سلیم ملک کو واپس لینے کیلئے پی سی بی کی مشروط آمادگی

میچ فکسنگ کے الزامات پر تاحیات پابندی کے شکار بلے باز سلیم ملک کے لیے خوشخبری آ گئی۔ پاکستان کرکٹ بورڈ نے سلیم ملک کو پابندی کے خاتمے کی مشروط پیشکش کر دی ہے۔ ملک کو پابندی کے خاتمے کیلئے میچ فکسنگ بارے اعتراف جرم کے بعد ’آئی سی سی اور پاکستان کرکٹ بورڈ کے انسداد کرپشن ضابطہ اخلاق پر عمل کرنا ہوگا جبکہ آئی سی سی کو 2012 میں اپنی انگلینڈ میں ہونے والی مشکوک ملاقاتوں کی وضاحت دینا ہو گی۔ تاہم پی سی بی کی طرف سے عائد کردہ کڑی شرائط تسلیم کرنے کے والے سے سلیم ملک نے ابھی تک کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا۔
پاکستان کرکٹ بورڈ کے قانونی مشیر تفضل حیدر رضوی نے سلیم ملک کی مشروط واپسی پر آمادگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ آئی سی سی کے اینٹی کرپشن ضابطہ اخلاق کے مطابق جو بھی کرکٹر میچ فکسنگ یا سپاٹ فکسنگ میں ملوث ہونے کے بعد واپس آنا چاہتا ہے یا واپس آیا ہے اسے ایک عمل سے گزرنا پڑتا ہے جس میں پہلے وہ اپنے کیے گئے جرم کا باقاعدہ اعتراف کرتا ہے۔معافی مانگنے کے بعد قواعد و ضوابط کے تحت بحالی کا پروگرام شروع ہوتا ہے۔ اگر سلیم ملک واپس آنا چاہتے ہیں تو انھیں بھی ’آئی سی سی اور پاکستان کرکٹ بورڈ کے انسداد کرپشن ضابطہ اخلاق پر عمل کرنا ہوگا۔ تفضل حیدر رضوی نے واضح کیا کہ سلیم ملک کو کرکٹ میں واپسی کیلئے انگلینڈ میں کی جانے والی اپنی مشکوک ملاقات بارے بھی وضاحت دینا ہو گی جس کے بعد ہی پی سی بی کوئی فیصلہ کرے گا۔
پاکستان کرکٹ کی تاریخ میں سلیم ملک پہلے اور واحد کھلاڑی ہیں جن پر تاحیات پابندی لگائی گئی۔ 1982 میں سری لنکا کے خلاف اپنے ٹیسٹ کیرئیر کا آغاز کرنے والے سلیم ملک دائیں ہاتھ کے سٹائلش بلے باز تھے۔ کلائیوں کے زور پر آہستگی سے کور ڈرائیو ان کا خاصیت تھی اور ان کی ٹائمنگ اور گیند کی پچ تک پہنچ قابل دید ہوا کرتی تھی۔ وہ فاسٹ بولرز کو اتنے ہی اعتماد سے کھیلتے تھے جتنا سپنرز کو۔ 17 سال تک گرین کیپ پہننے والے سلیم ملک کے 103 ٹیسٹ میچ میں پانچ ہزار سے زائد رنز اگرچہ ان کی صلاحیتوں کے خلاف ہیں لیکن ایک روزہ میچوں میں سات ہزار سے زائد رنز ان کے دونوں فارمیٹ میں کارکردگی کو متوازن کرتے ہیں۔ سلیم ملک کو سب سے زیادہ شہرت بھارت کے خلاف کلکتہ میں ایک روزہ میچ کے دوران صرف 36 گیندوں پر 72 رنز کی اننگز پر ملی تھی۔ اس فتح گر اننگز سے وہ ایک دم قومی ہیرو بن گئے۔
تاہم 1999 کے ورلڈ کپ کے بعد ان کا کیرئیر توہین آمیز انداز میں ختم ہوگیا۔ 2000 میں میچ فکسنگ کی بازگشت کے بعد پی سی بی کی طرف سے جسٹس عبدالقیوم کی سربراہی میں تشکیل دئیے گئے انکوائری کمیشن نے پاکستان کرکٹ میں میچ فکسنگ کی تحقیقات کر کےبورڈ کو سفارشات پیش کیں جس کے نتیجے میں بورڈ نے سلیم ملک پرتاحیات پابندی لگا دی گئی ان کے ساتھ عطا الرحمن پر بھی انٹرنیشنل کرکٹ کھیلنے پر پابندی لگی جب کہ وسیم اکرم، وقار یونس، انضمام الحق، اور مشتاق احمد پر جرمانے کیے گئے۔ کمیشن اس بات کی وضاحت آج تک نہیں کرسکا کہ وہ جرمانے اگر فکسنگ پر لگائے گئے تو پابندی کیوں نہیں لگی؟ تاہم 2008 میں لاہور کی ایک مقامی عدالت نے سلیم ملک کی درخواست پر کیس کا دوبارہ جائزہ لیا اور ان پر تاحیات پابندی کو ختم کردیا اور یہ سوال بھی اٹھایا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کس طرح اس قسم کی سخت پابندی لگا سکتا ہے۔
پابندی کے ختم ہونے کے بعد سلیم ملک نے اس وقت کے بورڈ سے رابطہ کیا تھا اور عملی طور پر بحیثیت کوچ فعال ہونے کی درخواست کی تھی۔ تاہم بورڈ نے 2012 میں سلیم ملک سے ان کی انگلینڈ میں کچھ مشکوک لوگوں کے ساتھ میٹنگ کی وضاحت مانگی تھی جس کا انہوں نے ابھی تک جواب نہیں دیا ہے۔ انٹرنیشنل کرکٹ کونسل نے 2013 میں پاکستان کرکٹ بورڈ کو 25 صفحات کا ایک ٹرانسکرپٹ دیا تھا جو دراصل سلیم ملک کی انگلینڈ میں کسی مشکوک شخص کے ساتھ گفتگو تھی اور ایک سٹنگ آپریشن کے ذریعے بالکل اسی انداز میں ریکارڈ کی گئی تھی جیسے سپاٹ فکسنگ میں سزا یافتہ مظہر مجید کے ساتھ ہوا تھا۔ پاکستان کرکٹ بورڈ نے سلیم ملک سے متعدد بار اس معاملے کی وضاحت کرنے کے لیے کہا لیکن ان کی طرف سے خاموشی رہی۔
حال ہی میں جب انضمام الحق اور ثقلین مشتاق نے سلیم ملک پر مزید پابندیوں کو ناانصافی قرار دیا اور ان کی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھانے کی بات کی تو سات سال کے بعد سلیم ملک نے ایک بار پھر مطالبہ کیا ہے کہ جس طرح محمد عامر سلمان بٹ اور شرجیل خان پر سے پابندیاں ہٹائی جا سکتی ہیں تو مجھ پر سے کیوں نہیں؟ انہوں نے تازہ مطالبے میں بورڈ سے تعاون کی بات کی ہے۔
سلیم ملک نے اپنے ایک بیان میں میچ فکسنگ پر قوم سے معافی مانگتے ہوئے آئی سی سی اور پی سی بی سے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ تمام راز بتانے کو تیار ہیں۔ میچ فکسنگ کے گورکھ دھندے میں ملوث سلیم ملک بیس سال کے بعد آخر کون سے راز افشا کرنے کو تیار ہیں اور کن بڑے کھلاڑیوں کے نام مشتہر کریں گے جو ان کے اس گندے کھیل میں شانہ بشانہ تھے۔
