حکومت کا موٹر سائیکلز اور رکشوں کیلئے پیٹرول پر سبسڈی،

پیٹرول کی قیمتوں کو ریکارڈ سطح تک بڑھانے کے چند روز بعد وفاقی حکومت نے موٹر سائیکل اور رکشہ مالکان کو سبسڈی والا پیٹرول فراہم،
حکومت نے ’احساس پروگرام‘ کے تحت کم مراعات یافتہ افراد کو ایک اور مرتبہ وظیفہ دینے کا فیصلہ کیا ہے
مذکورہ بالا دونوں فیصلے حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی کور کمیٹی کے اجلاس میں کیے گئے۔
وزیراعظم کی صدارت میں ہوئے اجلاس کےبات کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے کہا کہ ’اجلاس میں موٹر سائیکلوں اور رکشوں کے مالکان کو رعایتی نرخوں پر پیٹرول فراہم کرنے کا فیصلہ کیا گیا لیکن ابھی یہ طے نہیں کیا گیا کہ اس منصوبے کو کس طرح نافذ کیا جائے گا‘۔
یاد رہے کہ حکومت نے 16 اکتوبر کو پیٹرول کی قیمت میں 10 روپے 49 پیسے کا ہوش رُبا اضافہ کیا تھا جس کے بعد اپوزیشن نے حکومت کے خلاف ملک گیر احتجاجی مہم شروع کر دی تھی۔
پی ٹی آئی کور کمیٹی کے اجلاس کے بعد گورنر سندھ عمران اسمٰعیل نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ موٹر سائیکل سواروں اور رکشہ ڈرائیورز کو پیٹرول کی قیمتوں میں ریلیف۔
قبل ازیں وفاقی وزیر منصوبہ بندی اسد عمر نے اشیا کی بڑھتی ہوئی قیمتوں میں کسی ’فوری ریلیف‘ کو خارج از امکان قرار دیتے ہوئے واضح کیا تھا کہ قیمتوں میں اس اضافے کو معمول پر آنے میں کم از کم 5 ماہ لگیں گے۔
انہوں نے مزید کہا تھا کہ ہمیں امید ہے کہ لوگوں کو جلد ریلیف ملے گا لیکن ماہرین کے مطابق فوری طور پر ریلیف شاید نظر نہ آئے ۔
کور کمیٹی کے اجلاس کے حوالے سے گورنر سندھ کا کہنا تھا کہ وزیراعظم عمران خان نے وفاقی وزرا کو ہدایت کی ہے کہ مختلف شہروں کا دورہ کریں اور عوام کو قیمتوں میں اضافے کی وجوہات سے آگاہ کرنے کے ساتھ یہ یقین دلائیں کہ انہیں جلد ریلیف فراہم کیا جائے گا۔
گورنر سندھ نے میڈیا کو بتایا کہ ملک میں اشیائے ضروریہ کی سب سے زیادہ بلند قیمتیں صوبہ سندھ میں ہیں کیونکہ صوبائی حکومت نے ملوں کو گندم کا ذخیرہ جاری کرنے میں تاخیر کی،
ایک علیحدہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ حکومت ملک میں سیاحت کے فروغ کے لیے پہاڑی علاقوں میں نئے سیاحتی مقامات تعمیر کر رہی ہے، اس مقصد کے لیے سیاحت اور مہمان نوازی کے شعبے میں نامور نجی سرمایہ کاروں کو پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ (پی پی پی) موڈ پر راغب کیا جا رہا ہے۔
وزیراعظم نے ان خیالات کا اظہار ساڑھے 19 ارب روپے مالیت کے نیو بالاکوٹ سٹی ڈیولپمنٹ پروجیکٹ کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔
وزیراعظم نے متعلقہ وفاقی اور صوبائی حکام کو ہدایت کی کہ وہ اس سلسلے میں نجی سرمایہ کاروں کو مکمل سہولت فراہم کرنے کے لیے تمام ضروری اقدامات اٹھائیں۔
انہوں نے مزید ہدایت کی کہ خطے میں غذائی تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے زیر کاشت اراضی کو منصوبے میں شامل نہ کیا جائے۔