حکومتی نااہلوں کی ٹیم کا کپتان نالائق اعظم ہے

احسن اقبال نے عمران خان کو پاکستان کا گوربا چوف قرار دے دیا۔ انہوں نے کہا عمران خان کا تعلق ریاست مدینہ سے نہیں، سوویت یونین سے ہے، چینی چوروں کو بچانے کیلئے پوری انڈسٹری کو چور بنا دیا، حکومتی نااہلوں کی ٹیم کا کپتان نالائق اعظم ہے.
پاکستان مسلم لیگ نون کے رہنما احسن اقبال نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا یہ ثابت ہوگیا نیب شواہد کے بغیر لوگوں کو گرفتار کرتا ہے، جنہوں نے کھیلوں کے میدان بنائے وہ نیب پیش ہو رہے ہیں، ایک جہاز کریش ہونے پر پوری ایوی ایشن انڈسٹری کو داؤ پر لگا دیا، یہ ایک ایک کر کے ہر شعبے کو کریش کر رہے ہیں۔
احسن اقبال کا کہنا تھا ریاست مدینہ پاکستانیوں کیلئے ایک مقدس تصور ہے، نیب کو کچھ نہیں ملتا تو نئی ٹیمیں ہمارے پیچھے بھیج دی جاتی ہیں، گزشتہ 10 روز سے ایف آئی اے کی ٹیمیں ہمارے پیچھے لگی ہیں، ہم حکومتی ہتھکنڈوں سے گھبرانے والے نہیں ہیں، لوگوں کو گرفتاری کے نام پر ہراساں کیا جا رہا ہے، نواز شریف کی طبیعت بہتر ہونے پر دل کا آپریشن ہوگا ۔
بعد ازاں قومی اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے احسن اقبال نے کہا کہ کل وزیر اعظم نے کہا کہ میرے بیانات میں تضاد ثابت کریں وزیر اعظم صاحب بتائیں کہ ان کے کس بیان میں تضاد نہیں ہے انھوں نے مزید کہا کہ وزیر اعظم نے کہا تھا کہ انکی کابینہ 15 افراد پر مشتمل ہو گی لیکن یہاں وزیروں کی فوج لگائی گئی ہے وزیر اعظم کہتے تھے کہ قرضے نہیں لیں گے اس حکومت نے تاریخ کے سب سے زیادہ قرضے لیے یہ حکومت تضادات کا مجموعہ ہے. احسن اقبال نے مزید کہا کہ ایم این ایز کو بجٹ جاری کیا گیا ہے ایم این ایز کو جو بجٹ دیا جاتا ہے اس کے حوالے سےخان صاحب کہتے تھے کہ یہ رشوت ہے تاہم عمران خان کی حکومت ایم این ایز کو ہمارے سے زیادہ فنڈز دے رہی ہے انھوں نے مزید کہا کہ یہ حکومت بتا دے کہ اس نے سیاحت کے لیے اگر کوئی پیسے رکھے ہوں یہ حکومت نیٹو سے تعلق رکھتی ہے نیٹو مطلب نو ایکشن ٹالک اعلی. ان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان کی بدحالی کی وجہ یہی ہے کہ جو دعوے کیے جاتے ہیں اس پر عمل درآمد نہیں کیا جاتا.
لیگی رہنما کا مزید کہنا تھا کہ شوگرسکینڈل میں اپنے لوگوں کو گرفتاری سے بچانے کیلئے پوری شوگر انڈسٹری پر ایف آئی آر کاٹ دی گئی. گاؤں میں بڑے ڈاکو کو بچانے کے لیے پورے گاؤں پر ایف آئی کاٹ دی جاتی ہے تاکہ بڑے ڈاکو بچ سکے. ان کا کہنا تھا کہ پی آئی اے کے حوالے سے جو انہوں نے کہا اس پر آج بین الاقوامی جریدوں میں اداریے چھپے ہیں مجھے ڈر ہے کہ کہیں پی آئی اے کے لینڈنگ رائٹس ختم نا کر دیں. انھوں نے کہا کہ یہ اب کہتے ہیں کہ مجھے ٹیم اچھی نہیں ملی آگر ٹیم اچھی نہیں ہے تو کپتان بھی اچھا نہیں ہے کیونکہ ٹیم کپتان نے چنی ہے.
