جوہری ہتھیاروں کے اخراجات میں اضافہ

دنیا میں جہاں کورونا کے وبائی مرض کے باعث معاشی بدحالی کے سائے منڈلارہے ہیں، وہیں ایٹمی ممالک نے گزشتہ برس ایٹمی ہتھیاروں پر مجموعی طور پر ایک ارب 40 کروڑ ڈالر اضافی خرچ کیے ہیں۔ دنیا کے 9 جوہری ممالک نے ایٹمی ہتھیاروں پر اپنے اخراجات میں اضافہ کیا ہے۔ایک طرف جہاں دنیا میں کورونا سے متاثرہ افراد کی تعداد ہسپتال میں آکسیجن گیس کی منتظر ہے اور طبی عملے کو کئی گھنٹوں تک زائد کام کرنا پڑتا ہے ادھر ان 9 ایٹمی ممالک کے پاس مجموعی طور پر 72 ارب ڈالر کے بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیار موجود ہیں۔آئی سی اے این کے مطابق امریکا کی جانب سے خرچ کی جانے والی رقم گزشتہ برس مجموعی فوجی اخراجات کا تقریباً 5 فیصد ہے۔ جوہری ریاستیں بشمول برطانیہ، فرانس، بھارت، اسرائیل، پاکستان اور شمالی کوریا نے مجموعی طور پر 2020 میں ہر منٹ میں ایک لاکھ 37 ہزار ڈالر سے زائد خرچ کیا۔اخراجات میں اضافہ نہ صرف اس وقت ہوا جب دنیا ایک صدی میں بدترین وبائی بیماری سے دوچار ہے بلکہ دوسرے ممالک بھی جوہری ہتھیاروں پر پابندی عائد کرنے کے لیے جمع ہو رہے ہیں۔کس طرح حکومتیں دفاعی ٹھیکیداروں کو تیزی سے ٹیکس کی رقم جمع کرکے دے رہی ہیں، جو بدلے میں بڑھتے ہوئے اخراجات کی حوصلہ افزائی کرنے والے لابیسٹ پر بڑھتی ہوئی رقم خرچ کرتے ہیں۔
گزشتہ برس ایٹمی ہتھیاروں کی پیداوار کرنے والی 20 سے زیادہ کمپنیاں موجودہ یا نئے معاہدوں کے ذریعے اس کاروبار سے منافع بخش رہی ہیں۔
یاد رہے کٰہ دنیا میں ہتھیاروں کی طلب میں اضافے سے عالمی سطح پر ہتھیاروں کی برآمدات اوردرآمدات میں اضافہ ہوا ہے۔ 2015 سے 2019 تک عالمی سطح پر ہتھیاروں کی برآمدات میں 2010-2014 کےعرصے کے مقابلے میں 5.5 فیصد اضافہ ہوا ہے جبکہ پاکستان دنیا میں ہتھیار درآمد کرنے والا گیارواں بڑا ملک بن گیاہے جبکہ 2010 سے 2014 اور 2015 سے 2019 کے درمیان بھارت اور پاکستان کی جانب سے ہتھیاروں کی درآمد میں بالترتیب 32 اور 39 فیصد تک کمی آئی ہے۔
