سنتھیا کو ڈی پورٹ کرنے کی درخواست پر حکومت کو نوٹس جاری

سنتھیا رچی کو ڈی پورٹ کرنے کی درخواست پر سماعت کرتے ہوئے اسلام آباد ہائیکورٹ نے حکومت اور وزارت داخلہ کو نوٹس جاری کر دیئے ہیں۔
اسلام آباد ہائیکورٹ میں جسٹس اطہر من اللہ نے امریکی صحافی سنتھیا رچی کو ڈی پورٹ کرنے کی درخواست پر کیس کی سماعت کی تھی جس پر دوران سماعت وکیل درخواست گزار نے کہا کہ سنتھیا رچی کے ویزا کی مدت ختم ہو چکی ہے جس پر چیف جسٹس نے سوال کیا کہ آپ کو کیسے معلوم کہ ویزے کی معیاد ختم ہو چکی ہے؟ اس پر وکیل درخواست گزار کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ سنتھیا رچی نے خود اس بات کا اعتراف ٹویٹر پر کیا ہے۔
تا ہم اپنا جواب جمع کرواتے ہوئے سنتھیا رچی کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ وہ کاروبار کر رہی ہیں اور اس کے علاوہ انہوں نے پیپلز پارٹی کی لیڈرشپ کے خلاف سوشل میڈیا پر بیانات دیے۔
تا ہم وکیل درخواست گزار اور سنتھیا رچی کے بیان کے بعد عدالت نے درخواست پر مختصر سماعت کے بعد وفاق، وزارت داخلہ، ایف آئی اے اور ایس ای سی پی کو نوٹس جاری کرتے ہوئے سماعت 3 جولائی تک ملتوی کردی ہے۔
واضح رہے کہ امریکی خاتون نے الزام عائد کیا تھا کہ رحمان ملک نے مجھے ویزے کیلئے بلایا، ان کے ڈرائیور نے مجھے بڑی گاڑی میں پک کیا۔ رحمان ملک نے مجھے گلدستہ دیا اور مشروب پلایا، مشروب پلانے کے بعد مجھے کچھ ہوش نہیں رہا، رحمان ملک نے مدہوش کرکے زیادتی کا نشانہ بنایا۔ واپسی پر اتنی مدہوش تھی کہ چلنا مشکل ہو رہا تھا۔ رحمان ملک نے مجھے گاڑی پر ڈراپ کروایا۔
ڈراپ کرنے والے ڈرائیور کو دو ہزار پاؤنڈ زبھی دیے۔ انہوں نے کہا کہ میں امریکی سفارتخانے کو بھی شکایت کی لیکن کوئی رسپانس نہیں ملا۔ انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف میں بھی میرے روابط ہیں، 10سال بعد بات کرنے کے اس لیے قابل ہوئی کہ آج پیپلزپارٹی اور ن لیگ میں روابط ہیں۔انہوں نے کہا کہ میں پچھلے دوسال سے پی ٹی ایم کے بارے ریسرچ کررہی ہوں،اس میں مجھے خفیہ اداروں نے سپورٹ بھی کیا، مجھے پی ٹی ایم اور پیپلزپارٹی کے درمیان تانے بانے ملے ہیں۔
تا ہم ان الزامات کے سلسلہ دیگر پیپلز پارٹی رہنماؤں پر بھی گیا تھا جس میں سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی، بینظر بھٹو اور مخدوم شہاب الدین کا نام بھی شامل کیا گیا تھا۔ ان الزمات کو پیپلز پارٹی رہنماؤں کی جانب سے مسترد کر دیا گیا تھا جس کے بعد سنتھیا رچی نے عدالت سے رجوع کیا تھا، تاہم اب اسلام آباد کی مقامی عدالت کے بعد اسلام آباد ہائیکورٹ نے بھی درخواست کو مسترد کر دیا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button