خان کی دال میں کالا نہیں، پوری دال کالی ہے

چند ہفتوں میں ملک کے سیاسی موسم میں اتنی اتھل پتھل ہوئی ہے کہ کچھ بھی واضح دکھائی نہیں دے رہا۔ اگر آصف علی زرداری کی طرف نظر کریں تو سموگ ہی سموگ، نواز شریف کو دیکھیں تو فی الحال موسم میں شدت نہیں ہے اور باقی بچے عمران خان، تو وہ گہرے بادلوں کے پیچھے چھپے بیٹھے ہیں، جہاں سے روشنی کی ایک کرن کا گزرنا بھی محال ہے۔خان صاحب بتدریج کسی کہانی کے گم گشتہ باب کی طرح تاریخ کے اندھیروں میں گم ہوتے جا رہے ہیں۔شفاف اور بے داغ کردار کی دہائی لیکن پلے بوائے والے ششکے باقی۔۔ بد عنوانی اور بے ایمانی میں سہولتکار بننا منظور۔۔عدت میں نکاح بھی جائز۔۔حتیٰ کہ کک بیکس اور بے نامی اثاثے پلس کرنے میں بھی کوئی قباحت نہیں۔
اور اب وہ وقت ہے نیب، احتساب کورٹ، ہائی کورٹ، سپریم کورٹ۔۔کوئی عدالت ایسی نہیں جہاں خان صاحب کی پکڑ نہیں۔ اور تو اور چہیتے عثمان بزدار کے سرکاری افسران بھی گواہ بننے کو تیار ہیں۔ دوسری طرف پی ٹی آئی میں جن رہنماؤں پر تکیہ تھا اب وہی پتے ہوا دینے لگے ہیں۔ نہ کوئی دوست رہا نہ شریک کار۔۔رہی سہی کسر نند بھاوج کی لڑائی نے پوری کر دی۔ خان صاحب کی پیر و مرشد بشریٰ بی بی نے اچھے دنوں میں جن نندوں کو گھر میں نہیں گھسنے دیا اب وہ پورے گھر پر قابض ہونے جا رہی ہیں۔ خان صاحب کی بہن علیمہ خان بشریٰ بی بی کو کتنا ٹف ٹائم دے رہی ہیں اس کے لئے لطیف کھوسہ اور بشریٰ بی بی کی آڈیو لیک سن لینا ہی کافی ہے۔
دیکھا جائے تو ہر گزرتے دن ”خان اینڈ کو“ کے گرد گھیرا تنگ ہوتا جا رہا ہے۔ نکاح والا کیس تو لگتا ہے، کہیں نہ کہیں گُل ضرور کھلائے گا۔ کوئی کچھ بھی کہے لیکن سابق وزیر اعظم اور خاتون اول کے نکاح خواں مفتی سعید نے دونوں کی ہنڈیا جس طرح بیچ چوراہے میں پھوڑی ہے اس کی ٹکڑے سمیٹنا اب مشکل ہی نہیں ناممکن ہے۔
بشریٰ بی بی کے سابق شوہر عطا مانیکا نے بھی دعویٰ دائر کر دیا ہے کہ دونوں بغیر نکاح کے ساتھ رہے ہیں، انھیں سزا دی جائے۔ دراصل سارا ”پواڑا“ تاریخوں کے ہیر پھیر نے ڈالا ہے۔ طلاق کب دی ،نکاح کب ہوا؟ اور اگر نکاح ہو گیا تھا تو پھر نکاح پر نکاح کیوں کیا؟
اس حوالے سے بشریٰ بی بی کا ایک بیان بہت ہی لاجواب ہے جس میں انھوں نے کہا تھا کہ عدت تو دور کی بات ہے، میں نے تو اس کے بھی سات ماہ بعد نکاح کیا تھا۔۔خیر اب کیا ہو سکتا ہے کیونکہ چڑیاں کھیت چُگنے کے بعد کب کی اُڑ چکیں، اب تو کاؤنٹ ڈاؤن شروع ہو چکا۔۔دال سے نیلے پیلے کالے کنکر چننے کا وقت بھی گزر چکا، ویسے بھی خان صاحب کی دال میں کالا نہیں، پوری دال ہی کالی ہے!!
