پاکستانی سیاست میں زبان پھسلنے کی وبا عروج پر


آج کل پاکستانی سیاست میں زبان پھسلنے کی وبا عروج پر ہے اور ہر دوسرا سیاسی لیڈر تقریر کرتے ہوئے زبان پھسل جانے پر سوشل میڈیا ٹرولنگ کا نشانہ بنتا نظر آتا ہے۔ اسلام آباد کے جلسے میں اپنی تقریر کے دوران بلاول بھٹو کی زبان کیا پھسلی، انکی ‘کانپیں بھی ٹانگ’ گئیں۔ اس واقعے کے بعد کئی روز تک سوشل میڈیا پر ٹرولنگ کا نشانہ بننے کے بعد بلاول نے یہ وضاحت دی کے جب انہوں نے کراچی سے لانگ مارچ شروع کیا تو عمران کی ٹانگیں کانپ رہی تھیں لیکن جب وہ اسلام آباد پہنچے تو خوف سے عمران کی کانپیں ٹانگ رہی تھیں جو کہ خوف کا اگلا درجہ ہوتا ہے۔
ابھی بلاول کی تقریر سُن کر کپتان کی ‘کانپیں ٹانگ’ ہی رہی تھیں کہ وزیرِ داخلہ شیخ رشید نے حزبِ اختلاف کو تڑی لگا دی کہ جس نے ‘قانون میں ہاتھ لیا’ اسے میں نہیں چھوڑوں گا۔ اب پتا نہیں شیخ صاحب کی زبان لڑکھڑا گئی یا وہ کوئی ‘اسی قسم کی’ بات کہنا چاہتے تھے۔ ویسے شیخ رشید کی زبان کم ہی بہکتی ہے، وہ تو اکثر بولتے ہی بہکی ہوئی زبان ہیں۔ ہم نے یہ تو سُن رکھا ہے کہ قانون کے ہاتھ لمبے ہوتے ہیں، جس سے قانون کے ہاتھ ہونے کی تصدیق ہوتی ہے، قانون کے بارے میں ‘مزید معلومات’ شیخ صاحب کے اس بیان سے حاصل ہوگئیں۔
اس سے پہلے عوامی معلومات میں اضافہ مریم نواز نے یہ فرما کر کیا تھا کہ ‘انڈے کتنے روپے کلو ہیں’ ورنہ لوگ تو اب تک یہی سمجھتے تھے کہ ‘انڈوں’ کو گِنا کرتے ہیں، تولا نہیں کرتے۔ زبان پھسلنے کا ذکر ہو اور جناب قائم علی شاہ کی یاد نہ آئے یہ کیسے ممکن ہے۔ خیر ہوئی کہ موصوف نے امجد صابری کی شہادت پر تعزیت کرتے ہوئے جنید جمشید کا نام لے کر انہیں قوال قرار دیا، یہ بھی ممکن تھا کہ وہ فرماتے ‘جنید جمشید نے گورے رنگ کا زمانہ کبھی ہوگا نہ پرانا اور سانولی سنولی سی محبوبہ جیسا صوفیانہ کلام قوالیوں کے ذریعے پیش کرکے دین کی بہت خدمت کی’۔
اسی طرح جب فریال تالپور کی زبان پھسلی تو انہوں نے بلاول بھٹو کو بھی ‘شہید’ کہہ ڈالا۔ ہماری دعا ہے کہ اللہ بلاول کو محفوظ رکھے اور لمبی عمر عطا کرے، لیکن پھپھو کا یہ لغزش زدہ جملہ سن کر بلاول نے سوچا تو ہوگا کہ نام کے ساتھ بھٹو لگانا صحیح فیصلہ نہیں تھا، ورنہ بھٹو کے ساتھ شہید کا لاحقہ لگا ہی دیا جاتا ہے۔
لیکن اگر دنیا بھر کے سیاست دانوں میں زبان پھسلنے کا مقابلہ ہو تو عمران خان یہ عالمی کپ بھی جیت لیں گے۔ ہمارا حُسن ظن ہے کہ اتنا تو وہ خود بھی نہیں پھسلے جتنی ان کی زبان پھسلتی ہے۔ یہ تو ان کے حامیوں کی مہربانی ہے کہ اپنے رہنما کی پیروی کرتے ہوئے وہ بھی روحانیت کو رحونیت، تونسہ کو چونسا نہیں کہنے لگے ورنہ جانے کتنے لفظوں اور ناموں میں تبدیلی آچکی ہوتی۔ خان صاحب کی زبان جب پھسلتی ہے تو سائنس اور ٹیکنالوجی سے جغرافیے تک انقلاب لے آتی ہے، پھر نیپال سمٹ کر اپنے دارالحکومت کھٹمنڈو میں چلا جاتا ہے، ملک کے موسم بڑھ کر 12 ہوجاتے ہیں اور بندہ حیران رہ جاتا ہے کہ اب تک تو موسم کی ادا دیکھ کر انسان بدل رہے تھے اب انسانوں کی شرح پیدائش سے متاثر ہوکر موسم بھی صاحبِ اولاد ہونے لگے ہیں۔
‘اسپیڈ کی لائٹ سے زیادہ تیز ٹرین’ تصور میں یونہی زن سے گزر جاتی ہے جیسے خان صاحب سے بندھی امید کے دن گزر گئے، جرمنی اور جاپان کی سرحدیں آپس میں آ ملتی ہیں اور جرمن کہنے لگتے ہیں کہ خدا کا شکر ہے یہ سرحدیں بہت دیر سے آپس میں آکر بھڑیں، ورنہ ایٹم بم ذرا سا بہک کر جرمنی پر گر سکتا تھا۔

Back to top button