جیل میں قید عمران خان کا آرٹیکل دی اکانومسٹ میں کیسے چھپا؟

پاکستان میں الیکشن سے قبل سوشل میڈیا پر انتخابات کے حوالے سے ٹرینڈز کرنے والے متعدد موضوعات میں سے ایک برطانوی جریدہ ’دی اکانومسٹ‘ بھی ہے۔ تاہم اکانومسٹ کے لیے مضمون کیا عمران خان نے ہی لکھا تھا اس پر کنفیوژن ابھی تک موجود ہے۔ جہاں ایک طرف نگراں حکومت کی جانب سے عمران خان کے جیل کے اندر سے آرٹیکل لکھنے کا سخت نوٹس لیا ہے وہیں دوسری جانب یہ خبریں بھی زیر گردش ہیں کہ عمران خان کے آرٹیکل کو دی اکانومسٹ میں چھپوانے کا تمام تر انتظام تحریک انصاف کی جانب سے ہائیر کی گئی لابنگ فرم نے کیا ہے جس کو اس کیلئے ادائیگی بھی بیرون ممالک سے کی گئی ہے اور آنے والے دنوں میں مختلف جرائد میں اس طرح کے مزید آرٹیکلز بھی چھپنے والے ہیں۔ تاہم سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا جیل کے قواعد کسی قیدی کی جانب سے ایسے آرٹیکل  لکھنے کی اجازت دیتے ہیں۔

خیال رہے کہ وفاقی اور پنجاب حکومت کا دعویٰ ہے کہ یہ گھوسٹ آرٹیکل ہے اکنامسٹ نے قارئین کو گمراہ کیا ۔ اور یہ کہ عمران خان نے ایسا کوئی آرٹیکل لکھا نہ اڈیالہ جیل سے باہر گیا جبکہ پی ٹی آئی کے سیکرٹری اطلاعات رئوف حسن کا کہنا ہے کہ یہ خط سابق وزیراعظم نے خود ہی لکھا تھا۔ عمران خان نے یہ آرٹیکل لکھا یا نہیں اس حوالے سے پنجاب کے جیل حکام تفتیش کررہے ہیں لیکن حقیقی سوال یہ ہے کہ کیا جیل کے قوانین کسی قیدی کو کسی قومی یا بین الاقوامی اشاعت ادارے میں لکھنے کی اجازت دیتے ہیں یا نہیں۔ کیا کوئی شخص جو جیل میں ہو وہ سیاست میں فعال حصہ لے سکتا ہے۔اس حوالے سے پاکستان کے جیل خانہ جات کے قوانین کیا کہتے ہیں۔

ماہرین قانون کے مطابق 1978 کے حوالات کے قواعد 265 کے مطابق’’ اعلیٰ کلاس کے قیدیوں کو ہفتہ وار ایک خط لکھنے اور ایک انٹرویو دینے کی اجازت ہوگی ۔خط اور انٹرویو باہم ایک دوسرے کی جگہ بھی لے سکتے ہیں۔ کسی ہنگامی صورت میں جیسا کہ موت یا شدید بیماری کی صورت میں قیدی کے خاندان کے لیے قوانین سپرنٹنڈنٹ کی ہدایات پر نرم بھی کیے جاسکتے ہیں۔ کسی خاص وقت میں قیدی کو ملنے کےلیے آنے والے ملاقاتیوں کی تعداد 6 تک محدود ہوگی۔ یہی قانون قیدیوں کو سیاست سے منع بھی کرتا ہے۔اور انہیں کسی اشاعت میں خط لکھوانے سے منع بھی کرتا ہے۔ اس قانون میں یہ بھی لکھا ہے ’’ قیدی کے انٹرویوز میں سیاسی معاملات پر گفتگو کی اجازت نہیں ہوگی۔ تمام خطوط پرائیویٹ معاملات تک محدود ہوں گے اور ان میں جیل انتظامیہ اور ڈسپلن یا دیگر قیدیوں یا سیاست کا تذکرہ نہیں ہوگا۔ جو معاملات زیربحث آئیں ان کے موضوع کی مطابقت سے قیدی کے استحقاق کو ختم یا کم کیا جاسکتا ہے۔

دوسری جانب نگراں حکومت نے عمران خان کے آرٹیکل کو گھوسٹ قرار دیتے ہوئے اس کے حوالے سے دی اکانومسٹ کو خط لکھ کر آرٹیکل بارے حقائق سامنے لانے کا فیصلہ کیا ہے

’دی اکانومسٹ‘ کی جانب سے مضمون کی اشاعت پر پاکستان کی نگراں حکومت کا ردعمل سامنے آیا تو سوشل میڈیا پر صارفین کی جانب سے مختلف تبصروں کا ایک سلسلہ شروع ہو گیا۔اس وقت ’دی اکانومسٹ‘ اڑھائی لاکھ سے زائد ری ٹویٹس کے ساتھ پاکستان میں پہلے نمبر پر ٹرینڈ کر رہا ہے۔

’دی اکانومسٹ‘ کے ایکس (ٹوئٹر) اکاؤنٹ پر شیئر کیے گئے آرٹیکل پر کچھ سوشل میڈیا صارفین عمران خان کے مضمون کو ’وہی سب پُرانی باتیں‘ کہہ رہے ہیں۔تاہم کچھ کا کہنا کہ عمران خان کے آرٹیکل پر سوال اٹھانے کے باوجود عمران خان کا ’دی اکانومسٹ‘ میں لکھا گیا آرٹیکل ’17 سالہ تاریخ کا سب سے زیادہ پڑھے جانے والا آرٹیکل ہو گا۔‘

ایکس (ٹوئٹر) صارف سید زوہیب بخاری نے لکھا کہ ‘ دی اکانومسٹ نے آزادی اظہار رائے اور جمہوریت کے لیے لڑنے والوں کے دل جیت لیے ہیں۔‘

ایکس ہینڈل ’بِلو کی باتیں‘ پر لکھا گیا کہ ’دی اکانومسٹ کے خصوصی مضمون میں نیا کچھ نہیں۔ نئی بات یہ ہے کہ مذکورہ مضمون جیل میں قید شخص نے لکھا ہے۔‘مزید لکھا کہ ’باقی وہی پُرانی بات ہے۔ امریکی سازش، رجیم چینج، سائفر، 9 مئی اسٹیبلشمنٹ کی سازش۔‘

صحافی ثاقب بشیر نے لکھا کہ ’نگراں حکومت کی جانب سے عمران خان کے مضمون کی اشاعت پر سوال اٹھائے جانے کے بعد کل شام سے اب تک دی اکانومسٹ دو دفعہ وہی مضمون ٹویٹ کر چکا ہے۔‘انہوں نے اس حوالے سے مزید لکھا کہ ’بار بار ٹویٹ کرنے سے ایسے محسوس ہوتا ہے کہ حکومت کی انہوں نے چھیڑ بنا لی ہے۔‘

ارسلان ضیا ولیم پاکستان کے نگراں وزیر اطلاعات کو مینشن کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ ’آپ کو دی اکانومسٹ پر مقدمہ کرنا چاہیے۔‘

Back to top button