جیل بھی عمران خان کی سیاسی جہالت کا کچھ نہ بگاڑ سکی؟

سینئر صحافی اور کالم نگار سید حماد غزنوی نے کہا ھے کہ جس وقت عمران خان کو ہر اہم شخص اور ادارے سے تعلق بہتر بنانے کی ضرورت ہے، عین اسی وقت وہ چُن چُن کر ہرکلیدی کردار پر تیر اندازی میں مصروف ہیں، اکانومسٹ میں شائع شدہ اپنے مضمون میں وہ نواز شریف کو ’مجرم اور بھگوڑا‘ کہہ رھے ہیں، انہیں مقتدرہ سے تعلقات ہم وار کرنے کی اشد ضرورت ہے جبکہ عمران عالمی سطح پر ادارے کو کٹہرے میں کھڑا کرنا چاہ رہے ہیں، امریکا سے چھیڑخانی سے اس وقت انہیں کیا ملے گا، جیل میں رہ کر بھی عمران خان نے کوئی سبق نہیں سیکھا۔ اپنے ایک کالم میں حماد غزنوی لکھتے ہیں کہ عمران خان کی شخصیت کو دیکھتے ہوئے اندیشہ ہے کہ ان کا پسِ زندان قیام اپنے سیاسی مخالف سے طویل تر ہو سکتا ہے، اور پھر عمران کو بین الاقوامی ضامن ملنا بھی اتنا آسان نہیں ہو گا کیوں کہ عالمی سطح پر انہیں نواز شریف کی طرح دوست میسر نہیں ۔ یہ بھی درست ہے کہ مقتدرہ عمران خان کو شاید ملک سے باہر بھیجنے سے بھی کترائے گی، عمران خان کی گارنٹی کون دے گا؟ ان کے بارے دوستوں دشمنوں کی متفقہ رائے یہ ہے کہ وہ باہر جا کر کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں جس سے ریاست کے مفادات کو شدید زک پہنچ سکتی ہے۔یہ سچ ہے کہ عمران خان میں وہ بنیادی لچک نظر نہیں آ رہی جو معاملات کو سلجھانے کی پہلی شرط ہوا کرتی ہے، نو مئی سے واضح لاتعلقی ظاہر کرنا تو درکنار وہ ابھی تک نو مئی سے فلرٹ کرتے نظر آتے ہیں، افسوس کہ اب انکے آس پاس کوئی ایسا آدمی بھی نہیں جو فریقین کیلئے یکساں معتبر ہو ۔
حماد غزنوی کے مطابق مسئلہ یہ ہے کہ عمران خان اس کنویں میں گرنے والے پہلے سیاست دان نہیں ہیں، انکے سامنے مثالیں موجود ہیں، کس طرح منڈیر تک چڑھنا ہے اور کس طرح دوبارہ سیاسی پرندوں کی ڈار میں شامل ہونا ہے، مگر وہ اپنی ضد کی دلدل میں گردن تک دھنسے ہوئے ہیں ۔ سیاست دانوں کے سیکھنے سکھانے کی ایک عمر ہوتی ہے، اسکے بعد ان سے کچھ سیکھنے اور خود کو بدلنے کی توقع رکھنا نادانی ہے ۔ آپ کیا سمجھتے ہیں عمران خان المعروف بانی پی ٹی آئی نے اپنے اقتدار سے اڈیالا تک کے رولر کوسٹر سے کچھ سیکھا ہو گا؟ کیا انہوں نے یہ سیکھ لیا ہو گا کہ جب ایک بیل شدید غصے میں آپ کی طرف دوڑتا آ رہا ہو تو اسے تھکایا جاتا ہے، ٹکّر نہیں ماری جاتی، ٹکّر ماریں گے تو بیل کا سر نہیں پھٹے گا، آپ کی کھوپڑی دو ٹکڑے ہو جائے گی؟ کیا عمران نے یہ سیکھ لیا ہو گا کہ سیاست میں دو قدم آگے بڑھنے کے بعد کبھی ایک قدم پیچھے بھی ہٹنا پڑتا ہے؟ اور کیا بانی صاحب نے یہ سیکھ لیا ہو گا کہ دوسرے سیاست دان اچھوت نہیں ہوتے، ان سے ہاتھ ملانا ہرگز ہرگز گناہ کے زمرے میں نہیں آتا، اور ان سے نفرت کے علاوہ بھی اپنی سیاست کی بنیاد رکھی جا سکتی ہے؟ جو تھوڑی بہت خبر اڈیالا جیل سے آئی ہے پہلے وہ سُن لیں۔ جب نواز شریف پاکستان واپس آئے تو بانی صاحب کا ایک استقبالیہ فقرہ سننے میں آیا، جس میں وہ طنزاً اپنے سیاسی مخالف کو ’گوالمنڈی کا منڈیلا‘ کہہ کر مخاطب کر رہے ہیں۔ یعنی وہی تضحیک آمیز اندازِ تخاطب، وہی کمینہ پن ۔ زندگی کے سب سے بڑے ہنگام سے گزر کر یہ سبق سیکھا ہے عمران خان نے، یعنی جس آدمی سے عمران کا ہر حامی لیول پلیئنگ فیلڈ مانگتا پھرتا ہے، اسی کے ساتھ تمسخرانہ برتاؤ؟ ویسے پتا نہیں مولانا فضل الرحمان کو آج کل بانی صاحب کس نام سے یاد کرتے ہوں گے؟
حماد غزنوی کہتے ہیں کہ کے انگریزی کے ایک موقر جریدے میں عمران خان کا ایک مضمون چھپا ہے جس کے مندرجات بتاتے ہیں کہ صاحب مضمون نے پچھلے ایک دو سال میں کیا سیکھا ہے۔ اپنے لفظوں میں فرماتے ہیں کہ امریکا اور فوج نے مل کر انہیں حکومت سے نکالا تھا، پاکستان کی فوج ان کے خلاف ہے، ان کی پارٹی توڑ دی گئی ہے، انہیں الیکشن نہیں لڑنے دیا جا رہا، وغیرہ وغیرہ ۔ اکانومسٹ کے مضمون سے یہ بھی سمجھ آتا ہے کہ صاحبِ مضمون مقتدرہ سے یکسر ناامید ہو چکا ہے، نہ تو فریقین میں کوئی بات چیت ہو رہی ہے اور نہ معافی تلافی کا دور دور تک کوئی امکان ہے۔ یہ نکتہ بھی واضع ہے کہ امریکا سے جو کردار ادا کرنے کی خواہش کی جا رہی تھی، امریکا اس پر تیار نہیں ، دوسرے لفظوں میں پی ٹی آئی کی متحرک امریکی تنظیم، وافر فنڈ اور امریکی فیصلہ سازوں تک رسائی کی سہولت، کا نتیجہ صفر نکلا ہے۔پھر ایک دن اڈیالا جیل سے مختلف ذرائع نے اس خبر کی بھی تصدیق کی کہ بانی صاحب نے الیکشن کمیشن کے ارکان کو بالمشافہ دھمکی دی ہے کہ وہ انہیں نہیں چھوڑیں گے۔ اب اس سے کیا سمجھا جائے، بانی صاحب نے اپنی غلطیوں سے کچھ سیکھاہے یا 71 سال کی عمر میں اولادِ آدم سیکھنے سکھانے کے عمل سے کوسوں دور آ چکی ہوتی ہے۔ کے مفادات کو شدید زک پہنچ سکتی ہے ۔
مختصراً ، سوال یہ ہے کہ کیا عمران خان اس عمر میں خود کو بدل سکتے ہیں؟

Back to top button