حماس اسرائیل جنگ میں اسامہ کا پراناخط تنقید کی زد میں کیوں؟

القاعدہ کے سابق سربراہ اُسامہ بن لادن کے ‘امریکہ کے نام خط’ سے متعلق ویڈیوز ‘ٹک ٹاک’ پر بڑے پیمانے پر شیئر ہونے کے بعد غزہ جنگ میں اسرائیل کو حاصل امریکی حمایت کے معاملے پر نئی بحث چھڑ گئی ہے۔گذشتہ کئی روز سے ٹک ٹاک اور دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر اسامہ بن لادن کا ’امریکہ کے نام‘ ایک خط گردش کر رہا ہے جس پر غزہ میں جاری حالیہ جنگ کے تناظر میں سازشی نظریات پر مبنی ویڈیوز بنائی جا رہی ہیں۔القاعدہ کے رہنما اسامہ بن لادن کا یہ خط ابتدائی طور پر عربی زبان میں ایک سعودی عرب کی ویب سائٹ پر شائع کیا گیا تھا جسے بعد میں اخبار دی گارڈیئن نے انگریزی ترجمے کے ساتھ اپنی ویب سائٹ پر شائع کیا تھا۔اس خط میں وہ امریکہ پر حملوں کا جواز پیش کرتے ہیں اور فلسطین کی آزادی کی بات کرتے ہیں۔ ٹک ٹاک کے مطابق ’لیٹر ٹو امریکہ‘ ہیش ٹیگ نے منگل اور بدھ کو 1.8 ملین ویوز حاصل کیے مگر پلیٹ فارم اس خط سے متعلق ’دہشتگردی کی حمایت‘ کرنے والے مواد کو حذف کر رہا ہے۔

وائٹ ہاؤس نے اُسامہ کے خط سے متعلق مواد کے ‘ٹک ٹاک’ پر ٹرینڈ کرنے پر تنقید کی ہے جبکہ ‘ٹک ٹاک’ نے بھی کہا ہے کہ وہ ایسی پوسٹس ہٹانے کے لیے اقدامات کر رہا ہے۔دوسری جانب برطانوی اخبار ‘گارڈین’ نے 21 برس قبل شائع ہونے والے اس خط کو اپنی ویب سائٹ سے ہٹا دیا ہے اور اس کی جگہ ایک نیا لنک شامل کر دیا ہے۔خیال رہے کہ خط میں اُسامہ بن لادن کا یہ دعویٰ شامل تھا کہ نائن الیون کے واقعات امریکہ کی اسرائیل کے لیے مسلسل حمایت کا نتیجہ تھے۔اُسامہ بن لادن 22 برس قبل نیویارک کے ورلڈ ٹریڈ سینٹر اور پینٹاگان میں دہشت گرد حملوں کے ماسٹر مائنڈ تھے۔ ان حملوں میں تقریباً تین ہزار افراد جان کی بازی ہار گئے تھے۔گارڈین نے اپنے ادارتی نوٹ میں کہا ہے کہ "ہماری ویب سائٹ پر شائع ہونے والی ٹرانسکرپٹ کو سیاق و سباق سے ہٹ کر سوشل میڈیا پر بڑے پیمانے پر شیئر کیا گیا تھا۔ اس لیے ہم نے اسے اتارنے کا فیصلہ کیا اور قارئین کو اس نیوز آرٹیکل کا لنک دیا ہے جو اس خط سے جڑے سیاق و سباق کو واضح کرتا ہے۔”

وائٹ ہاؤس نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر اپنے ردِعمل میں کہا ہے کہ "کسی کو بھی اُسامہ بن لادن کے بُرے الفاظ کو اُن 2977 امریکی خاندانوں سے جوڑنے کی اجازت نہیں دی جائے گی جو اب بھی اپنے پیاروں کو کھونے پر غم زدہ ہیں۔”بیان میں کہا گیا ہے کہ "خاص طور پر ایسے وقت میں تو اس کی بالکل اجازت نہیں دی جا سکتی جب پوری دنیا میں یہودیوں کے خلاف تشدد میں اضافہ ہوا ہے اور انہی سازشی نظریات کی بنیاد پر ہولوکاسٹ کے بعدحماس نے یہودیوں کا بدترین قتلِ عام کیا ہے۔”

امریکی ردِعمل کے بعد چینی ویڈیو شیئرنگ ایپ ‘ٹک ٹاک’ نے بھی مذکورہ مواد اپنے پلیٹ فارم سے ہٹانے کا عمل شروع کر دیا ہے۔ایپ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ یہ مواد ہٹانے کے جارحانہ اور مؤثر اقدامات کیے جا رہے ہیں جب کہ اس بات کی تحقیقات بھی کی جا رہی ہیں کہ یہ مواد ‘ٹک ٹاک’ تک کیسے پہنچا۔واضح رہے کہ اُسامہ بن لادن کا مذکورہ بیان نائن الیون حملوں کے ایک برس بعد جاری کیا گیا تھا جس میں اُنہوں نے مسلم ممالک سے متعلق مغربی ممالک کی پالیسیوں پر اعتراضات اُٹھائے تھے۔ بن لادن نے امریکہ کی اسرائیل کی حمایت اور فلسطینیوں سے متعلق اس کی پالیسی کی بھی مذمت کی تھی۔اُسامہ بن لادن نے اس خط میں کہا تھا کہ "امریکیوں نے ہمارے خلاف لاکھوں فوجی بھیجے اور ہماری سرزمین پر قبضہ کرنے کے لیے اسرائیلیوں کے ساتھ اتحاد بنایا اور نائن الیون حملے اسی کا ردِعمل تھے۔”

سوشل میڈیا پر کئی امریکی صارفین نے اسامہ کے خط پر ویڈیوز بنائی ہیں اور دیگر لوگوں سے اسے پڑھنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس نے خارجہ پالیسی اور دہشتگردی پر ان کا نقطۂ نظر تبدیل کیا ہے۔بعض صارفین اس خط کے متن کو بغیر سیاق و سباق غزہ میں جاری اسرائیل-حماس جنگ سے جوڑ رہے ہیں اور اسے بنیاد بنا کر اپنے سازشی نظریات کو فروغ دے رہے ہیں۔مگر دلچسپ بات یہ ہے کہ جہاں بعض لوگوں نے اس خط میں فلسطین کے مسئلے کو اجاگر کیا، کچھ لوگوں نے اس بات کی بھی نشاندہی کی کہ اس میں مغرب کی ’غیر اخلاقی اور فحش سرگرمیوں، ہم جنس پرستی‘ سمیت دیگر وجوہات کو بھی شدت پسندی کے حملوں کا جواز قرار دیا گیا تھا۔بعض لوگوں نے اپنی ویڈیوز میں اسامہ بن لادن کے یہودی اور خواتین مخالف نظریات کو بھی اجاگر کیا ہے۔واضح رہے کہ 10 برس تک دنیا کے مطلوب ترین شخص رہنے والے اُسامہ بن لادن کو امریکہ کی اسپیشل فورسز نے پاکستان میں ایک آپریشن کے دوران ہلاک کر دیا تھا۔

Back to top button