سندھ ہائی کورٹ نے فضائیہ ہاؤسنگ اسکیم کیس میں نیب اور بلڈرز کو نوٹس جاری کردیے

سندھ ہائیکورٹ نے قومی احتساب بیورو (نیب) اور بلڈرز کو فضائیہ ہاؤسنگ اسکیم کے متاثرین کو رقم تقسیم کرنے کے طریقہ کار کے خلاف درخواست پر نوٹسز جاری کردیے۔
متاثرین نے اپنے وکیل کے ذریعہ سندھ ہائی کورٹ کے سابقہ حکم کے خلاف عدالت سے رجوع کیا اور اس خدشے کا اظہار کیا کہ یہ رقم ان افراد کو بھی دی جاسکتی ہے جو منصوبے کے الاٹیز نہیں تھے۔ کیس کی سماعت مقرر کرتے ہوئے جسٹس عمر سیال کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے نیب اور بلڈرز کو 22 جولائی کے نوٹس جاری کردیے۔ عدالت نے نیب کو دعوے داروں کو بلا کر ان کی تصدیق کرنے کے عمل کو جاری رکھنے کی بھی ہدایت کی مگر خبردار بھی کیا کہ منسلک اکاؤنٹس سے آئندہ سماعت تک کوئی رقم جاری نہیں کی جائے گی۔
متاثرین کے وکلا کا کہنا تھا کہ 19 مئی کو سندھ ہائی کورٹ کے ایک ڈویژنل بینچ نے حکم جاری کیا تھا جس میں بلڈرز کو اس منصوبے کے الاٹیز کو معاوضہ دینے کے لیے چھ ماہ کی مہلت دی گئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ 11 جون کو سندھ ہائی کورٹ کے سنگل جج بینچ نے ایک مقدمہ میں حکم پاس کیا اور ہدایت کی کہ معاوضے کی رقم 15 دن میں جمع کرائی جائے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ سنگل بینچ آرڈر کو 19 جون کو سندھ ہائی کورٹ کے دو ججز کے بینچ نے پاکستان ایئر فورس (پی اے ایف) کے ڈائریکٹوریٹ آف اسٹیٹ پراجیکٹس اور بلڈرز کی دائر کردہ اپیل پر معطل کردیا گیا تھا۔
وکلا نے الزام لگایا کہ بلڈرز اور نیب نے 19 مئی کو دونوں فریقین کے درمیان غلط بیانی اور ملی بھگت کے ذریعہ الاٹیز کو نقصان پہنچانے کا حکم حاصل کیا ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ نیب اور بلڈرز کے درمیان مبینہ ملی بھگت کا اس بات سے اندازہ ہوتا ہے کہ 22 جون کو نیب نے اخباروں میں ایک اشتہار شائع کیا تھا جس میں اس عدالت کے احکامات کو غلط انداز میں پیش کیا گیا تھا اور الاٹیز سے دعوے طلب کیے گئے تھے۔ تاہم وکیل نے موقف اپنایا کہ ان منصوبوں کے الاٹیز کو نیب نے ان کے دعووں کے سلسلے میں نہیں بلایا تھا اور اس خدشے کا اظہار کیا کہ فضائیہ ہاؤسنگ اسکیم کے اکاؤنٹس سے رقم سندھ ہائی کورٹ کے متعدد احکامات کے پیش نظر ان کو دے دی جائے گی جو اس منصوبے کے الاٹیز نہیں تھے۔ بینچ نے حکم دیا کہ ’جب پہلی مرتبہ متعلہ کیسز سماعت کے لیے مقرر ہوجائیں تو فریقین کو 22 جولائی 2020 کے نوٹسز جاری کیا جائے، اس دوران نیب دعووں کو مدعو کرنے کا عمل جاری رکھے گا اور اس کی تصدیق کرے گا تاہم ان اکاؤنٹس سے کوئی بھی رقم آئندہ سماعت تک جاری نہیں کی جائے گی‘۔
واضح رہے کہ 19 مئی کو سندھ ہائیکورٹ نے پاک فضائیہ اور بلڈرز کو فضائیہ ہاؤسنگ اسکیم کے تمام معاملات کو طے کرنے اور میگا اراضی اسکینڈل کے تمام متاثرین کو 6 ماہ کے اندر رقم واپس کرنے کی اجازت دے دی۔
بلڈرز کو بری کرتے ہوئے سندھ ہائی کورٹ نے قومی احتساب بیورو (نیب) کے چیئرمین کو بھی ہدایت کی کہ وہ اس معاملے کی تحقیقات کو معطل کریں اور دونوں فریقین کو ان کے معاہدوں کو پورا کرنے میں مدد کریں، ساتھ ہی یہ یقینی بنائیں کہ تمام متاثرہ افراد کو مکمل ادائیگی کی جائے اور کم سے کم عرصے میں اس منصوبے کے دیگر تمام معاملات کو طے کرلیا جائے۔
11 جون کو سنگل جج بینچ نے سرکاری معاون کو ہدایت کی تھی کہ وہ متاثرین کے نام پر سندھ ہائی کورٹ کے احاطے میں موجود نجی بینک کی شاخ میں فوری طور پر متاثرین کے نام سے ایک بینک اکاؤنٹ کھولیں اور اس امیں تمام رقم جمع کرائی جائے اور تصدیق کے بعد متاثرین میں ادائیگی کے لیے اس اکاؤنٹ سے منتقل کیا جائے۔
عدالت نے سرکاری معاونین کو بھی فوری طور پر منصوبے کی زمین اور اثاثے منسلک کرنے کی ہدایت کی تھی۔
پی اے ایف کے ڈائریکٹوریٹ اور بلڈرز تنویر احمد اور میسرز میکسم پراپرٹیز کے بلال تنویر نے اپنے وکیل کے ذریعہ سندھ ہائی کورٹ کے ڈویژن بینچ کے سامنے سنگل جج کے حکم کو چیلنج کیا تھا اور 19 جون کو ڈویژنل بنچ نے سنگل جج بینچ کے حکم کو معطل کردیا تھا۔
میکسم پراپرٹیز نے فضائیہ ہاؤسنگ اسکیم کراچی بنانے کے لئے پی اے ایف ڈائریکٹوریٹ کے ساتھ مشترکہ منصوبے کا معاہدہ 2015 میں کیا تھا اور عوام کو پلاٹوں کے لئے درخواست دینے کا موقع دیا گیا تھا۔
ایسے پلاٹوں کے سلسلے میں لوگوں کی ایک بڑی تعداد نے خاطر خواہ رقم ادا کی تھی۔
اس سال جنوری میں نیب نے اسکیم میں سرمایہ کاری کے ذریعے عوام کو تقریبا 13 ارب روپے سے محروم کرنے کے الزام میں بلڈرز کو گرفتار کرلیا تھا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button