سنتھیا رچی ہمارے لیے کام کرتی ہے: ISPR کا اعتراف

https://www.youtube.com/watch?v=alA7ZgtcBsY
افواج پاکستان کے شعبہ تعلقات عامہ یعنی آئی ایس پی آر نے پہلی مرتبہ باضابطہ طور پر یہ تسلیم کر لیا ہے کہ اسلام آباد میں پچھلے دس برسوں سے مقیم مشکوک امریکی عورت سنتھیا رچی اس کے لیے کام کر رہی ہے.
وزارت داخلہ نے اسلام آباد ہائی کورٹ کو باقاعدہ مطلع کیا ہے کہ امریکی بلاگر سنتھیا ڈی رچی پاکستان میں ‘توسیعی’ ویزا پر رہائش پذیر ہے اور وہ فوج کے میڈیا امور کے ونگ انٹر سروسز پبلک ریلشنز اور خیبر پختونخوا حکومت کے اشتراک سے فلمی منصوبوں پر کام کر رہی ہیں۔ وزارت داخلہ نے 17 جولائی 2020 کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں پیش کردہ اپنی رپورٹ میں کہا کہ سنتھیا رچی آئی ایس پی آر اور خیبر پختونخوا حکومت کے اشتراک سے واک اباؤٹ فلمز کے ساتھ مل کر پاکستان میں فلموں کے مختلف منصوبوں پر کام کررہی ہے، انہوں نے مزید بتایا کہ وہ ایک سال سے اپنے بزنس ویزا کی باضابطہ توسیع کے لیے مکمل دستاویزات کی منتظر تھیں جس میں کچھ دن اور لگ سکتے ہیں لہٰذا انہوں نے اپنے ویزے میں عارضی طور پر 30 دن کی توسیع کی درخواست کی تھی۔ اس کا ویزا 30 جون کو ختم ہو رہا تھا جس میں تین ماہ کی توسیع کر دی گئی ہے اور اب وہ 30 اگست تک پاکستان میں قیام کر سکتی ہے۔
وزارت داخہ کی ہائی کورٹ میں پیش کردہ رپورٹ میں سنتھیا کا 27 دسمبر 2018 کو آئی ایس پی آر کی جانب سے تحریر کردہ خط بھی منسلک کیا گیا ہے جس کے مطابق واک اباؤٹ فلمز پرائیویٹ لمیٹڈ آئی ایس پی آر کے اشتراک سے مختلف منصوبوں کا آغاز کررہی ہے۔ ایڈیشنل اٹارنی جنرل طارق محمود کھوکھر نے سنتھیا کو پاکستان سے بے دخل کرنے کے لئے دائر کردہ پیپلزپارٹی کی درخواست کا جواب داخل کرتے ہوئے بتایا کہ سنتھیا رچی کے خلاف پی پی پی کے عائد کردہ الزامات کے برعکس وہ کسی بھی قسم کی غیر قانونی یا ناپسندیدہ یا ریاست مخالف سرگرمی کی مرتکب نہیں ہوئی۔ عدالت نے پاکستان پیپلز پارٹی کے کارکن چوہدری افتخار احمد کی درخواست پر حتمی دلائل کے لیے سماعت ملتوی کردی جہاں درخواست گزار نے سنتھیا کے کاروباری ویزا کی میعاد ختم ہونے اور پیپلز پارٹی رہنماؤں کے خلاف مبینہ طور پر میڈیا مہم چلانے پر اس کے پاکستان میں طویل قیام کو چیلنج کیا تھا۔
درخواست کے مطابق سنتھیا کا بزنس ویزا 2 مارچ 2020 کو ختم ہوگیا تھا اور اس کے بعد وہ پاکستان میں قیام کی حقدار نہیں، درخواست گزار نے الزام لگایا کہ نام نہاد امریکی بلاگر نے مارچ میں اپنے بزنس ویزا کی میعاد ختم ہونے کے بعد وزارت داخلہ کو پیش کی جانے والی اپنی ویزا توسیع کی درخواست میں بھی غلط معلومات کا اندراج کیا۔
درخواست گزار نے مدعا علیہ کی مختلف سرگرمیوں اور اس کے میڈیا بیانات اور سوشل میڈیا پوسٹوں کا حوالہ بھی دیا جو ان کے مطابق توہین آمیز اور قابل اعتراض تھے۔ لیک وزارت داخلہ کی رپورٹ کے مطابق سنتھیا ڈی رچی نے خود پر لگائے جانے والے تمام الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسکا ویزا 2 مارچ 2020 کو ختم ہوگیا تھا اور اس نے میعاد ختم ہونے کی تاریخ سے قبل درخواست جمع کرائی تھی۔ تاہم کووڈ 19 کی صورتحال کی وجہ سے کسی کی بھی ویزہ کی درخواست توسیع پر کارروائی نہیں کی جارہی تھی اور تمام غیر ملکیوں کو قیام میں توسیع کی اجازت دی گئی تھی لہٰذا وہ وزارت داخلہ کے ذریعے توسیع شدہ ویزا کے تحت اب بھی پاکستان میں مقیم ہیں۔
وزارت داخلہ کے مطابق اپنے ویزا کے بارے میں سنتھیا رچی نے کہا کہ ہر بزنس ویزا رکھنے والے کے لیے یہ لازمی نہیں ہے کہ وہ پاکستان میں اپنی کمپنی کا اندراج کرے بلکہ دوسری کمپنیوں کے ساتھ شراکت میں بھی کاروبار کیا جاسکتا ہے، انہوں نے کہا کہ وہ امریکا میں سرگرم ٹیکس دہندہ تھیں اور انہوں نے ڈیفرنٹ لینس پروڈکشن ایل ایل سی کے نام سے امریکی ریاست کیلیفورنیا میں رجسٹرڈ کمپنی کے حوالے سے محکمہ برائے داخلہ ریونیو اور دیگر دستاویزات کی نقول بھی منسلک کردی تھیں۔ انہوں نے بتایا کہ اسلام آباد میں پولیس حکام نے تمام ضروری تصدیق کے بعد انہیں ڈپلومیٹک انکلیو میں رہائش گاہ کے لیے انٹری پاس جاری کیا تھا کیونکہ پولیس کو اس کی نقل و حرکت کے بارے میں بتایا گیا تھا۔
یاد رہے کہ ایف آئی اے کو جمع کروائے گئے ایک تحریری بیان میں سنتھیا نے یہ دعوی کیا تھا کہ وہ پاکستانی سکیورٹی اداروں کے ساتھ مل کر پشتون تحفظ موومنٹ کے سرکردہ رہنماؤں کی پاکستان دشمن سرگرمیوں پر بھی کام کر رہی ہیں۔ اب وزارت داخلہ کی جانب سے اسلام آباد ہائی کورٹ میں جمع کروائی گئی رپورٹ میں یہ کہا گیا ہے کہ اپنے فاٹا کے قبائلی علاقوں کے دوروں کے بارے میں امریکی بلاگر نے وضاحت کی ہے کہ قبائلی رہنماؤں کا انٹرویو کرنا اور پاکستان میں کہیں بھی جانا پاکستان کے کسی قانون کے تحت جرم نہیں ہے کیونکہ وہ ہمیشہ متعلقہ حکام کی منظوری کے ساتھ سفر کرتی تھیں، وزارت داخلہ کے مطابق انہوں نے سوشل میڈیا میں اپنے بیانات کی بھی وضاحت کی اور اس سے تاثرکو مسترد کیا کہ اسنے کبھی کسی پارٹی کی قیادت کو بدنام کرنے کی کوئی کوشش کی ہو۔ رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ ویزا میں توسیع کے لیے ان کی درخواست پر عملدرآمد جاری ہے، ریکارڈ کے مطابق ویزا میں توسیع کے لیے درخواست مارچ 2020 میں موصول ہوئی تھی تاہم کووڈ 19 کی صورتحال اور غیر ملکی شہریوں کی ویزا کی توثیق میں عمومی توسیع کی وجہ سے 2 جون کو متعلقہ سیکشن میں اس پر کارروائی کی گئی۔
وزارت داخلہ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جہاں تک شکایت میں مبینہ طور پر سوشل میڈیا پر رچی کی سرگرمیوں کا تعلق ہے تو وزارت داخلہ کو اب تک کسی بھی متعلقہ تنظیم یا ایجنسی کی طرف سے اس حوالے سے کوئی منفی رپورٹ موصول نہیں ہوئی ہے۔ وزارت داخلہ کے مطابق امریکی بلاگر کی سوشل میڈیا پوسٹ سے متعلق معاملہ پہلے ہی زیر سماعت ہے اور فیڈریشن انویسٹی گیشن ایجنسی کی طرف سے الیکٹرانک جرائم کی روک تھام ایکٹ 2016 کے تحت اس کی تحقیقات کی جارہی ہیں، تاہم وزارت داخلہ نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ درخواست گزار کے دعوے کے برعکس اسے سوشل میڈیا پر خاتون بلاگر کی سرگرمیوں کے بارے میں کوئی منفی رپورٹ موصول نہیں ہوئی لہٰذا اس مرحلے پر وزارت کی طرف سے کسی کارروائی کی ضرورت نہیں۔ اس رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ جواب دہندگان کو پاکستان میں قیام اور کاروبار کرتے ہوئے پاکستان کے قوانین کی سختی سے پابندی کرنے کی ضرورت تھی۔
دوسری طرف سنتھیا رچی کو بے دخل کرنے کی درخواست دینے والے پیپلز پارٹی کے رہنما افتخار احمد کا کہنا ہے کہ وزارت داخلہ کی جانب سے اسلام آباد ہائی کورٹ میں داخل کرائے گئے جواب سے صاف پتا چلتا ہے کہ مشکوک امریکی عورت کی جانب سے پیپلز پارٹی کی قیادت کو بد نام کرنے کے ایجنڈے کے پیچھے کون سے خفیہ ہاتھ کارفرما ہیں۔
