زیرآب کیبل میں‌ خرابی سے ملک بھر میں‌ انٹرنیٹ سروس متاثر

زیر آب کیبل میں خرابی کی وجہ سے ملک بھر میں انٹرنیٹ سروس متاثر ہے ، بین الاقوامی زیرآب کیبل سسٹم اے اے ای-1 میں خرابی کی وجہ سے انٹرنیٹ کی رفتار سست روی کا شکار ہے۔

پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی لمیٹڈ (پی ٹی سی ایل)، بین الاقوامی سب میرین کنسورشیم کے ساتھ مل کر ملک بھر میں انٹرنیٹ کی صورتحال بحال کرنے کے لیے کام جاری رکھے ہوئے ہیں۔

کل سے پاکستان بھر کے صارفین کو انٹرنیٹ سروسز تک رسائی میں دشواری کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

ترجمان پی ٹی سی ایل نے ایک بیان مین کہا کہ ہمیں اپنے صارفین کو پیش آنے والی مشکلات پر افسوس ہے اور جیسے ہی سروسز مکمل طور پر بحال ہوں گی صارفین کو آگاہ کریں گے تاہم ترجمان نے یہ واضح نہیں کیا کہ انٹرنیٹ سروسز کب تک بحال ہوں گی۔رپورٹ کے مطابق پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے بھی اس معاملے سے آگاہ کیا ہے۔

ملک کو انٹرنیٹ کے ذریعے دنیا سے جوڑنے والی عالمی کیبلز میں سے ایک میں خرابی کے پیش نظر صارفین کو بلا تعطل انٹرنیٹ سروسز کی فراہمی کے لیے متعلقہ سروس پرووائیڈرز کی جانب سے اضافی بینڈوتھ کے ذریعے متبادل انتظامات کیے گئے ہیں۔

اتھارٹی کے مطابق زیر آب کیبلز میں خرابی کو دور کرنے کے لیے کام جاری ہے تاہم اس میں کچھ مزید وقت درکار ہے ، صارفین کو انٹرنیٹ کے حوالے سے موجودہ مسئلے سے آگاہ کیا جا رہا ہے ، خرابی برقرار رہنے تک صارفین کو انٹرنیٹ کی سست رفتار کا سامنا ہونے کا امکان ہے۔

زیر سمندر کیبل کی بحالی کے لیے عہدیداروں کے پاس کوئی ETA موجود نہیں ہے اور مکمل طور پر بحال ہونے سے پہلے اس میں لفظی طور پر دن ، ممکنہ طور پر ہفتے بھی لگ سکتے ہیں۔

واضح رہے کہ پاکستان کو بیرونی دنیا سے انٹرنیٹ کے ذریعے جوڑنے والی کیبلز کی تعداد 6 ہے ، دو کا ذکر تو اوپر ہوچکا ہے جبکہ دیگر چار میں ٹی ڈبلیو 1 (TW1)، ایس ای ایم ای ڈبلیو ای 3 (SEMEWE3)، ایس ای ایم ای ڈبلیو ای 5 (SEMEWE5) اور AAE1 شامل ہیں۔

ان ہی انٹرنیٹ کیبلز میں سے ایس ای ایم ای ڈبلیو ای 3 محدود گنجائش میں کام کرتی ہے جبکہ دیگر 2 کی تنصیب کچھ سال قبل ہی ہوئی تھی۔

انٹرنیٹ فراہم کرنے والے زیر آب کیبل سسٹم میں خرابی کے نتیجے میں صارفین کو انٹرنیٹ سروسز تک رسائی میں مشکلات کا سامنا تھا۔ ماضی میں بھی اکتوبر 2019 میں پاکستان میں انٹرنیٹ فراہم کرنے والی 2 عالمی زیرآب کیبلز میں خرابی کے نتیجے میں آن لائن سروسز بری طرح متاثر ہوئی تھیں۔

یار رہے کہ 2017 میں آئی ایم ای ڈبلیو ای میں خرابی کے نتیجے میں ملک بھر میں انٹرنیٹ سروسز لگ بھگ 2 دن تک متاثر رہی تھیں۔

Back to top button