خفیہ اکاؤنٹس چھپانے والے کپتان کا سینیٹ میں شفافیت پر اصرار

وزیراعظم عمران خان کی جانب سے ہر حال میں سینیٹ الیکشن کو اوپن بیلٹ کے ذریعے کروانے کی کوششوں پر سیاسی تجزیہ کار یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ اگر خان صاحب شفافیت کے اتنے ہی علمبردار ہیں تو انہوں نے اپنی پارٹی کے مالی معاملات، خفیہ اکاؤنٹس اور ڈونرز کی تفصیلات کیوں چھپائیں اور یہ بھی کہ وہ تحریک انصاف کے خلاف دائر کردہ فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ کیوں نہیں ہونے دے رہے؟
سینئر صحافی اور کالم نگار عارف نظامی کہتے ہیں کہ وزیراعظم عمران خان کا سینیٹ انتخابات کو پوتر بنانے کی کوشش کرنا بلاشبہ ایک نیک کام ہے لیکن شاید انہیں احساس نہیں کہ وہ ایک کرپٹ ترین سیاسی نظام میں اسی قسم کے ہتھکنڈوں کے ذریعے ایوان اقتدار تک پہنچے ہیں۔ یہاں یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ سینیٹ ہی کوریفارم کرنے پراتنا اصرار کیوں ؟۔ عسرف کہتے ہین کہ اگر عمران خان شفافیت پر اتنا ہی یقین رکھتے ہیں تو انکی جماعت نے انکے ایما پر فارن فنڈنگ کیس میں غیر ملکی بینک اکاؤنٹس اور ڈونرز کی تفصیلات کیوں چھپائیں۔ سوال یہ بھی ہے کہ کہ فارن فنڈنگ کیس کے پٹیشنر اکبر ایس بابر کے بار بار کے مطالبے کے باوجود انہیں تحریک انصاف کے الیکشن کمیشن کی سکروٹنی کمیٹی میں جمع کروائی گئی دستاویزات تک رسائی کیوں نہیں دی جا رہی۔
عارف نظامی کے بقول تحریک انصاف حکومت قانونی اور سیاسی محاذوں پر شکست کھانے کے باوجود بضد ہے کہ سینیٹ کے اگلے ماہ ہونے والےانتخابات اوپن بیلٹ کے ذریعے ہی ہوں۔ جہاں تک اس سلسلے میں آئین میں ترمیم کا تعلق ہے وہ پارلیمنٹ میں حکمران جماعت کی مطلوبہ عددی اکثریت نہ ہونے کی بنا پر ناممکن ہے مگر نہ جانے کیوں عمران خان بضد ہیں۔ وزیراعظم عمران خان مصر ہیں کہ انہوں نے سینیٹ کے انتخابات میں سیکرٹ بیلٹ کو ہر صورت ختم کرنا ہے ۔ان کا موقف ہے کہ ان انتخابات میں خریدوفروخت ہوتی ہے۔ انہوں نے 2018ء کے سینیٹ الیکشن میں 60کروڑ روپے لینے کے الزام میں اپنے 20 ارکان اسمبلی کے خلاف سخت نوٹس لیا تھا، یہ الگ بات ہے کہ تحریک انصاف تین سال گزرنے کے باوجود کسی بھی ایم پی اے کے خلاف کوئی الزام ثابت نہیں کرسکی، عمران خان کے اعلان کے باوجود اس کرپشن میں ملوث کسی ایم پی اے کے خلاف کوئی کیس نیب کو نہیں بھجوایا گیا ،بعض سابق ایم پی ایز نے عمران خان کے خلاف مختلف عدالتوں میں ہتک عزت کا مقدمہ دائر کیا لیکن تحریک انصاف نے کسی کیس میں شواہد یا جواب جمع نہیں کرایا۔
یہ بھی ستم ظریفی ہے کہ سینیٹ چیئرمین کے انتخاب میں جوڑ توڑ ،سودے بازی اور ہارس ٹریڈنگ کے نتیجے میں فائدہ تحریک انصاف کو ہی پہنچا تھا ۔ سونے پر سہاگہ یہ کہ اب 2018 مین بنائی گئی ایک خفیہ ویڈیو جاری ہوئی ہے جس میں صاف نظر آتا ہے کہ پی ٹی آئی کے تب کے ممبران اسمبلی سینٹ الیکشن میں ووٹ دینے کے لیے نہ صرف نوٹ لے رہے ہیں بلکہ نوٹ دے بھی رہے ہیں۔ اس ویڈیو میں نظر آنے والے کم از کم دو سابق اراکین اسمبلی عبیداللہ مایار اور زاہد درانی نے اس بات کی تصدیق کردی ہے کہ رشوت کا یہ بازار خیبر پختونخوا کے اسپیکر کے گھر لگا جس میں تب کے وزیر اعلی پرویز خٹک کی موجودگی میں رشوت تقسیم کی گئی۔ لہذا موجودہ صورتحال میں یہ مقولہ خاصا درست معلوم ہوتا ہے کہ اس سے سیاسی حمام میں سبھی ننگے ہیں ۔
عارف نظامی کہتے ہیں کہ پی ٹی آئی کے ترجمان فارن فنڈنگ کیس میں بھی اپوزیشن کو مطعون کر رہے ہیں جبکہ اپنے پروں پر پانی نہیں پڑنے دیتے۔ سوال یہ ہے کہ اگر حکمران جماعت اتنا ہی شفافیت پر یقین رکھتی ہے تو اخلاقی جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے اکاؤنٹس سامنے لے آئے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق موجودہ حکمران جماعت اور وزیراعظم عمران خان پر سلیکٹڈ کا لیبل اسی لئے لگا ہے کہ سیاسی مخالفین کے مطابق یہ سب کچھ ’’ خلائی مخلوق ‘‘ کے ایما اور کوششوں سے ہوا۔ ایسے میں یہ امید کیسے کی جا سکتی یے کہ تحریک انصاف اس کلچر کو ختم کرسکتی ہے جس کی وہ خود پیداوار ہے۔ انکا کہنا ہے کہ یہ بھی نہیں بھولنا چاہیے کہ ماضی میں عمران خان کی جہانگیرترین جیسی اے ٹی ایم مشینوں نے خان پر خوب مال لٹایا اور پھر جب وہ اقتدار میں آگئے تو اسی مال کو دگنا اور چوگنا کر کے آٹے اور چینی سکینڈل میں واپس بھی حاصل کیا۔
عارف نظامی کے مطابق اس قسم کی کاروباری سیاست کے نتیجے میں اب ہماری سیاست میں کئی مفاد ہرست گروہ پیداہو چکے ہیں جو نام نہاد اصولوں کی بنیاد پر اپنی پارٹیوں یا لیڈروں سے روٹھ جاتے ہیں اور حکمرانوں کی طرف سے فرمائشیں پوری ہونے پر جلدی مان بھی جاتے ہیں۔
بعض مبصرین کا خیال ہے کہ عمران خان کو اپنے ارکان اسمبلی پرہی اعتماد نہیں ، تاہم وجہ کچھ بھی ہو، سینیٹ کے طرز انتخاب میں اوپن الیکشن پر اصرار کرنے کی کیا ضرورت ہے، ایسا قانون پاس بھی ہو جائے یا آرڈیننس کے ذریعے نافذ بھی ہو جائے تو جیسا کہ سینیٹ کے سابق چیئرمین رضا ربانی نے خدشات کا اظہار کیا ہے کہ آرڈیننس کے غیرموثر ہونے کے بعد اس کے ذریعے ہونے والے سینیٹ کے انتخابات کا کیا مستقبل ہو گا؟ عارف نظامی کے مطابق یہ آرڈیننس بدنیتی پر مبنی ہے اور پارلیمان کے ساتھ مذاق کیا جارہا ہے، یہ بھی محسوس ہوتا ہے کہ اس آرڈی نینا سے سپریم کورٹ پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ بعض حلقوں نے اس خدشے کا بھی اظہار کیا ہے کہ حکومت کا اوپن بیلٹ کا شوشہ چھوڑنے کا مقصد محض سپریم کورٹ کو بلیک میل کرنا ہے۔
دوسری طرف پاکستان بار کونسل نے بھی حکومت سے آرڈیننس فوری واپس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کے ذریعے تمام قانونی ضوابط اور اخلاقیات کی دھجیاں بکھیردی گئی ہیں اور عدلیہ کی آزادی اور پارلیمان کے وقار کو سبوتاژ کیا گیا یے۔ پاکستان بار کونسل کے صدارتی ریفرنس کو آئین کے آرٹیکل 226 کے ساتھ متصادم قرار دیتے ہوئے کہا آرڈیننس سپریم کورٹ پر اثرانداز ہونے کی کوشش ہے۔تاہم بنیادی سوال اپنی جگہ قائم ہے کہ گندے سیاسی کلچر سے فائدہ اٹھا کر اقتدار پانے والے کپتان کو سینیٹ الیکشن شفاف کروانے کی اتنی فکر کیوں لگی ہے؟
