سمجھتے ہیں کہ ترامیم سے بہتری آئے گی۔

رانا ثناء اللہ کا کہنا تھاکہ جن ترامیم پر اتفاق ہےوہ اکتوبر کےپہلے ہفتے میں منظور کرائی جاسکتی ہیں، وقتی طور پر کامیابی نہ ملنا حکومت کی ناکامی نہیں ہے۔

رانا ثناء اللہ نے مزید کہا کہ عدالتی نظام کام نہیں کررہا جس کی وجہ سے دیگر معاملات بھی آگے نہیں بڑھ رہے۔

آئینی ترامیم : حکومتی اتحاد مولانا فضل الرحمٰن کی حمایت حاصل کرنےمیں پھر ناکام


یاد رہے کہ وزیر اعظم کے مشیر برائے قانون و انصاف بیرسٹر عقیل ملک کا کہنا تھا کہ آئینی ترامیم کےلیے ہمارے نمبرز پورےتھے لیکن ہم وسیع تر مشاورت چاہتے تھے، انہوں نےکہا کہ کچھ نکات پر تحفظات سامنے آئے ہیں جس کے بعد معاملہ آگےنہیں بڑھ سکا۔

اس حوالے سے خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ آئینی ترامیم کےمعاملے میں کوئی سیاست نہیں، ترامیم آئین میں عدم توازن دور کرنے کےلیے ہے، رکن پارلیمنٹ کےحیثیت سے آئین ہمیں اختیار دیتاہے کہ ہم پارلیمنٹ کی سربلندی کےلیے کام کریں جب کہ قانون سازی اور آئین کی حفاظت کرنا ہمارا حق ہے۔

خواجہ آصف نے کہاکہ ہم یہ چاہتے ہیں کہ اتفاق رائے سے یہ منظور ہو، کابینہ سے منظوری تک آئینی ترمیم کی کوئی حتمی شکل سامنےنہیں آنی تھی اور جب اس پر اتفاق ہوجائے گا تو اس ایوان میں بھی ضرور آئےگا۔

Back to top button