سندھ نے 3 اسپتالوں کو پلازما تھراپی کے ٹرائل کی اجازت

مارچ میں ملک کے پہلے کورونا وائرس مثبت مریض کی صحت یابی اور پیوس امیونائزیشن کے ذریعے تشویش ناک صورت حال میں موجود افراد کے علاج کےلیے ان کے پلازما کے عطیہ کے بعد حکومت سندھ نے صوبے کے 3 اسپتالوں کو اس کے ٹرائل کی اجازت دے دی۔
اس عمل کے بارے میں ماہرین کا خیال ہے کہ کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کے علاج میں یہ انقلابی ہوسکتا ہے۔
سندھ کے محکمہ صحت کی جانب سے جاری ایک نوٹیفکیشن میں کہا گیا کہ کراچی کے 2 اسپتالوں میں سے ایک سرکاری ڈاکٹر رتھ فاؤ سول اسپتال اور نجی شعبے کے نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف بلڈ ڈزیز (این آئی بی ڈی) کو اجازت دی گئی ہے جبکہ ایک حیدر آباد کے لیاقت یونیورسٹی اسپتال کو ’کورونا بیماری کی پیسو امیونائزیشن کے کونولیسسنٹ پلازما کے تجرباتی استعمال‘ کے لیے نامزد کیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ وفاقی حکومت نے اپریل کے پہلے ہفتے میں پلازما تھراپی کے کلینیکل ٹرائلز کی منظوری دی تھی۔
اس طریقے کا علاج دراصل این آئی بی ڈی کے ڈاکٹر طاہر شمسی نے پیش کیا تھا جنہوں نے کورونا وائرس کے مریضوں کی زندگیوں کو بچانے کے بیماری سے صحت یاب ہونے والے افراد کے خون میں موجود پلازما نکال کر بیماروں میں ڈالنے کا مطالبہ کیا تھا۔
محکمہ صحت سندھ کے نوٹیفکیشن میں کہا گیا کہ تینوں نامزد کیے گئے اسپتالوں میں ماہرین کی ایک ٹیم، جس میں ایک فزیشن، متعدی امراض کے ماہر، ایک انتہائی نگہداشت یونٹ کے ماہر، ایک کنسلٹنٹ ہیومیٹولوجسٹ، ٹرانسفیوژن ماہر اور سندھ بلڈ ٹرانسفیوژن اتھارٹی (ایس بی ٹی اے) کے نمائندے شامل ہوں گے۔
ڈاکٹر طاہر شمسی نے حکومت سندھ کے اس اقدام کا خیرمقدم کیا اور کہا کہ طے شدہ پروٹوکول اور طریقہ کار کے تحت وہ اور ان کی ٹیم پیسو امیونائزیشن کے کلینیکل ٹرائلز کرے گی جس کی تکمیل میں دو ماہ تک کا وقت لگے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ ’ہم آزمائشی عمل کے تحت کل 350 مریضوں کا علاج کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں، طے شدہ اصولوں اور پروٹوکول کے تحت، ہم سامنے آنے والے نتائج کے بارے میں ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی پاکستان (ڈریپ) کو اپ ڈیٹ کرتے رہیں گے‘۔ان کا کہنا تھا کہ ’ہر 10 مریضوں کے بعد حکام کو تازہ نتائج کے بارے میں بتایا جائے گا، سندھ میں ان تین مراکز کے ساتھ ساتھ ہمارے پاس ملک کے دیگر شہروں میں بھی مراکز موجود ہیں جہاں ہم ڈریپ سے منظوری کے بعد ٹرائلز کریں گے‘۔انہوں نے کہا کہ ’ہم اُمید کرتے ہیں کہ یہ کام دو ماہ میں مکمل ہوجائے گا‘۔
کورونا وائرس سے صحت یاب ہونے والے مریضوں سے پلازما جمع کرنے کے طریقہ کار کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ کوئی بھی کسی کو مجبور نہیں کرسکتا ہے اور اس کام کے لیے صرف ان لوگوں سے امید ہے جو قومی مفاد کے لیے خود رضاکارانہ طور پر اپنی خدمت پیش کرنا چاہتے ہیں‘۔ خیبر پختونخوا میں پیسو امیونائزیشن کمیٹی نے کورونا وائرس سے صحت یاب ہونے والے مریضوں سے نئے متاثرہ مریضوں کے علاج میں استعمال کے لیے پلازما اکٹھا کرنا شروع کردیا ہے۔کمیٹی کے ایک رکن نے بتایا کہ انہیں گزشتہ روز پہلا پلازما کا عطیہ موصول ہوا جو نئے مریضوں میں پلازما سینٹر کی ڈریپ سے منظوری کے بعد ٹرانسفیوز کیا جائے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ ڈریپ نے پہلے ہی انفرااسٹرکچر کی منظوری دے دی تھی ’اور امیونائزیشن سینٹر کی منظوری کا انتظار ہے جس کے بعد پروٹوکولز پر پورا اترنے والوں کو پلازما کی پیشکش کی جائے گی‘۔
