سانحہ ساہیوال کے مقتولین اپنی قبروں سے انصاف مانگ رہے ہیں

ساہیوال کے قریب پنجاب پولیس کے ہاتھوں دہشت گرد قرار دے کر فائرنگ سے قتل کر دیے جانے والے لاہور کے معصوم خاندان کے لواحقین کو 16 ماہ گزرنے کے باوجود انصاف نہیں مل پایا اور سی ٹی ڈی کے قاتل اہلکاروں کو بھی باعزت بری کر دیا گیا ہے۔ اس اندوہناک سانحے میں مرنے والے مقتولین آج بھی اپنی قبروں سے پکار پکار کر انصاف کا تقاضا کر رہے ہیں۔
افسوس کی بات یہ ہے کہ سانحہ ساہیوال میں مارے جانے والے پانچ افراد کے ورثا کو اتنا زیادہ دھمکایا گیا کہ انہوں نے شناخت پریڈ میں قاتل پولیس والوں کی شناخت کرنے سے معذوری ظاہر کر دی حالانکہ ان میں سے اکثر کے چہرے پاکستان کے ہر ٹی وی چینل پر اس موبائل فوٹیج میں دکھائے جا چکے تھے جو قتل کے وقت بنائی گئی تھی۔ اس فوٹیج میں سی ٹی ڈی کے اہلکار نہتے خاندان کی گاڑی پر اندھا دھند گولیاں برساتے ہوئے نظر آرہے ہیں۔ اس کے باوجود بھی ملزمان کو شناخت نہ ہونے پر بری کر دیا گیا حالانکہ وزیراعظم عمران خان نے یہ اعلان کیا تھا کہ سانحہ ساہیوال میں ملوث تمام ملزمان کو ایک مہینے کے اندر کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا۔
یاد رہے کہ ساہیوال میں 19جنوری 2019 کے روز پولیس کی جانب سے قومی شاہراہ پر معصوم بچوں سمیت پانچ افراد کی ہلاکت کے لرزہ خیز واقعے نے پورے ملک کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔ تاہم محض نو ماہ بعد ہی اس واقعے میں ملوث ملزمان کو رہا کر دیا گیا۔ 24 اکتوبر 2019 کو لاہور کی انسدادِ دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے سانحہ ساہیوال کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے تمام ملزمان کو شک کا فائدہ دے کر بری کردیا تھق۔ ان قاتل پولیس والوں کا بری ہونا پہلے سے طے تھا کیونکہ مقتولین پر گولیاں برسانے کے احکامات ایک خفیہ ایجنسی کے افسر نے جاری کیے تھے اور پولیس والوں نے خفیہ والوں پر واضح کردیا تھا کہ اگر ان کی فورس کے اہلکاروں کو سزا دینے کی کوشش کی گئی تو پھر وہ اصل کہانی سنانے پر مجبور ہوجائیں گے۔
تاہم اس سانحے کے حوالے سے تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق قتل میں کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ کے پولیس اہلکار ملوث تھے۔ ابتدائی رپورٹ میں بھی اعلیٰ افسران سمیت پولیس اہلکاروں کو ذمہ دار قرار دیا گیا گیا۔ تاہم جب یہ بات سامنے آئی کہ آپریشن آئی ایس آئی کے افسران کے کہنے پر ہوا تو اس بھیانک واقعے میں ملوث افراد کو بچانے کے لیے مقتولین کے لواحقین کو خاموش کروا دیا گیا،جس کے بعد قاتلوں کی رہائی کا راستہ ہموار ہو گیا۔
قاتلوں کی رہائی پر پاکستان میں رائج نظامِ انصاف پر آج بھی سوالات اٹھائے جارہے ہیں۔یاد رہے کہ 19 جنوری 2019 کی سہ پہر سی ٹی ڈی نے ساہیوال کے قریب جی ٹی روڈ پر ایک گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کی جس کے نتیجے میں خلیل، اس کی اہلیہ نبیلہ، بیٹی اریبہ اور محلے دار ذیشان گولیاں لگنے سے جاں بحق ہوئے جب کہ کارروائی میں تین معصوم بچے بھی زخمی ہوئے۔ واقعے کے بعد سی ٹی ڈی کی جانب سے متضاد بیانات دیے گئے، واقعے کو پہلے بچوں کی بازیابی سے تعبیر کیا بعدازاں ویڈیو منظر عام پر آنے کے بعد مارے جانے والوں میں سے ایک کو دہشت گرد قرار دیا گیا۔ تاہم میڈیا پر معاملہ آنے کے بعد وزیراعظم نے واقعے کا نوٹس لیا اور سی ٹی ڈی اہلکاروں کو حراست میں لے کر تحقیقات کے لیے جے آئی ٹی تشکیل دی گئی تھی۔ سانحہ ساہیوال میں ملوث اہلکاروں کی باعزت بریت کے بعد سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ آخر یہ قتل کس نے کئے۔ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو عام شہریوں کا قتل کرنے کے بعد عدالتوں سے یونہی کلین چٹ ملتی رہی تو شہری اپنے محافظوں کے ہاتھوں حوالات اور سڑکوں پر یونہی بے دردی سے قتل ہوتے رہیں گے۔
پاکستان میں سیکیورٹی اداروں کے ہاتھوں ماورائے عدالت قتل ہونے والے افراد کی طویل فہرست موجود ہے۔ سانحہ ساہیوال سے قبل نقیب اللہ قتل، امل عمر قتل، خروٹ آباد واقعہ، اور پولیس حراست میں ایک اے ٹی ایم کو توڑنے والے مجذوب شخص کی ہلاکت جیسے بے شمار واقعات نے پولیس کی ساکھ پر بڑے سوالیہ نشان کھڑے کر دیے ہیں۔۔
پاکستان میں ماورائے عدالت قتل کے واقعات کچھ روز تک اخبارات اور ٹی وی چینلز یا سوشل میڈیا کی زینت بننے کے بعد ماضی کا حصہ بن جاتے ہیں اور مقتولین کا خون بغیر کسی کے خلاف کارروائی کے رائیگاں چلا جاتا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button